قانونی مشورے
میاں اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
رانا دلشاد مٹھہ لک سر گودہا
سوال:وکیل صاحب، میرے بیٹے نے ایک شخص کو کاروبار میں انویسٹمینٹ کرنے کے لیے پانچ لاکھ روپے دئیے اُس کا کاروبار برتنوں کا ہے وہ تقریباً سات ماہ میرے بیٹے کو منافع دیتا رہا ہے اب وہ کہتا ہے کہ آپ کی رقم جس کاروبار میں لگائی تھی اُس کاروبار والی جگہ پر چوری ہوگی ہے اور سارا سامان چوری ہو گیا ہے اِس لیے آپ کی کی ہوئی سرمایہ کاری بھی چوری ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے۔اب ہم کیا کریں۔
جواب:آپ تما م حالات و واقعات تحریر کرکے اپنے علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او صاحب کودرخواست دیں وہ تفتیش کے بعد متعلقہ شخص کے خلاف قانونی کاروئی کریں گے اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ آپ سول کورٹ میں کاروباری حساب وکتاب کے حوالے سے دعویٰ دائر کردیں جج صاحب متعلقہ شخص کو نوٹس جاری کرکے طلب کریں گے اور کاروبای منافع جات ،سرمایہ اور نقصان کی بابت اُس سے کھاتہ جات کی تفصیل عدالت میں طلب کی جائے گی یوں صورت حال واضع ہوجائے گی۔
اسلم گوگا تحصیل چونیاں ضلع قصور
سوال: وکیل صاحب: ہم دو بھائی ہیں اور ہماری چار بہنیں ہیں ہمارے والد صاحب نے ایک گھر اور نو کنال زمین سکنی اپنے ترکے میں چھوڑی ہے۔ مجھ سے جو بڑا بھائی ہے اُس کے نیت خراب ہے وہ کہتا ہے کہ گھر میں سے کسی کو حصہ نہیں ملے گا آپ لوگوں کو صرف زمین میں سے حصہ ملے گا۔
جواب: آپ اُس سے زمین کا حصہ تو لیں اور باقی رہا گھر کا معاملہ تو آپ اُس کے لیے سول کورٹ میں دعویٰ استقرارِ حق دائر کردیں جج صاحب بذریعہ نوٹس تمام متعلقہ افراد کو عدالت میں طلب کریں گے اور آپ کے والد مرحوم کے ترکے کی بابت شواہد اور گواہان کی شہادت کے بل بوتے پر آپ سب کو قانونی وارث قرار دئے دیا جائے گا۔
اعظم خان چوہان ساہیوال
سوال:میں ایک طالب علم ہوں مجھے باہرکے ملک جانے کا بہت شوق ہے میں نے ایک ایجنٹ کو دس لاکھ روپے آسٹریلیا جانے کے لیے دئیے ہیں وہ شخص پچھلے ایک سال سے مجے دھوکہ دے رہا ہے ہر مہینے مجھے کہتا ہے کہ اِس ما ہ تمھارا ویزآرہا ہے جب میں نے اپنی رقم کی واپسی کا کہا تو کہتا ہے وہ تو اُس نے جمع کروادی ہے وہ نہیں مل سکتی۔ مجھے اب کیا کرنا چاہیے۔
جواب: ملکی معاشی حالت کی ابتری کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے حالات کی بہتری کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن وہ غلط لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں آپ تما م حالت و واقعات ضبطِ تحریر میں لا کر اپنے علاقے کے ایف آئی اے کے آفس میں درخواست دیں وہ اِس حوالے سے کاروائی کرنے کے مجاز ہیں۔
عارف خان خانیوال
سوال: مجھے ایک شخص کا فی عرصے سے دھمکیا ں دے رہا ہے کہ اپنی زرعی زمین اُس کے ہاتھوں فروخت کردوں میں ایسا نہیں کرنا چاہتا اُس شخص نے میرا جینا محال کر رکھا ہے۔
جواب: آپ اپنے اپنے علاقے کے تھانے میں ایک درخواست دیں تھانے دار صاحب ضرور آپ کے حق میں کاروائی کریں گے۔
