Tuesday, 8 July 2014

AFTAB TABI, JAMIA SCHOOL SARGODHA & RESPECTED HUSSAIN AHMAD BHATTI SB...........ARTICLE BY ASHRAF ASMI ADVOCATE


آفتاب احمد تابی، جامعہ سکول سرگودہا اور اُستادِ محترم حسین احمد بھٹی


تین عشروں کے بعد جب جناب آفتاب احمدد تابی کی رس گھولتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی تو گویا وقت کو پر لگ گئے اور میں کلاس ششم کا طالب علم بنا گورنمنٹ جامعہ ہائی سکول سرگودہا میں اسلم صاحب کی کلاس میں انگریزی کا پریڈ پڑھ رہا ہوں اور اسلم صاحب اپنی گرجدار آواز میں ہر بچے سے سبق سُننے کا حکم فرمارہے ہیں اور کچھ دیر کے بعد جب پریڈ خرم ہوتا ہے تو آفتاب تابی اپنی تمام تر انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ کلاس کو خاموش رہنے کا پابند کر رہا ہے۔چند دن پہلے بچپن کے دوست اور جامعہ سکول سرگودھا کے میرے کلاس آفتاب احمد تابی کی آوازفون پر سُنی۔گویا زندگی کوایک نئی روشنی لگئی۔1979میں راقم نے جب چھٹی جماعت میں گورنمنٹ جامعہ ہائی سکول سرگودہا میں داخل لیا تو آفتاب احمدتابی ہمارا کلاس مانیٹر تھا ۔ہما ری کلاس کے انچارج جنا ب محترم اسلم صاحب تھے ۔اُس وقت سکول 86-A سیٹلائٹ ٹاون سرگودھا میں ایک کرایہ کی عما رت میں قائم تھا جب ہم ساتوں جما عت میں پہنچے تو جا معہ سکول سرگودھا کو موجودہ جگہ شفٹ کردیا گیا اس مقصد کے لیے نئی عما رت تعمیرکی گئی تھی ۔یہ وہ زما نہ تھا جب سرکا ری سکولوں کی حالت بہت اچھی تھی ۔اساتذہ اکرام بچوں کو اس طرح پڑھاتے کہ جیسے واقعی ہی عبا دت میں مصروف ہوں۔یہ وہ دور تھا ۔جب معاشرے میں استا د کا ایک مقام تھا اُستا دپیسہ کمانے کی دوڑسے کوسوں میل دورتھا۔گورنمنٹ جامعہ ہائی سکول سرگودھا کی خوش قسمتی کہ نئی عمارت میں شفٹ ہوتے ہی حُسین احمدبھٹیؒ مرحوم جیسے عظیم اُ ستا د وانتظامی امور کے ماہر اس سکول کو بطور پرنسپل نصیب ہوئے ۔حُسین احمد بھٹی صاحب کا شما ر اُ ن عظیم اساتذہ میں ہوتا ہے جنہو ں نے گورنمنٹ جامعہ سکول کو عظیم تعلیمی گہوارہ رہ بنا دیا ۔نئی عما رت ہو نے کی وجہ سے سکول میں کو خوبصورت پودے لگا ئے۔صفائی اتنی کہ آج اُس ما حول کویا د کرتا ہوں تو رشک آتا ہے ہفتہ وارچُھٹی سے ایک دن پہلے کمرہ جما عت کی خوب صفا ئی ہوتی ۔اور خوبصورت تعلیمی چار ٹ سے سجا یا جا تا اور ہفتہ وارچُھٹی کے بعدپہلے دن حُسین احمد بھٹی صاحب اسا تذہ کے ساتھ ہر کلاس کا دورہ فرما تے اور پھر کلا س ک اگلے دن بہترین صفائی کرنے پر ٹرافی سے نوازاجا تا ۔اور وہ ٹرافی پورا ہفتہ اُس کلا س کی زینت بنی رہتی ۔انتظامیہ امور کی ذمہ داری کے باوجود حُسین احمد بھٹی صاحب کلا س نہم اور دہم کو خود بھی پڑھا تے ۔اسی طرح جا معہ سکول سرگودھا میں غیر نصابی سرگرمیو ں کا دوربھی عروج پر تھا ۔سکول میں نعت خوانی، تقاریر، کلامِ اقبال کے مقابلے بھی ہوتے ۔اور جا معہ سکول کی کا رکردگی بے مثالی ہو تی ۔اُس دور میں سکو ل میں ملک محمدانور صاحب ،صوفی غلا م حُسین صاحب ،عطاالرحمان قریشی صاحب ،عُمر حیا ت صاحب ،اسلم صاحب ، مہرشا ہ محمد صاحب،مہرمحمدبخش صاحب ،منظورصاحب ،سعید قریشی صاحب ،رفیق صاحب جیسے لو گ اس سکول کے اساتذہ اکرم میں شامل تھے ۔وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا جب حُسین احمد بھٹی صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں طلب فرما یا اور کہا کہ اشرف تم لوگو ں کو کلا س نہم کی طرف سے ا لوداعی عیدہ پا رٹی دی جا رہی ہیں ۔اور تم اس الوداعی تقریب میں تقریر کرو گئے ۔اُنھوں نے مجھے خودتقریرلکھوائی۔اُس تقریر کا ایک ایک لفظ میرے دلوں دما غ اور روح پر آج بھی نقش ہیں ۔جب اُن الفاظ کو میں سوچتا ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے ۔کہ جیسے میری روح فناع ہو رہی ہیں ۔اور پھر جس دن جما عت نہم نے ہما ری جماعت کو الوداعی پا رٹی دی ۔راقم بھی نے تقریر کی اور میرے ہر دل عزیز عزیزسپورٹس مین آفتا ب تا بی نے بھی اظہارِ خیا ل کیا ۔مجھے یا دہے کہ حُسین احمدبھٹی صاحب نے اُس الوداعی پا رٹی کے دن مجھ سے کہا کہ اشرف آج ہما رے سکول میں خو ب ر ونق ہے ۔میں نے کہا کہ سر آج تو ہما ر ا سکول یونیورسٹی لگ رہا ہے ۔میٹرک کا امتحان دینے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ حُسین احمدبھٹی صاحب بطورڈسٹرایجوکیشن آفیسرگجرات ٹرانسفرہو گئے ہیں ۔جب میٹرک کا رزلٹ آوٹ ہو تو راقم نے بھٹی صاحب کو خط لکھا ۔یقین جا نئیے کہ بھٹی صاحب نے مجھے نیک تمنا وں کے اظہار کے ساتھ خط کا جواب دیا اور میری حوصلہ افزائی فرما ئی ۔کچھ عرصہ بعدجب بھٹی صاحب بطور ڈائریکٹر سکول سرگودھا ڈویثرین بن کر تشریف لے آئے۔تو راقم کی ان سے دودفعہ ملا قات رہی ۔ انسان ما ضی حال مستقبل تین ادوارمیں منقسیم ہو تا ہے وہ لمحات جوماضی کا حصہ بن چکے ہو تے ہیں حُِسین یا دوں کا روپ دھار لیتے ہیں اُس وقت اُس کی کوئی قدرنہیں ہوتی ہلکہ اس طرح جیسے اب ہم موجودزمانہ گزارہے ہوتے ہیں ۔یوں ہم مستقل کوبہترسنوارنے کیلئے اطمینان بخش اندار میں افعال انجا م دینے کی بجا ئے ہم اپنے حال سے شاکی رہتے ہیں ۔یوں ہم اپنے ان رویوں کی وجہ سے اپنے بہت سے پیا روں کو دُکھ پہنچاتے ہیں ۔اور یوں جب یہ ہی حال کا زما نہ ماضی کی صورت اختیا ر کرلیتا ہے ۔تو ہما رے اندارایک کسک سی رہ جا تی ہے ۔کہ کاش ہم نے ایسانہ کیا ہوتا میرے کا نوں میں اب بھی جا معہ سکول سرگودھا کے درودیوار میں جنا ب حُسین احمدبھٹی مرحوم جنا ب مہر شاہ محمدصاحب ،جنا ب اقبال ،چیمہ صاحب ، خادم حُسین صاحب ودیگر اساتذ اکرام کی محبت اور خلوص بھری آوازیں سنائی دیتی ہیں اوریوں دل مچلتا ہے کہ اُفسردہ ہوجاتا ہے اور اُس دورہ میں واپس جانے کی خواہش کرتاہے یوں ہم اپنے آپ سے انصاف نہیں کرپاتے اور جو جو جب جب کرنا ہوتا ہے تب تب نہیں کرپا تے ۔اپنے الفاظ کو ان جذبات کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔میں شُکر گزار ہوں جناب آفتاب تابیکا جنہون نے اتنی محبتوں سے نوازا ۔آفتاب تابی کرکٹ کے شیدائی ہیں اور ایک مشہور چینل میں آج کل کرکٹ کے اینکر کی ذمہ داری نبھارہے ہیں اور آفتاب تابی کی وجہ سے شارجہ مین مقیم میرے اُستاد محترم جناب حسین احمد بھٹی صاحب کے بیٹے جناب ڈاکٹر حماد احمد بھٹی سے رابطہ ہوا اور ہمارے دیرینہ دوست جناب میجر (ر) عمیر بن طاہر بھی رابطے میں آگئے۔اللہ پاک اِن دوستوں کو سلامت رکھے۔

