Sunday, 6 July 2014

DRUG ACT 1976, ANALYSICS BY MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT


DRUG ACT 1976, ANALYSICS BY MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT


میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم

پاکستان کی فارما سیوٹیکل انڈسٹری اِس وقت ایکسپورٹ کے حوالے سے بہت قیمتی زرِمبادلہ کما رہی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام بھی دُنیا کے بہت سے ملکوں میں اچھی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے پاکستانی قوم کو نہ تو علاج معالجے کی سہولتیں حاصل ہیں اور نہ ہی ادویات کی صورت میں اصلی دوا ملتی ہے شائد زرمبادلہ کی اہمیت کے پیشِ نظر اچھی اور درست فارمولے کی حامل ادویات کو بیرون ملک ایکسپورٹ کردیا جاتا ہے اور یوں پھر پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور جیسے سانحات جنم لیتے ہیں جہاں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اِس سانحے کی بابت ابھی تک سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیس زیرِ التوا ہیں حالانکہ سپریم کورٹ اِس کیس کے حوالے سے بھی ایکشن لے چکی ہے۔ادویات کی تیاری کے مراحل میں سب سے زیادہ اہم مرحلہ کسی بھی دوا کے لیے استعمال کیا جانے والا خام مال ہے۔ خام مال پاکستان میں تو دستیاب نہیں ہوتاضرورت کے مطابق اِس خام مال کو دُنیا کے دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ خام مال کی درآمد کے حوالے سے ذرا بھی لاپروائی قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ چند روز پیشتر ایک کلیرنگ ایجنٹ سے ملاقات ہوئی تو اُس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں ایک کمپنی بچوں کے لیے چاکلیٹ بناتی ہے اُس نے چاکلیٹ بنانے کے لیے جو خام مال بیرونِ ملک سے درآمد کیا ہے وہ زائدالمیعاد ہو چکا ہے اور جس کمپنی نے وہ درآمد کیا اُس کو کوئی بھی پوچھنے والا ہی نہیں کیونکہ نیچے سے لے کر اوپر تک تو رشوت اِس طرح سرایت کرچکی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قبر میں ایک حصہ خاص طور پر دولت کو بھی ساتھ دفنانے کے لیے تیار کروانے کا انتظام کروائے بیٹھے ہیں یہ رشوت خور موت کے سوداگر۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فارما انڈسٹری کا برآمدگی تخمینہ 19,556 metric ton ادویات ہیں جس کی مالیت 140ملین ڈالر ہے۔ یہ اعداد وشمار سن دو ہزار بارہ کے ہیں۔ اتنا قیمتی اور بھاری زرِمبادلہ کمانے والی انڈسٹری کے حوالے سے پاکستان میں مروجہ قانون جسے ڈرگ ایکٹ 1976کانام دیا گیا یا پھر طبی فارما کوپیا سے قوانین کی تشریح کے حوالے سے مدد لی جاتی ہے۔سیکشن سات کے سب سیکشن ایک کے مطابق ڈرگز کی رجسٹریشن کا کام وفاق کے پاس ہے اور وفاقی حکومت اس حوالے جو بھی قانون بنائے گی اُسکے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس مْقصد کے لیے وفاقی حکومت رجسٹریشن بورڈ بنائے گی اور اُس میں اہل افراد جن کی اِس حوالے سے اہلیت مسلمہ ہوگی کو ممبر مقرر کیا جائے گا۔ سیکشن سات سب سیکشن دو کے مطابق رجسٹریشن بورڈ کے ممبران بشمول انسپکٹر کے اختیارات جو بھی اُنھیں سونپے جائیں گے وہ استعمال کریں گے۔ سیکشن سات سب سیکشن تین کے مطابق رجسٹریشن بورڈ وفاقی حکومت کے سرکاری گزٹ میں نوٹیفکشن جاری کرنے کے بعد منظوری سے بورڈ کے معاملات کو چلانے کے لیے اپنے رولز ریگولیشن بنائے گا۔ سیکشن سا ت سب سیکشن چار کے مطابق رجسٹریشن بورڈ کا کوئی بھی ممبر اپنے دستخط کے ساتھ لکھ کر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوسکتا ہے یا کیا جاسکتاہے اگر یہ رائے ہو کہ ایسا کرنا عوامی مفاد میں ہے۔ سیکشن سات کے سب سیکشن پانچ کے ذیلی سب سیکشن چار کے مطابق رجسٹریشن بورڈ کا ممبر مخصوص عرصہ کے لیے اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ سیکشن سا ت کے سب سیکشن چھ کے مطابق وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفیکیشن کرکے کسی مخصوص تاریخ کے بعدکسی بھی دوائی کو ایکسپورٹ کرنے، امپورٹ کرنے، سٹور کرنے ، بناے تقسیم کرنے ،یا فروخت کرنے کی پابندی لگا سکتی ہے۔ سیکشن سا ت سب سیکشن سات کے مطابق اگر کوئی بھی شخص کسی بھی دوائی کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دیتا ہے تو اُسے اُس دوائی کی افادیت، کوالٹی کے معیار ، حفاظتی نقطہ نظر کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑے گاجو رجسٹریشن بورڈ کے رولز اور ریگولیشن کے مطابق ہوگا۔ سیکشن سا ت سب سیکشن آٹھ کے مطابق سنگل جُز کی حامل دوائی کو اُسکے جینیرک نام سے رجسٹرد کیا جائے گا۔جبکہ ایک زائد اجزاء کی حامل دوائی کو اُسکے مالکانہ نام سے رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ اس کے سب سیکشن اے کے مطابق سنگل جُز کی حامل دوا جو کہ ایک ایکٹو جُز کی حامل ہو گی اور سب سیکشن بی کے مطابق کمپونڈ ڈرگز کا مطلب جس میں ایک سے زائد ایکٹو اجزاء شامل ہوں گے۔سیکشن سا ت کے سب سیکشن نو کے مطابق کسی بھی دوائی کی رجسٹریشن اِس بنیاد پر ہوگی کہ اُس دوائی کی رجسٹریشن کی تمام شرائط کو پورا کیا گیا ہے۔سیکشن سات سب سیکشن دس کے مطابق جب بھی کسی بھی دوائی کو رجسٹرڈ کیا جائے گا تو جو شخصِ اس کی رجسٹریشن کی بابت درخواست دے رہا ہے اُس کے نام رجسٹرڈ ہوگی اور اِس حوالے سے صوبائی حکومت اپنی تما م شرائط کو مکمل کروائے گی یا مکمل کرے گی۔ سیکشن سا ت سب سیکشن گیارہ کے مطابق اگر رجسٹریشن بورڈ کو اطلاع ملتی ہے یا کسی انکوئری کے بعد پتہ چلتا ہے کہ (a)کہ دوائی کی رجسٹریشن فراڈ یا غلط بیانی کرکے حاصل کی گئی (b) یا جن حالات میں دوائی کی رجسڑیشن کے حوالے سے اجازت دی گئی تھی وہ حالات اب نہیں رہے۔ (c) یا اُن شرائط کی خلاف ورزی کی گئی جن شرائط کی بناء پر دوائی کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ (d)دوائی کی رجسٹریشن کو کینسل کرنا عوامی مفاد میں ہو۔رجسٹریشن بورڈ جس شخص کی درخواست پر دوائی رجسٹرڈ ہوئی تھی اُس دوائی کی رجسٹریشن کینسل کرنے یا کوئی بھی قانونی کاروئی کرنے سے پہلے اُس کو اپنی صفائی ثابت کرنے کے لیے شوکاز نوٹس کے ذریعے سے موقع فراہم کرئے گا۔ سیکشن سا ت سب سیکشن بارہ کے مطابق صوبائی حکومت اِس حوالے سے تما م قانونی اقدامات کرئے گی اُس دوائی کی تیاری کے حوالے سے یا اُس کو فروخت کرنے کے حوالے سے ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگارمیاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ گزشتہ دو دہائیوں سے عمرانی سماجی قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں مصطفائی جسٹس فورم کے چےئرمیں ہیں اور TxDLA OF AMERICA کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔

No comments:

Post a Comment