تعلیمی بورڈ لاہور کی ناپسندیدہ کارکردگی
سٹوڈنٹس کے لیے المیہ
میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
مجھے اپنے ایک عزیز کے فرسٹ ایرء کے پرچوں کی ر ی مارکنگ کے لیے لاہور بورڈ جانے کا اتفاق ہوا۔چند گھنٹے سٹوڈنٹس کے ساتھ گزارنے کے دوران انتہائی مایوس کُن باتیں سننے کو ملیں۔ اکثر طلبہء و طالبات یہ رونا روتے ہوئے د یکھائی دئیے کہ شارٹ سوالات کے جوابات اُنھوں نے لکھے تھے یا تو اُن کو کاٹ دیا گیا ہے یا دو نمبر والے سوال کا آدھا نمبر دیا گیا ہے حالانکہ کہ سوال کا جواب درست تھا۔سٹودنٹس کی معصوم آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسوو ں دیکھا اُن کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے لانگ سوال کا جوب بلکل درست لکھا تھا لیکن نمبرز بہت کم یعنی آدھے سے بھی کم دئیے گئے ہیں۔ایک اہم بات جو میرئے لیے کسی بم دھماکے سے کم نہ تھی وہ یہ کہ جو بھی سٹوڈنٹ ری چیکنگ کے عمل سے گزر کر آرہا تھا اُس کے دو چار نمبروں میں اضافہ ہو چکا ہوتا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر سٹوڈنٹس ری چیکنگ نہ کرواتے تو نمبروں میں یہ اضافہ نہ ہو پا تا اس کا مطلب تو یہ ہے کہ بورڈ کا امتحانی پرچوں کی چیکنگ کا معیار انتہائی ناقعص ہے۔ کیونکہ انجینرنگ اور میڈیکل کے میرٹ میں ایک ایک نمبر کے فرق پر بیسیوں امیدوار ویٹنگ لسٹ پر ہوتے ہیں۔درحقیقت بورڈ کے پرچہ جات چیک کرنے والے اساتذہ ٹھیکے پر امتحانی پرچیک کرتے ہیں اس لیے وہ زیادہ سے کمائی کی خاطر زیادہ سے زیادہ پرچے چیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مارکنگ کا معیار بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور خمیازہ بے چارے سٹوڈنٹس کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بورڈ انتطامیہ بھری فیسیں وصول کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کررہی۔ ابھی اسی سال ایف ایس سی کے پرچوں کی ری مارکنگ کی وجہ سے بورڈ کی دوسری پوزیشن تبدیل ہوئی ہے۔ اس سارے واقعے کا ذمہ دار صرف ایک سکریسی افسر کو ٹھرا کر اُسے معطل کردیا گیا۔ حکومتی اداروں میں ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آرہا ہے کہ بڑے بڑے مگرمچھوں کو بچانے کے لیے چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا۔ موجودہ دور میں جب کہ پنجاب کی حکومت ایک ایسے حکمران کے ہاتھ میں ہے جو کہ ایک مستعد منتظم ہے اُن کے ہوتے ہو ئے لاہور بورڈ کی انتہائی برُی حالت حیران کُن ہے۔ اربابِ اختیار کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ایک اور بات جو کہ بہت ز یادہ توجہ طلب ہے و ہ یہ کہ بورڈ انیہائی بھاری فیسیں کر رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ پرچے چیک کرنے والے اساتذہ پر زیادہ سے زیادہ پرچے چیک کرنے پر یومیہ طور پر تعداد کی پابندی ہونی چاہیے۔ تاکہ زیادہ رقم کے لالچ میں سٹوڈنٹس کے مستقبل سے کھیلنے کا سلسلہ بند ہو سکے۔ بورڈ کے دفتر میں جانے اور ویاں چند گھنٹے گزارنے کے بعد میرا تاثر یہ ہی تھا کہ ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے۔ا نجامِ گلستان کیا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں اور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ انسانی حقو ق کی عا لمگیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے چئیرمین ہیں۔
No comments:
Post a Comment