Saturday, 12 July 2014

امریکی ہلاشیری فلسطینیوں کی خون ریزی






امریکی ہلاشیری فلسطینیوں کی خون ریزی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

        
 امریکی آشیر آباد کے ساتھ قائم یہودی ریاست جس طرح فلسطینی مسلمانوں کو گاجروں مولیوں کی طرح کاٹ رہی ہے اُس سے یہ بات عیاں ہے کہ یہ اسرائیلی ریاست اللہ پاک کے ایک عذاب کے طور پر مسلمانو ں پر ستم ڈھارہی ہے ورنہ تعداد میں اتنا زیادہ ہونے کے باوجود مسلم اُمہ جس طرح پٹِ رہی ہے یہ سب کچھ اچھنبے کی بات معلوم ہوتی ہے۔حالیہ اسرائیلی دہشت گردی نے جو خون کا بازار گرم کر رکھا ہے اِس کی مثا ل موجودہ نام نہاد مہذب اور آزادی رائے کے حامل دور میں نہیں مل سکتی۔عراق ،مصر، لیبیا، شام کشمیر کو تہہ وبالا کیے جانے پر خاموش مسلم ممالک نے اسرائیلی گماشتوں کی بربریت پربھی امریکہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ فلسطینیوں پر ڈھایا جانے والا ظلم
کوئی نئی بات نہیں عرب ممالک کی خاموشی یا بُزدلی نے اسرائیل کو اِس حد تک شہہ دئے رکھی ہے کہ جب اُس کا جی چاہتا ہے بچوں بوڑھوں عورتوں کا لحاط کیے بغیر خون کی ندیا ں بہا دیتا ہے۔مسلم ممالک کا صرف ایک ہی کام ہے کہ میڈیا پر مذمتی بیان دئے دیتے ہیں۔ اور اس مذمتی بیاں کی کوئی اہمیت نہیں بن پاتی ۔ اہمیت تو تب بنے جب بیان دینے والا طاقتور ہو یا اتحاد و اتفاق کا حامل ہو۔رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں جس طرح معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے یہ سب کچھ مسلمانوں کی نااتفاقی کے سبب ہے۔قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی تو دور کی بات ہے فلسطینی باشندوں کے خون کی ارزانی کا عالم یہ ہے کہ اسرائیل بغیر کسی روک ٹوک کے بمباری کرکے لہو کی ندیاں بہا رہا ہے ۔ پوری دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ کا کردار ہمیشہ کی طرح منافقانہ ہے۔امریکہ نہ تو مسلمانوں کا دوست ہے اور نہ ہی وہ کسی طور مسلمانوں کی کسی فورم پر حمایت کرتا ہے۔رب پاک کی رسی کومضبوطی سے نہ تھامے رکھنے کی وجہ سے مسلم قومیت اور مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔پوری دنیا میں مسلمانوں کی رسوائی کی بڑی وجہ رب پاک پر یقین کی کمی اورآپس میں نا اتفاقی ہے۔ پوری دنیا کے تھینک ٹینکوں کا ہدف صرف مسلمانوں کی بربادی و تباہی ہے۔ عربوں کا معاشی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے کوشاں نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عرب حکمرانوں کو مسلمانوں کے دُکھ تکلیف کا احساس نہیں ہے۔امریکہ دراصل اب ایران اور سعودی عرب کوآمنے سامنے لانے چاہتا ہے تاکہ مسلمانوں کی جو تھوڑی بہت ہمت ہے اُس کو بھی خاک میں ملایا جاسکے۔ٖغزہ میں اسرائیلی فوجی جس طرح چھوٹے چھوٹے بچوں پر ستم ڈھار ہیں اگر بین الاقوامی حالات و واقعات کو فلسطینی معصوموں کی شہادت کے سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو راقم کے خیال میں اِس بدترین دہشت گردی پر ایران اور سعودی عرب کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہونا چاہے۔مسلمانوں میں منافرت کو ہوا دینے کے لیے امریکی سازشیں اِس وقت عروج پر ہیں۔ اِس لیے امریکی کردار اِس حوالے سے انتہائی بھیانک ہے۔ عراق میں مزارارت مساجد کی تباہی گرجا گھروں کی مسماری جو نیا نام نہاد جہادی گرو ہ اسلام کے نام پر کر رہا ہے وہ مکمل طور پر امریکہ کی جانب سے پلانٹیڈ ہے جیسے القاعدہ کا شوشا چھوڑا گیا تھا اِسی طرح یہ گروہ عیشیش وغیرہ کے نام پر کام کر رہا ہے جو ا صل میں فرقہ ورایت کو ہوا دئے کر مسلمانوں کی تباہی کے کام کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔سوئے رہو مسلمانوں کیونکہ اِس کے علاوہ تم کچھ بھی کر سکتے۔




No comments:

Post a Comment