Saturday, 26 July 2014

ناامیدی میں امیدمومن کی شان ہے۔

           

                                         ناامیدی میں امیدمومن کی شان  ہے۔                         

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ



موجودہ دور میں  جس طرح سے مادیت پرستی سے بھرپور مہم کی وجہ سے آج کا پاکستانی دلبرداشتہ ہے۔ ملک میں افراتفری کا عالم ہے،دہشت گردی، مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ۔امن وامان کی بدترین صورتحال۔ سیاسی عدم استحکام،نام نہاد سیاستدانوں  کے  ملک دُشمن  بیانات، بھانت   بھانت  کی  بولیاں  ہر طرف سے یہ آوازیں کہ   اگر ہم اقتدار  میں نہ آئے  تو یہ ملک  ٹوٹ جائے   گا۔ ہر طرف سے مایوسی کی آوازیں۔ ان حالات میں  عام پاکستانی   کا دل ودماغ   انتہائی کر ب   و تکلیف  میں مبتلا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے  اپنی پروڈکٹ کے لیے بھر پور میڈیا مہم بھی عام  پاکستانی کو  مجبوری اور غربت کا احساس دلاتی ہے۔  اطمینانِ قلب  نہ ہونے سے
قناعت کا احساس بھی جاتا رہا ہے۔ بندہ مومن کے اوصا ف  سے عاری کرنے کے لیے اس قوم کو مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوبو دیا گیا ہے۔ ہر شخص کے لیے روٹی کھانا  ہی  مشکل ٹھر گیا ہے۔ ان حالات میں  لیڈرانِ قوم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور  ملک وملت کی قیادت کا  حساب چُکائیں۔لیکن  ان مایوسیوں سے نکلنے کے لیے قوم کو جن رہنماوٗں کی قیادت درکار ہے وہی قیادت تذبذب میں مبتلا ہے۔  معاشرئے کے  وہ افراد  جو کہ نفوذ پذیری کے حامل ہیں مشلاً  وکلاء، ڈاکٹرز،  اساتذہ ، علماء  ا  کرام   ،ان تمام صاحبان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ  قوم کو امید  دلائیں۔ مایوسیوں سے نکالیں اور  اپنے وطن سے پیار کا ماٹو اپنائیں۔سادگی کو شعار بنائیں۔ قوم کو محبت بھائی چارئے کا عملی نمونہ قائم کرکے دکھائیں۔  نفسیاتی طور پر قوم  کو حوصلے کی ضرورت ہے۔ حوصلہ  کے لیے   مالی وسائل سے زیادہ  رب پاک پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ بندے کا یہ ہر وقت احساس کہ مایوسی گناہ ہے۔رب پاک امید کا نام ہے۔رب پاک   محبت سے بھر پور ہستی ہے۔رب پاک سے جب ہم امید باندھ لیتے ہیں۔تو پھرہم خود کو اپنے دُکھوں  اور غموں سمیت اپنے رب کی بارگاہ میں اپنے  رب  کے  حوالے کر دیتے ہیں۔مخلوق کا اپنی تمام تر کوتائیوں کے باوجو د  خود کو اپنے رب کے حوالے کرنا۔اس بات کی نشاندھی ہے کہ مخلوق خالقِ   کائینات کو  ہی اپنے تمام تر  دکھوں اور تکلیفوں کے حل کرنے اور اُن کا مداوا کرنے والا سمجھتی ہے۔جب مخلوق  اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے  اپنے حالات اپنے رب کے سامنے عرض کرتی ہے تو پھر خالقِ کائینات جو  ہر شے پر قُدرت رکھتا ہے وہ اپنی مخلوق کو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں  میں بھٹکنے نہیں دیتا۔جب خالق کائینات خود ارشاد فرماتا ہے کہ جس نے مایوسی اختیار کی اُس نے گویا کفر  کیا۔امید کو مستحکم کرتے ہوئے جب   انسان اپنا درد اپنی آرزو اپنے رب کے  سامنے عرض کردیتا ہے۔ تو پھر خالقِ کائینات  اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا۔جو رب  پاک اپنے بندے کو  مایوسی اختیار کرنے سے روکتا ہے وہ رب پھر اپنے بندے کو  کیسے مایوس کرسکتا ہے۔ رب پاک کے آگے جب عرض کردی جاتی ہے تو پھر ایک  ایسی لافانی قوت کا ہالہ بندے کے گرد قائم ہو جاتا ہے جو اُس کو مایوسیوں سے بچاتا ہے اور اُس کے اندر موجود قوتِ ارادی کو مظبوط سے مظبوط کرتا  چلا جاتا ہے۔بندہ اپنے دکھ اپنے رب کی خدمت میں عرض کرنے کے بعد  دکھوں اور تکلیفوں کے  بوجھ سے نکل جاتا ہے۔ اور پھر وہ اپنے تمام  دکھوں اور تکلیفوں کا مداوا اپنے رب سے ہی  چاہتا ہے۔لیکن جب  ہم  رب پاک سے دُعا مانگ رہے ہوتے ہیں اور دل میں اُس وقت اِس وسوسے کو جگہ بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ
  نامعلوم ہمارا یہ مسلہء حل ہوگا بھی یا نہیں۔جب رب سے مانگنے کے ساتھ ساتھ انسان شیطان کے وسوسوں میں  بھی آجاتا ہے۔ تو پھر قوتِ ارادی میں  کمی   واقع ہو جاتی ہے۔اور اللہ پاک کی دی ہوئی ہمت کا زور  انسان اپنی ناکامیوں کی سوچ کی وجہ سے  کمزور کر بیٹھتا ہے۔ان حا لات میں انسا ن  کا یہ سوچناکہ شائد میرا کام ہوسکے گا یا نہیں۔اور یہ وسوسہ  کے ہو سکتا ہے کہ مجھے کامیابی  ملے یا نہ ملے۔تو ظاہر ہے اُس  کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے  جن  اسباب کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسباب  ارادے کی قوت کی کمی اور رب پاک پر مکمل  یقین     کے فقدان  کی وجہ سے حاصل نہیں ہو پاتا   ا ور انسان منزلِ مراد سے محروم ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح  اگر کوئی شخص جب   صمیمِ  قلب کے ساتھ اپنے رب کے حضور اپنی فریاد پیش کرتا ہے  اور وہ دُنیاوی آقاوؤں کی  بجائے ربِ کائنات کو حقیقی معنوں میں اپنا رب مانتا ہے۔اسے یہ مکمل  ادراک ہو جاتا ہے کی میری  تمام تکالیف کا مرہم میرے رب  پاک  کے پاس ہے ۔اور کسی کے پاس اُس کی تکلیف کا حل نہیں۔رب پاک خود فرماتا ہے  کہ جب   مومن  میری طرف رجوع کر لیتا ہے تو میں اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔میں اُس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ     ُسُنتا ہے۔ رب پاک کی عطا کردہ قوت انسان کے اندر جاگزیں ہو جاتی ہے  اور پھر اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔اس طرح دُنیاوی آقاوؤں کی خوشنودی سے انسان کی جان چھوٹ جاتی ہے۔اور محمدﷺ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر بندہِ مومن کسی سے نہیں ڈرتا۔اور پھر رب ہی صرف رب ہے  ہونے کا اقرار قول و فعل  سے کرنے کے بعد بندہ اُس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔کہ رب پاک پھر اپنے محبوب بندے سے اُس کی مرضی ورضا  پوچھتا ہے۔عقیدہ  کی  کمزوری وسوسوں کو جنم دیتی ہے۔ اور ان وسوسوں کی وجہ سے ناکامی کا خوف  پیدا ہوجاتا ہے۔   اسی سبب پھر انسان کی  ہمت میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور  انسان رب کو کارساز ماننے کی بجائے دُنیاوی آقاوؤں کی خوشنودی میں لگ جاتا ہے۔