Sunday, 6 July 2014

صاحبزادہ حاجی فضل کریمؒ اتحادِ امت کے داعی


        صاحبزادہ حاجی فضل کریمؒ اتحادِ امت کے داعی

میاں اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

چےئرمیں مصطفائی جسٹس فورم

ashrafasmi92@gmail.com

1988کے موسم گرما گرم کی ایک دوپہر راقم اور جناب جاوید مصطفائی انقلابی سوچ سے اپنے دلوں کو گرم و تازہ کیے ہوئے انقلاب ِ مصطفیٰ کریم ؐ کی منزل کے سنہرے سپنے آنکھوں میں سجائے شدید تپتی سڑک پر نماز ظہر ادا کر رہے تھے۔ یہ اہلِ سنت والجماعت کا ایک اجتماع و جلوس تھا جس میں طاہر القادری ، علامہ احمد علی قصوری خطاب فرما رہے تھے۔ اِس موقع پر پہلی مرتبہ صاحبزادہ فضل کریم بھی ایک ٹرک پر سوار انتہائی جوشیلے انداز میں تقریر فرما رہے تھے۔ اکثر بزرگوں کی محافل میں بیٹھنے اور انجمن طلبہ اسلام کے ساتھ منسلک ہونے کی بناہ پر قوم کا درد رکھنے والے صحیح العقیدہ مسلمان دانشوروں اور رہنماؤں کے حوالے سے ہمیشہ عزت اور احترام کا پہلو ملحوط خاطر رکھنا گویا ہماری تربیت کا ایک خاصہ ہے۔ صاحبزادہ صاحب میدان سیاست میں کود پڑے تھے اور الیکشن میں حصہ لیا۔ چونکہ صاحبزادہ حاجی فضل کریمؒ صاحب ایک عظیم روحانی شخصیت جناب مولانا سردار محمد ؒ کے کے بیٹے تھے اِس لیے علمی و روحانی حلقوں میں اُن کو انتہائی عزت وتکریم کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ دُنیا معاملات میں ہر کسی سوچ کا اپنا انداز ہوا کرتا ہے لیکن نبی پاک ﷺ کی محب اقر نبی پاک کی شان کے حوالے سے جناب حاجی صاحب ابوجہل کے پیروکاروں کے لیے ننگی تلوار تھے قومی اسمبلی اور بنجاب اسمبلی کا ایوان اِس بات کا گواہ ہے کہ حاجی صاحب نے نبی پاک ﷺ کی عزت وحرمت کے حوالے سے ہمیشہ اپنا وہی موقف رکھا جو موقف جناب بلال حبشیؓ،جناب اویس قرنیؓ کا تھا۔ اِس لیے جب ملک میں نام نہاد دہشت گردی کے نام پر جنگ شروع ہوئی تو حاجی صاحبؒ نے پنا موقف پوری طرح واضع فرمادیا اور پاک فوج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ۔ اس حوالے سے کراچی، لاہور ، گوجرنوالا، فیصل آباد میں بہت بڑی ریلیوں سے خطاب کیا اور ملک بھر میں حلسے منعقد کیے۔ جب آپ شہباز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں وزیر مذہبی امورو اوقاف بنے تو یہ وہ دور تھا جب آپ نے دیانت ایمان داری کے ساتھ وازرت کی ذمہ داریاں نبھائی۔ اِسی دور مین راقم کے انسٹی ٹیوٹ شادمان لاہور میں آپ کے بڑے سے چھوٹے بیٹے راقم کے ہاں طالب علم رہے۔ حاجی صاحب نے سواد اعظم اہلسنت کے اتحاد کے لیے سُنی اتحاد کونسل کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں آپ نے طوفانی دورے کیے۔ سُنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے آپ کو عوام میں بہت پذیرائی ملی۔ آپ نے اِسی فورم سے خود کش حملے کو حرام قراردینے کا فتویٰ جاری کروایا۔ آپ کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی بہت زیادہ اہمیت ملی اور سُنی اتحاد کونسل کے حوالے سے عوام کے اندر اپنے خیالات کو پہنچایا۔ سُنی اتحاد کونسل میں آپ کو حاجی محمد حنیف طیب ، نواز کھرل، معین الحق علوی، پیر اطہرالقادری، کا بھر پور اور فعال تعاون پیش پیش رہا۔دیگر سنی جماعتوں کی جانب سے آپ کو حقیقی معنوں مین قائد اور سرپرست بنایا گیا۔ اِسی طرح انجمن طلبہ ء اسلام کے کارکنان نے آپ کی آواز پر ہمیشہ لبیک کہا۔ایک بات جس نے ہمیشہ وفائشعاروں کو تکلیف دی ہے وہ مفاد کے حامل رفقاء کی طرف سے تکلیف پہنچانا۔ ایسا ہی سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے کچھ احباب نے کیا جس کو صاحبزادہ صاحب ؒ کو شدید دکھ پہنچا اِس حوالے سے مجھ سے مشاورت گھی کی گئی کہ ہم امریکی سفارت خانے کو لیگا نوٹس دیں گے۔صاحبزادہ صاحب کی شریف فیملی کے ساتھ سیاسی رفاقت آخر حرمتِ رسولؒ کے حوالے سے فیصل آباد میں ایک ریلی پر فائرنگ اور میلاد مصطفے کے جلسے میں ایک سیاسی شخصیت کی مداخلت کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔ یوں اُسی سیاسی شخصیت نے سُنی اتحاد کونسل کو بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن بوجوہ وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ پاکستانی سیاست میں خلوص، وفا، محبت، سچائی، ایمانداری وفاداری جسے الفاظ اجنبی ہیں اِس لیے اِس معاشرے میں سیاست میں حصہ لینا وہ بھی نیک اور شریف لوگوں کا ایسے ہی ہے جیسے تیز دھار کی تلوار پر ننگے پاؤں چلا جائے۔ حاجی صاحبؒ کو بھی اِسی طرح کے حالات سے واسطہ پڑا۔ زمانے کے انداز اپنے ہی ہوا کرتے ہیں لیکن جیسے ہی باہمت لوگ اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو پھر وہ اپنا راستہ خود ہی بنا لیتے ہیں میاں خالد حبیب الھی صاحب کی بیٹیوں کی شادی میں جب راقم نے اُن سے تنظیمی حوالے سے بات کی تو فرمانے لگے کچھ احباب کہت ہین کہ میں اختیار کروں کیا میں پھر سنی اتحاد کونسل کے ساتھ دھوکہ کرلوں؟ انھوں نے باور کروایا کہ وہ دہشت گردی اور نظامِ مصطفے ﷺ کی عملی نفاذ کے موقف میں لچک نہیں لائیں گے۔
حاجی صاحب کی عوامِ ا ہلسنت میں پذیرائی نے بہت سے اپنوں اور غیروں کو تکلیف مبتلا کررکھا تھا ۔ لیکن حاجی صاحبؒ ایک محبِ وطن پاکستانی اور سچے عاشقِ رسولﷺ تھے انھوں نے جُھکنا سیکھا ہی نہیں تھا اُن کا جھکنا تو صرف رب پاک کے لیے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؂
مضمون نگار میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی قانونی معاشی اور تصوف کے موضوعات پر لکھتے ہیں قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت میاں وڈا صاحبؒ کے خانوادے سے تعلق ہے۔آپ ایم ایس سی معاشیات، ایم ایس سی ایجوکیشن، ایم بی اے فنانس،ایل ایل بی،ایل ایل ایم, اے سی ایم اے (P)I- ڈپلومہ ان اسلامک لاء ، ڈپلومہ ان انفارمیشن ٹیکنالوجی،ڈپلومہ ان بینکنگ کے حامل ہیں۔اور Txdla آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔انسانی حقوق کی عا لمگیر تنظیم انسانی حقوق فرنٹ کے چئیرمین ہیں۔ مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں ۔المصطفیٰ ویلفیر سوسائٹی لاہور کے رکن ہیں۔ درس میاں وڈا صاحبؒ لاہور کے حکومتِ پنجاب کی جانب سے چئیرمین ہیں۔ آپ پروفیشنل تعلیم کے حامل کوجینٹ انسٹی ٹیوٹ لاہور کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہو ر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ہیں۔قانون کے طالبعلموں اور وکلاء کے لیے ایک تصنیف RULE OF LAW کے مصنف ہیں۔
Back to Conversion Tool

No comments:

Post a Comment