Sunday, 6 July 2014

اِسلام کے فو جداری قانون کے مطابقِ ۔ سیکشن 4 حدود آرڈیننس 1979کے تحت چوری کی سزا

اِسلام کے فو جداری قانون کے مطابقِ ۔ سیکشن 4 حدود آرڈیننس 1979کے تحت چوری کی سزا

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

اسلامی نظام زندگی میں انسانی افعال کے نتیجے میں جو جرائم وضع ہو سکتے ہیں وہ بالاخر انہی تین باتوں میں آتے ہیں ۔ (۱)۔ حدود (۲)۔ قصاص و دیت (۳)۔ تعزیرات میں شامل کیے جاتے ہیں ۔ ان میں سے حدود تو طے شدہ ہیں ۔ قصاص اور دیت بھی چند مخصوص موضوعات سے عبارت ہیں لیکن تعزیرات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ قتل کی سزا جاری کرنے کے لیے کچھ شرائط ہیں ۔ کچھ دوسرے ضمنی پہلو ۔کیونکہ اس فعل کا نتیجہ ایک ہی ہے جو ایک انسانی جان کا اِ تلاف ہے۔ قصاص و دیت کے معاملے میں بھی یہی ہے لیکن جہاں تک تعزیرات کا تعلق ہے تو جرائم اور انسانی افعال سینکڑوں ہزاروں سے بھی بڑھ سکتے ہیں ۔ حکومتی خزانہ سے غبن، بدزبانی ، فرائض منصبی ادا کرنے میں کوتاہی، بیت المال کا دید و دانستہ کا غلط اِستمعال ، جعلی سِکوں اور نوٹوں کا اجراء ، جنگلی حیات کو خلاف قانون ختم کرنا ، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور صحت و صفائی اور ماحول سے متعلق بہت افعال ایسے ہیں۔ جن کے بارے میں قران و سنت نے قانون سازی کی اجازت دی ہے۔ اور ان امور میں ریاست کو یہ اختیا ر تفویض کیے ہیں کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق قانون سازی کرئے۔ اِس لیے تعزیری سزائیں بہت سی ہو سکتی ہیں۔ اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ پاک نے فی الحقیقت بہت سے تھوڑے امور میں سزائیں مقرر کی ہیں جو انگلیوں پر گنی جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاتعداد امور میں قرآن و سنت نے امام کو یہ اختیار دیا کہ وہ قرآن و سنت کے مجموعی احکام کی روشنی میں خود فیصلہ کرے۔ امام کے اِس فیصلے پر قرآن و سنت نے بعض تحریری احکام لاگو کیے ہیں مثلاٌ نحل ((19-16 اللہ پاک تمہیں عدل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح فرمایا شوری (38-42) اور اِن مسلمانوں کے معاملات باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔ ان امور میں اللہ کی یہ اصولی رہنمائی ہے۔ سربراہ مملکت کے جاری کردہ قوانین ، احکام اور فیصلے عدل سے خالی ہوں تو یہ صوابدیدی اختیارات کا غلط استمعال ہے جس کے لیے اللہ کا فرمان ہے ( مائدہ 45-5 ) اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں سیکشن 4 آرڈینینس 1979 کے مطابق شرعی نقطہ نظر سے چوری کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(۱) ایسی چوری جس پر حد جاری ہوتی ہے۔ (۲) ایسی چوری جس پر تعزیر لگتی ہو۔
سیکشن 5 حدود آرڈینینٗس 1979 کے مطابق ایسی چوری جس پر حد جاری ہوتی ہو وہ چوری ہوتی ہے جس میں حرز کو توڑ کر جائیداد جس کی قدر نصاب کے تحت 4457 گرام سونے کے برابر ہو، چوری کیا ہو۔ حرز سے مراد وہ انتظامات یا حصار ہے جو جائیداد وغیرہ کی حفاظت کے لیے کیے گئے ہوں۔ اس سیکشن میں پراپرٹی سٹولن سے مراد اعتماد کا خاتمہ یا جائیداد وغیرہ خردُ برد شامل نہیں ہے۔ اس سیکشن 5 حدود آرڈینینّس 1979 کے مطابق surreptitiously سے مراد یہ ہے کہ چوری کرنے والے کو یقین ہو وہ جس شخص کی جائیداد وغیرہ چوری کر رہا ہے اسے علم نہ ہو کہ وہ اس کی چیزیں چوری کر رہا ہے۔ دن کے وقت چوری کرنے کے لیے یہ ہے یا تو سورج غروب ہونے سے دو گھنٹے پہلے کی ہو یا سورج طلوع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے کی ہو۔ اگر جو جائیداد ایک حرز میں سے چوری کی گئی ہے وہ ایک سے زائد بار کی گئی ہے۔ لیکن جتنی دفعہ کی گئی ہے ہر بار اگر اس کی قدر نصاب یعنی 4457 گرام سونے سے کم ہے تو پھر حد جاری نہیں ہوگی۔ بے شک باری باری چوری کرکے اسی حرز میں سے مقدار جائیداد نصاب کے برابر بھی ہو جائے گی تب بھی حد جاری نہیں ہوگی کیوں کہ اس کی قدتر ایک مرتبہ نصاب کی Limit کے مطابق نہ تھی ۔ مثال کے طور پر ایک شخص مسٹر A کسی شخص کے گھر داخل ہوتا ہے اور مختلف کمروں میں سے چوری کرتا ہے۔ اور چوری شدہ اشیاء کی مالیت نصاب کے برابر یا زیادہ ہو جاتی ہے تو اس پر حد جاری ہوجائے گی۔ گھر کے مختلف کمروں میں مختلف خاندان رہتے ہیں تو پھر اگر مسٹر A جو اشیاء چوری کرتا ہے اس سب کی قدر نصاب کے برابر یا نصاب سے زیادہ ہو جاتی ہے لیکن اس پر حد جاری نہ ہو گی۔ کیونکہ یہ نصاب کی حد transaction کے دوران ہوتی ہے کیونکہ اشیاء کے مالک مختلف ہیں۔ یہ چوری singel transaction کے تحت نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح اگر ایک شخص ایک گھر میں کئی دفعہ چوری کے لیے داخل ہوتا ہے اور مجموعی طور پر چوری شدہ اشیاء کی مالیت نصاب کے برابر یا زائد بھی ہو جاتی ہے لیکن حد جاری نہ ہو گی کیونکہ یہ ایک Transaction میں نہیں بلکہ کئی مرتبہ کرنے سے سامان کی قدر نصاب کی حد تک پہنچی ہے۔ 2004YLR1592کے مطابق حد جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گواہان تزکیتہ الاشہود پر پورے اُترتے ہوں اس میں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ملزم گواہان کی اہلیت کو چیلنج کرتا ہے یا نہیں اس مقصد کے لیے عدالت کا فرض ہے کہ کھلی یا مخفی چھان بین کروائے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ بات زیادہ بہتر ہے کہ جس شخص کے کردار کی بابت پتہ چلانا ہو تو اْس شخص کے ارد گرد یا اْسی کلاس آف سوسائٹی میں رہائش پزیر شخص سے گواہی مانگنی چاہیئے جو اْس کے بود و باش کے متعلق آگاہی رکھتا ہو۔ جس شخص کو ملزم کی گواہی کے لیے مقرر کیا جائے تو عدالت کو یہ بات یقینی بنانی چاہیئے کہ وہ شخص قابل اعتماد اور معاشرے میں اچھی شہرت کا حامل ہو۔ اور وہ شخص گواہی دینے کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔ ضروری نہیں کہ گواہان کی شہرت نیک نامی کی بابت کھلی یا مخفی طریقے سے چھان بین کروائی جائے اصل بات یہ ہے کہ عدالت اس بات پر مطمن ہو کہ گواہی دینے والا شخص تزکیتہ الاشہود کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ سیکشن 7 آرڈینینس 1979 کے مطابق (۱) جس پر چوری کی حد کی سزا جاری کی جاتی ہے اْس چوری کا جرم کرنے والا شخص حد کی سزا کے زمرے میں آتا ہو۔ (۲) اور کم ازکم دو ایسے گواہان گواہی دیں جو کہ تزکتہ الاشہود کے معیار پر پورے اترتے ہوں یعنی اْن گواہان سے کوئی کبیرہ گناہ سرزد نہ ہو ا ہو۔ اور وہ گواہان بطور چشم دید گواہ گواہی دیں۔ اگر ملزم غیر مسلم ہو تو چشم دید گواہ بھی غیر مسلم ہوں سکتے ہیں ۔ یہ امر بھی ضروری ہے کہ چوری کے ملزم کا بیان گواہان کے بیان سے پہلے ریکارڈ کیا جائے۔ PLJ2007FSC5 کے ایک فیصلہ مطابق حدود آرڈینینس کے سیکشن 7 کے مطابق proof نہیں ہیں۔ ملزم کلاز (A) کے مطابق ملزم کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی سیکشن 7 کے کلاز کے مطابق گواہان کے تزکیتہ الاشہود والی شرائط کو پورا گیا ہے۔ ملزم / درخواست گزار سیکشن 17(4) آرڈینس کے تحت مجرم نہیں ہے۔ تاہم یہ بات ہر طرح کے شک سے بالا تر ہے کہ ڈرائیور B کا قتل تعزیرات پاکستان دفعہ 302-B کے زمرے میں آتا ہے ۔ جیسا کہ شہادتوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ٹیکسی اور مقتو ل کی ددیگر اشیاء د رخواست گزار یعنی ملزم سے برآمد ہوئی ہے۔ اور اس لیے ملزم A قتل عمد کا مرتکب ہوا ۔ یہ پی پی سی کے سیکشن 392 کے تحت بھی سزا وار ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک فیصلے PLJ 2008 FSC 27 کے مطابق اس مقدمے میں متاثرہ فریق ایک بنک ہے جو کہ ایک Artificial Person ہے ۔ یہ کہ وہ حقیقی شخص نہ ہے۔ کیونکہ متاثرہ فریق انسان نہ ہے اس لیے شہادت اْس کے کسی ایجنٹ یا نمائندے سے لے سکتے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بنک کے ملازمین کی شہادت شرعی طور پر Inadmissble ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی پاکﷺ کے دور میں fictitious legal entities نہ تھیں اور مالک اور ملازم کا رشتہ صر ف Natural person کے درمیان Exist کرتا تھا اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے تو پھر تمام ڈاکووں اور چوروں کو بنکوں کو لوٹنے کے لیے کھلی چھٹی دے دی جائے گی ۔ اور وہ بغیر کسی خوف و ڈر کے بنکوں کا صفایا کردیں گے ۔ اور پھر کوئی بنک بھی قائم نہ رہ سکے گا ۔ قانون شہادت آرڈینس 1984 اس طرح کی مستسنیات کو نہیں مانتا ۔ قانون شہادت کے مطابق تمام لوگ گواہی دینے کے مجاز ہیں جب تک کہ قانون نے انہیں نہ روکا ہو۔ اس لیے کوئی بھی ایسی قانونی Disability اس امر پر لگائی جا سکتی کہ کوئی ملازم یا کوئی نوکر اپنے مالک کے معاملے میں گواہی نہیں دے سکتا ۔ایڈیشنل سیشن جج نے جو انکوائر ی کی وہ فقط ایک دیکھاوا تھا PW-1 جس نے مختلف مواقع پر جھوٹ بولا ا ور وہ اُن کے نزدیک معتبر تھا۔ اور pw-2 نے نہ کبھی جھوٹ بولا اور pw-3 جس نے کبھی بھی Prayer نہیں مانگی وہ بھی ٹھیک ہے جس طرح کہ pw-1 ہے۔ حدود آرڈینس 1979 کے سیکشن 7 کے مطابق یہ صریحا تزکیتہ الاشہود کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار کے خلاف شہادتیں تعزیر قانون کے زمرے میں آتی ہیں ۔ درخواست گزار کے موقف کو ردا کیا جاتا ہے۔ اور وہ پی پی سی کے سیکشن 394 کے تحت مجرم قرار پاتے ہیں۔ سیکشن 9 حدود آرڈینینس کے مطابق چوری کی سزا یہ ہے اگر کوئی بھی شخص چوری کرتا ہے اور اس پر حد جاری ہوتی ہے تو پہلی مرتبہ اْسکا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹ دیا جائے گا۔ دوسری مرتبہ چوری کرنے کرنے کی بناء پر اگر حد جاری ہوتی ہے تو پھر اْسکا دایاں پاؤں ٹخنے تک کاٹ دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص تیسری مرتبہ چوری کرتا ہے یا اس سے زائد مرتبہ اس جرم یعنی چوری کا مرتکب ہوتا ہے اور اس پر حد جاری ہوتی ہے تو پھر اْس کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ چوری کرنے کی صورت میں ملزم کو عام قید میں رکھا جائے گا تاوقتیکہ اْس کا جرم ثابت نہ ہو جائے اور اْس پر عمل درآمد نہ ہو جائے ۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو عمر قید کی سزا تیسری مرتبہ چوری کرنے کی بناء پر دی گئی ہے تو پھر اپیلٹ کورٹ اس امر پر مطمن ہو جاتی ہے کہ مجرم کو اپنے کیے پر پچھتاواہ ہے تو پھر عدالت ضروری اقدامات کرتے ہوئے مجرم کو رہا کر سکتی ہے۔ ہاتھ یا پاؤں کاٹنے کی سزا منظور شدہ میڈ یکل آفیسر کے ذریعے ہی دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سیکشن 9 کے سب سیکشن 7 کے تحت اگر ہاتھ پاوءں کاٹنے کے وقت میڈکل آفیسر اگر یہ رائے ظاہر کرتا ہے کہ اْس کے جسم کا عضو کاٹا گیا تو ہو سکتا ہے کہ مجرم کی موت واقع ہو جائے تو پھر اْس وقت تک کہ میڈیکل آفیسر صحت کی بابت مطمن نہ ہو جائے۔ سیکشن 10 حدود آرڈینس 1979 کے تحت کچھ کیسیز ایسے بھی ہیں جن پر حد لاگو نہیں ہوتی ۔