آفتاب احمد تابی کے نام جو جامعہ سکول سرگودہا میں میرے ہم جماعت تھے
برسوں بعد تابی
کی جو خیر خبرآئی
تو احساس ہوا کہ ہم لوگ
ابھی زندوں میں شمار ہوتے ہیں
اور ضمیر کا ابھی قحط نہیں پڑا
بچپن کی یادیں سکول کی باتیں
اسلم صاحب کی کلاس میں
احترامِ آدمیت کا سبق
راجہ افضل صاحب کا باوقار چہرہ
خان محمد صاحبؒ کا غصہ
قاضی انور صاحب کی خلوص بھری باتیں
خادم حسین صاحب پی ٹی آئی کا پیار
حسین احمد بھٹی صاحبؒ
کی ہر دم سکول کے معیار کے لیے مساعی
ملک انور صاحب کا نورانی چہرہ،مہر شاہ محمد صاحب
اور مہر محمد بخش صاحب کا ہر وقت ہمت بندھان�آآفتاب تابی آپکا بھر پور طالب علمی کا دور
سب کچھ تو آپ کی یاد نے یاد دلادیا
اللہ پاک آفتا ب تابی کو
مانندخورشید و ماہتاب رکھے
میرے اساتذہ جو حیات ہیں
اُنھیں رب پاک عمر خضر عطا فرمائے
اور جو اپنے رب کے حضور روشن راہوں کے مسافر بنے ہیں
رب پاک
اُن کے درجات بلند فرمائے۔
آفتاب تابی ہم تمھاری محبتوں کے شکر گزار ہیں








No comments:

Post a Comment