اور یوں جس خالص توحید کا درس رب پاک نے انسان کو سکھایا ہوتا ہے وہ اُسکو چھوڑ کر اپنی  عقل کو استعمال میں لا کر فخر محسوس کرتا ہے۔اُسکا دل تو اُسے اللہ پاک کی طرف مائل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے  لیکن دماغ  اُس کو چوں کہ اور چناچہء   کی  بھول بھلیوں میں گھماتا ہے۔اور وہ  یوں کیسے ہوگا، کب ہو گا،وغیرہ کے چکرووں میں پھنس کر رب پاک کی رحمت سے دور   اور شیطان   
کے   قریب  ہو جاتا ہے۔انسانی تاریخ میں اگر کامیابیوں کا  جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیا ں ہو جاتی ہے۔کہ  جب  اقوام   اپنے رب پاک کے بتائے ہوئے رستے پر چلتی ہیں تو کامیابیاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں۔ سرورِکائنات  نبی پاک  ﷺ نے جب صحابہ  اکرام  کی ایک ایسی جماعت تیار کردی جو اطعیواللہ و اطعیوالرسول پر کاربند تھی تو پھر تاریخ عالم نے دیکھا کی معرکہِ غزوہِ بدر میں اللہ پاک نے۳۱۳  مسلمانوں  کو  قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود  اپنے سے کئی گنا بھاری دُشمن پر فتح  سے نوازا۔نبی  پاکﷺ کی قیادت میں  مجاہدین کا یقین اِس حد تک کامل تھا کہ رب پاک  اُن کے ساتھ ہے۔اِس  یقینِ کامل کی بدولت رحمتِ عالمﷺ نے اپنے رب سے یہ دُعا مانگی کہ اے میرے رب  اگرآج یہ مٹھی بھر  تیرے بندے  ناکام ہو گے تو پھر قیامت تک تمھارا نام لینا والا کوئی نہ ہو گا۔ربِ  کائنات  کی بارگاہ میں اس دُعا کو  پذیرائی بخشی گئی اور رب پاک نے اپنے محبوب بندے   نبی  پاک ﷺ کی استدعا کو شرفِ  قبولیت  بخشا  اور غزوہ بدر میں  ملنی والی سلام کے ابتداء دور میں یہ  کامیابی  مسلمانوں کے لیے  بہت زیادہ  روحانی تقویت کا سبب بنی اور مسلمانوں کا  فخروافتخار سے مورال بلند ہو گیا۔  رب پاک پر یقینِ محکم نے اسباب  کی کمی کے باوجود  مسلمانوں کو  اسلام کے پہلے معرکے میں  کامیابی سے نوازا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے  کہ میرِکارواں نبی پاکﷺ نے اپنی اُمت کے لیے جو دُعا اپنے رب سے مانگی رب پاک نے اُسے شرفِ قبولیت سے نوازا۔اسی طرح حضرت ابوبکر  صدیق  ؓ  کی صداقت، حضرت عمر  ؓکی عدالت، حضرت عثمانِ غنیؓ کی سخاوت اور حضرت علیؓ شیرِخدا کی شجاعت۔ درحقیت رب کائنات  کی طرف سے بخشی ہوئی وہ نعمتیں ہیں جو ان عالیٰ مرتبت ہستیوں کو ان کے یقین کامل کی وجہ سے اس  مقام پر لے آئیں۔اسی طرح حضرت طارق بن زیادؓ  نے جب سپین فتح کیا تو یقینِ محکم کا یہ عالم تھا کہ اپنے سپائیوں کو حکم دیاکہ اپنی  تمام کشتیان جلا دو۔ہم  فتح حاصل کرنے آئے ہیں ہماری واپسی نہین ہو گی۔ اس  حد تک جب اپنے خالق  سے امیدیں وابسطہ کر لی جائیں اور  امیدیں بر آنے کے لیے    جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے اُن کا بھی مشیتِ  ایزیدی پھر انتظام کر دیتی ہے۔ اپنی تمام تر ہمتوں اور توانائیوں  کے ساتھ توکل اُس مقام تک اپنے بندے کو لے آتی ہے،،کہ رب  پاک  پھر اپنے بندے سے اُس کی رضا پوچھتا ہے۔ رب پاک کی ہستی کے متعلق  لوگوں  کو  اس طر ح  راغب کرنا کہ رب پاک سے مایوس نہیں ہونا اور رب سے ہمیشہ  اچھائی کی امید رکھنا یہ   ہے  وہ پیغام ہے جو داتا  علی  ہجویریؒ، میراں حسین زنجانیؒ، حضرت بہاودین زکریا ملتانیؒ،  حضرت میاں میرؒ،  حضرت میاں وڈا صاحبؒ     بابا بھلے شاہؒ، حضر ت شاہ حسینؒ،  مولانا  رومؒ، حضرتِ  علامہ  اقبالؒ    جیسی   عظیم ہستیوں  نے  عوا م   الناس کو دیااور  حقیقی  معنوں میں رب پر بھروسہ اور خالص توحید سے آشنائی دی۔ اسی لیے مسلم   معاشروں کا   خاصہ کبھی بھی   طمع  یا لالچ نہیں رہا۔ ا سلام میں تصوف کی  اصطلاح بھی درحقیقت رب پاک کو تمام تر  خصوصیات کے ساتھ کارساز  ما ننے   کا نام ہے۔ اسی طرح محمد بن قاسمؒ نے712  ء   میں کفرستانِ ہندوستان مین  اسلام کی شمع روشن کی اور پھر راجہ داہر جیسے ظالم و   طاقتور حکمران  کو شکست دے کر  سندھ کو فتح کیا اور قیامِ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ حضرتِ قائداعظم  ؒ کو  ہر طرف سے دشمنوں کا سامنا تھا۔ ایک طرف انگریزوں کی ریشہ  دوانیاں  عروج پر تھیں دوسری طرف ہندووں کی مکاری آڑے آرہی تھی۔تیسری طرف یونینسٹ پارٹی سے وابستہ نام نہاد  مسلمان  جاگیردار جو انگریزوں کے  غلام   تھے وہ  قیام پاکستان کے خلاف کمر بستہ تھے۔ اور چوتھی طرف اُس وقت کی مشہور مذہبی درسگاہ دارلعلوم دیوبند  کے  مہتم حسین احمد مدنی، مجلس احرا رِ اسلام کے عطااللہ شاہ بخاری۔جماعت اسلامی کے امیر مولانا مودودی، دیوبند کے ہی عالمِ دین اور مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی  محمود  جیسے لوگ بھی پاکستان کی مخالفت پر کمر بستہ تھے۔یہ ہی وہ  علماء کا گروہ تھا جو حضرتِ قائداعظم کو کافرِ اعظم اور پاکستان کو کافرستان  گردانتا تھا۔اور اِن علماء کا یہ دعویٰ بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہم پاکستان کی  پ بھی نہیں بننے دیں گے۔ محمد علی   جناحؒ  چاروں طرف دشمنوں کے  چنگل  میں  پھنسے ہوئے تھے لیکن اللہ پاک پر توکل سے وہ ثابت قدم رہے۔ اور یہاں تک  کہہ دیا کہ خدا کی قسم  کہ ہم ہار  نہیں مانیں گے بے شک ہمارے دشمن ہمیں اُٹھاکر بحیرہ عرب میں ہی کیوں نہ پھینک دیں۔ہم اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک لڑیں گے۔یہ رب پاک پر امید اور توکل ہی تھی کہ حضرتِ قائد اعظمؒ ٹی بی جیسی موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود دن رات کام کرتے رہے  اپنوں اور غیروں کی سازشوں کا مقابلہ کیا  اور  پھر پاکستان کا قیام عمل میں  آ ہی گیا۔ تاریخِ اسلامی  اِیسے واقعات سے بھر پور ہے کہ جب  بھی مسلمانوں  نے یقینِ محکم، توکل  اور امید کا اپنا شعار بنایا، کامیابیاں ان کا مقدر بنیں۔موجودہ  حالات جو ہمارے حکمرانوں  کی
غلامانہ   سوچ  کی پیداوار ہیں اور پاکستانی عوام معاشی، سماجی، ثقافتی،مزہبی  ہمہ گیر زوال   و انحطاط کا ہے۔  رب پاک پر یقین رکھتے ہوئے اور  صیح معنوں میں  مسلمان ہونے کا جب ہم حق ادا کردیں گے تو پھر امریکہ کی عیاری، بھارت کی دُشمنی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑ ی  زرخیز ہے ساقی۔                                                   ۔


No comments:

Post a Comment