(-(a جہاں ملزم اور متاثرہ شخص کا تعلق آپس میں (۱) میاں بیوی یا بیوی میاں کا ہو۔ (۲) نانا دادا کے خاندان سے نیچے یا اوپر ۔ (۳)۔ نانا یا دادا کے خاندان سے تعلق / رشتہ داری ہو۔ (۴)۔ ماں یا باپ کا بھائی یا بہن (۵)۔ بھائی یا بہن اْنکے بچے ۔ (b)اگر کوئی مہمان اپنے میزبان کے گھر سے چوری کرنے کا مرتکب ہوا ہو۔
(-(cجب کسی نوکر یا ملازم کی طرف سے چوری ہونا ثابت ہوا ہو اور اْس ملازم یا نوکر کو اپنے مالک کے حرز تک رسائی ہو۔ اِس کیس میں بھی حد نافذ نہ ہو گی۔ d) -( جب چوری شدہ اشیاء جنگلی گھاس ، مچھلی ، پرندہ، کتا، سور، نشہ آور اشیاء کی چوری کی بناء پر بھی حد لاگو نہ ہو گی۔ f))-جب مجرم نے جس چیز کو چوری کیا ہو اور اْس مجرم کا اْس شئے میں حصہ ہو یا مالک ہو تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ اْسکا حصہ نکالنے کے بعد مذکورہ شئے کا نصاب کے مقدار پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔ اگر شئے کی مالیت نصاب سے کم ہو تو پھر حد نافذ نہ ہو گی۔
جب کوئی قرض خواہ شخص اپنے مقروض شخص کی اشیاء چوری کرلیتا ہے۔ اور وہ اشیاء میں سے اپنے قرضے کی رقم نکال دے تو باقی رقم نصاب سے کم ہو تو پھر بھی حد نافذ نہ ہو گی۔ -(g) جب مجرم نے اکرہ یا ازطرار میں جرم کیا ہو۔ حد نافذ نہ ہو گی۔ (۱)۔ اکراہ سے مراد کسی شخص کو زخمی یا عزت خراب کرنے کی دھمکی سے چوری کرنا(۲)۔ ازطرار سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ چوری نہ کرتا تو بھوک یا پیاس سے مر جاتا۔
-(h) اگر ملزم اپنے کیے پر پچھتاوہ کرتے ہوئے اشیاء متاثرہ شخص کو واپس کرکے خود کو متعلقہ احکام کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر بھی حد نافذ نہ ہو گی۔ اگر ہم اسلامی سزائیں جو چوری کے جرم میں دی جاتی ہیں اِس کا جائزہ لیں تو سماجی طور پر دیکھیں تو معاشرہے کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے لیے اور طاقتور کو کمزور کے ظلم سے بچانے کے لیے سزا کا ایسا نظام مقرر فرما دیا گیا جرم کرنے والے کو قرارِ واقعی سزا دی جائے جس سے پورا معاشرہ سبق حاصل کرے۔ جب جرم کرنے والے مجرم کو یہ پتہ ہو گا کہ اْس کو اسلامی طریقے کے مطابق مثالی سزا ہو گی تو پھر وہ جرم کرنے سے پہلے ہزار با ر سوچے گا۔ چوری کرنے کی وجہ سے جو معاشرتی ، معاشی، اور عمرانی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور جس کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے اْسکی نفسیات اِس طرح کی ہو جاتی ہے کہ وہ محسوس کرتاا ہے کہ اْس کا تو کوئی والی وارث نہیں ۔ دین ا سلام نے اِس لیے قرار واقعی سزائیں رکھی ہیں کہ پوری سوسائٹی کو نصیحت ہو کہ جرم کرکے بچا نہیں جا سکتا ۔ دوسرا اہم پہلو چوری کی سزا میں یہ کہ جو شخص جتنا اْن اشیاء کے قریب ہے جو کہ چوری ہو سکتی ہیں اْس پر حد جاری ہونے کے حوالے سے اتنی ہی چھوٹ ہے۔ بھوکے ، پیاسے کے لیے بھی حد نہ ہے۔ دین اسلام فطرتی مقاصد کی نگہبانی کے لیے ہے۔ جو شئے بھی فطرت کے تقاضوں سے ٹکرا سکتی ہے۔ ہمارا دین اْسکی نفی کرتا ہے۔ ایسے افراد جو کسی کو گزندپہنچاتے ہیں ۔ چوری کرکے کسی کو اْسکی زندگی بھر کی پونجی سے محروم کر دیتے ہیں ۔ ایسے افراد کسی بھی رعائت کے مستحق نہیں۔ یہ لوگ معاشرے کے نظام کو درہم برہم کرتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں اور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔

No comments:

Post a Comment