Wednesday, 30 July 2014

اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں

 

 

اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں

دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں

میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ



آج جب عید کی ساعتیں ہیں اور اِن ساعتوں میں اپنے ارِد گرد نظر ڈالتا ہوں تو دل میں ہول سا اُٹھتا ہے،کتنے چہرئے جو اب نظر سے دور ہیں کچھ تو دیارِ غیر جا بسے ہیں اور کچھ رب پاک کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔بچپن میں جب اباجانؒ کا انتقال ہوا تو راقم آٹھ سال کا تھا اور یوں بچپن کی عیدیں بھی ابا جان کی یاد میں گزرتی رہیں اور انہیں یادوں نے بچپن سے بڑھاپے میں جھونک دیا۔ یوں عید اپنے روایتی انداز میں آتی اور گزر جاتی اور ہمیں عید کے اُس مفہوم سے آشنائی نہ ہو سکی جس کا اظہار ہم دوسرئے بچوں سے سنتے یا محسوس کرتے۔عید منانا یہ تو ایک ایسی جبلتی کیفیت ہے کہ اِس کا حال صرف وہی جانتا ہے جو عید گزار رہا ہوتا ہے۔جن معاشروں میں نا انصافی، بیروزگاری، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہو جہاں عزت کا میعار دولت ہو۔ جہاں انسانوں کی خدمت پر مامور سیاستدان بدترین کرپٹ ہوں وہ قوم بھی یتیم ہی ہوتی ہے۔ ملک کے حکمران جو عوام کے لیے والد کا درجہ رکھتے ہوں وہ رہبر کی بجائے راہزن کا روپ دھار لیں تو عید شامِ غریباں بن جاتی ہے۔عوام کے ساتھ جتنا ظلم ہو سکتا ہے اُس میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی گئی نہتی عوام کو چور ڈاکو تاجر نوچ رہے ہیں ۔عوام بے حال ہے۔تو پھر اِن لمحات کو عید کیسے کہا جاسکتا ہے۔عراق، شام، لیبیاء،کشمیر ،افغانستان، فلسطین، مصر،عالمی مسلمان رہنماؤں کی بے حسی کی تصویر بنے ہیں۔تو پھر عید کیسی؟ فلسطینی عوام بچے بوڑھے عورتیں گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں تو پھر یہ کیسی عید۔اللہ پاک نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد مسلمانوں کو خوشی کے لیے عید کا یوم عطا کیا ہے لیکن اِس عید کو منانے کے لیے جتنے بھی اسباب ہیں اُن سب کے حصول کے لیے منفعت صرف چورڈاکو،تاجروں حکمرانوں کو حاصل ہے۔ عید کے مزئے تو منافع خوروں کے ہیں جنہوں نے رمضان میں خوب چور بازاری، لوٹ مار منافع خوری کی اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔حکومت کی موجودگی کا احساس ٹی وی ریڈیو کے خبر نامے میں ہوتا ہے جس میں یہ راگ الاپے جاتے ہیں کہ حکومت نے ایسا کرنے ویسا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ پاکستان قوم کو فرقہ واریت ، ذات پا ت اور او نچ نیچ،،غربت،دہشت گردی میں دھکیلے جانے کے ذمہ دار ساستدان بیوروکریٹ سرمایہ دار اور وڈیرئے ہیں ۔عوام کو تو نہ کبھی اختیار ملا ہے اور نہ ہی ملنے کی کوئی سبیل نظر آرہی ہے۔
            اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں
دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں
           اشرف عاصمی

No comments:

Post a Comment