Saturday, 12 July 2014

شاہیوں کے شہر سرگودہا کا شاہین صفت عاشقِ رسو ل شیخ محمد رفیق انجم مرحومؒ



شاہیوں کے شہر سرگودہا کا شاہین صفت عاشقِ رسو لﷺ شیخ محمد رفیق انجم مرحومؒ

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

اللہ پاک نے اپنی اِس دنیا میں اپنی مخلوق کو مختلف ذ مہ داریوں سے نوازا ہوتا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ فخر حاصل ہے کہ طالب عملی کے دوران عرصہ میں کسی طرح کی بھی بُری صحبت سے بچنے کا تمام تر کریڈٹ انجمن طلبہ اسلام کی سرگرمیاں تھیں اللہ پاک کے کرم اور نبی پاکﷺ کی محبت کے طفیل احباب کی ایک کثیر تعداد میسر آئی جن لوگوں نے تربیت فرمائی ۔ ماضی کے جھرکوں میں جھانکتے ہوئے روح پر ایک بوجھ سے محسوس ہوتا ہے کہ جب ہمارئے ہم عصر ساتھی دوست انجمن طلبہ اسلام سرگودہا کے سابق ناظم جناب شیخ محمد رفیق انجم دسمبر 2009 میں ہمیں داغَ مفارقت دئے گئے۔ اِس دنیا میں رہنے کا ہر کسی کو جی چاہتا ہے اور عمر خضر بھی اِس کے لیے کم محسوس ہوتی ہے لیکن جناب شیخ رفیق انجم جیسا ہنس مکھ انسان اور بہادر شخص کو نہ جانے کیسے اچانک دل نے بیوفائی کی کہ ہنستا مسکراتا ہمارا دوست رفیق انجم صرف چالیس سال کی عمر میں ہی سفرِ آخرت پر روانہ ہو گیا۔رفیق انجم کے والد صاحب اور بھائی شیخ صوفی نذیر صاحب انجمن طلبہ اسلام کے سرپرست تھے اور سرگودہا میں انجم کے کام کے فروخ کی خاطر ہر طرح کی مالی اعانت فرماتے حتیٰ کہ اپنی شاپ کے اوپر کارخانہ بازار میں دفتر بھی انجمن طلبہ اسلام کو دئے رکھا تھا۔یوں انجمن طلبہ اسلام کے مشن کے خاطر رفیق انجم سمیت تمام اُن کا گھرانہ پیش پیش تھا۔رفیق انجم سے دوستی کی وجہ اصل میں میرا نہم جماعت کاکلاس فیلو طاہر ظفر تھا جو کہ رفیق انجم کا بچپن کا دوست تھا طاہر ظفر میرا کلاس نہم سے بی کام تک کلاس فیلو رہا ۔طاہر ظفر سے دوستی کی وجہ سے رفیق انجم سے میرا تعارف پہلے سے ہوگیا تھا جب میں انجمن طلبہ اسلام میں شامل ہوا تو رفیق انجم مرحوم بھی اس قافلہ عشقِ رسولﷺ کے راہی بن گئے۔ رفیق انجم مرحوم انتہائی دلیر انسان تھے اور ہمارئے دوستوں کا مشترکہ حلقہ تھا اِس لیے سب کے دکھ اور سکھ سانجھے تھے۔جاوید مصطفائی ،اقبال چوہدری ،غلام مرتضیٰ سعیدی،اسلم رانجھا، خالد اعوان،خالد مسعود گھنجیرا ،حماد احمد بگوی،جواد احمد بگوی، غلام مصطفےٰ بلوچ ، رضاالدین صدیقی ، حافظ محبوب الھی ، کنور ناصر افضال۔ مہر برکات۔صاحبزادہ احمد ندیم رانجھا،غلام احمد اعوان، اسلم حیات ،راجہ اظہر عباس سیالوی، مہر طارق ہرل، نیاز کہوٹ ، طاہر رشید، جیسے احباب اُس وقت انجمن کے مشن کے لیے دن رات کوشاں رہے۔ رفیق انجم صاحب کی زیر قیادت دوستوں نے انجمن کے کام کے حوالے سے بہت سے سنگ میل عبور کیے ۔ انجمن کے پیغام کو سرگودہا ضلع بھر میں پہنچانے کے لیے سید صفدر شاہ اور رفیق انجم، اقبال چوہدری ،غلام مرتضیٰ سعیدی نے بھرپور کام کیا ، جواد احمد بگوی اور حماد احمد بگوی کی بھی بے انتہا کوششیں انجمن کے مشن کے فروغ کے لیے ہیں۔انجمن طلبہ اسلام کے اِس بہادر اور جانثار ساتھی نے اپنی زندگی کو عشق مصطفے کریمﷺ کے مشن کے لیے وقف کیے رکھا۔گورنمنٹ کالج سرگودہا موجودہ یونیورسٹی آف سرگودہا میں ایک پروگرام میں مخالف تنظیم کی دھمکیوں کے باوجود رفیق انجم ؒ نے میلاد مصطفےﷺ کا پروگرام کروایا بلکہ مخالف تنطیم کے ایک بہت بڑئے لیڈر کی دوڑ بھی لگوا دی۔ پروفیسرچوہدری شان محمد صاحب میرے اُستاد بھی ہیں اور انجمن کے مشن کے لیے ہماری سر پرستی بھی فرماتے تھے وہ بھی رفیق انجم کے ساتھ بہت شفقت فرماتے۔ رفیق انجم مرحوم بہت زیادہ رابطہ رکھتے اور دوستوں کے دکھ اور غم میں شریک ہوتے ۔ سرگودہا کو جب میں نے خیر باد کہہ دیا اور اپنے آبائی شہر لاہور اپنے گھر واپس آگیا تو بھی رفیق انجم مرحوم کے ساتھ تعلق ہمیشہ قائم رہا ۔اپنی وفات سے چند دن پہلے ہی مجھے فون کیا کہ میں لاہور آوں گا تو آپ کے آفس ہائی کورٹ ضرور آوں گا۔چند دنوں کے بعد سرگودہا سے جاوید مصطفائی کا فون آگیا کہ رفیق انجمؒ کو دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال فرماگئے ہیں۔میں اور میرے جیسے اور بے شمار افراد رفیق انجم مرحومؒ کے رخصت ہونے سے ایک انتہائی مخلص اور درد مند دوست سے محروم ہو گئے ہیں اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

No comments:

Post a Comment