محترم قارئین اگر آپ بھی کسی قانونی مسلئے کا شکار ہیں تو آپ مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ماہرِ قانون میاں محمد اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ۱۔ شاہ چراغ چیمبرز متصل ہائی کورٹ لاہور پاکستان فون03224482940,03004262278 پر بزریعہ
سوال:وکیل صاحب، میرے بیٹے نے ایک شخص کو کاروبار میں انویسٹمینٹ کرنے کے لیے پانچ لاکھ روپے دئیے اُس کا کاروبار برتنوں کا ہے وہ تقریباً سات ماہ میرے بیٹے کو منافع دیتا رہا ہے اب وہ کہتا ہے کہ آپ کی رقم جس کاروبار میں لگائی تھی اُس کاروبار والی جگہ پر چوری ہوگی ہے اور سارا سامان چوری ہو گیا ہے اِس لیے آپ کی کی ہوئی سرمایہ کاری بھی چوری ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے۔اب ہم کیا کریں۔
جواب:آپ تما م حالات و واقعات تحریر کرکے اپنے علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او صاحب کودرخواست دیں وہ تفتیش کے بعد متعلقہ شخص کے خلاف قانونی کاروئی کریں گے اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ آپ سول کورٹ میں کاروباری حساب وکتاب کے حوالے سے دعویٰ دائر کردیں جج صاحب متعلقہ شخص کو نوٹس جاری کرکے طلب کریں گے اور کاروبای منافع جات ،سرمایہ اور نقصان کی بابت اُس سے کھاتہ جات کی تفصیل عدالت میں طلب کی جائے گی یوں صورت حال واضع ہوجائے گی۔
اسلم گوگا تحصیل چونیاں ضلع قصور
سوال: وکیل صاحب: ہم دو بھائی ہیں اور ہماری چار بہنیں ہیں ہمارے والد صاحب نے ایک گھر اور نو کنال زمین سکنی اپنے ترکے میں چھوڑی ہے۔ مجھ سے جو بڑا بھائی ہے اُس کے نیت خراب ہے وہ کہتا ہے کہ گھر میں سے کسی کو حصہ نہیں ملے گا آپ لوگوں کو صرف زمین میں سے حصہ ملے گا۔
جواب: آپ اُس سے زمین کا حصہ تو لیں اور باقی رہا گھر کا معاملہ تو آپ اُس کے لیے سول کورٹ میں دعویٰ استقرارِ حق دائر کردیں جج صاحب بذریعہ نوٹس تمام متعلقہ افراد کو عدالت میں طلب کریں گے اور آپ کے والد مرحوم کے ترکے کی بابت شواہد اور گواہان کی شہادت کے بل بوتے پر آپ سب کو قانونی وارث قرار دئے دیا جائے گا۔
اعظم خان چوہان ساہیوال
سوال:میں ایک طالب علم ہوں مجھے باہرکے ملک جانے کا بہت شوق ہے میں نے ایک ایجنٹ کو دس لاکھ روپے آسٹریلیا جانے کے لیے دئیے ہیں وہ شخص پچھلے ایک سال سے مجے دھوکہ دے رہا ہے ہر مہینے مجھے کہتا ہے کہ اِس ما ہ تمھارا ویزآرہا ہے جب میں نے اپنی رقم کی واپسی کا کہا تو کہتا ہے وہ تو اُس نے جمع کروادی ہے وہ نہیں مل سکتی۔ مجھے اب کیا کرنا چاہیے۔
جواب: ملکی معاشی حالت کی ابتری کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے حالات کی بہتری کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن وہ غلط لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں آپ تما م حالت و واقعات ضبطِ تحریر میں لا کر اپنے علاقے کے ایف آئی اے کے آفس میں درخواست دیں وہ اِس حوالے سے کاروائی کرنے کے مجاز ہیں۔
عارف خان خانیوال
سوال: مجھے ایک شخص کا فی عرصے سے دھمکیا ں دے رہا ہے کہ اپنی زرعی زمین اُس کے ہاتھوں فروخت کردوں میں ایسا نہیں کرنا چاہتا اُس شخص نے میرا جینا محال کر رکھا ہے۔
جواب: آپ اپنے اپنے علاقے کے تھانے میں ایک درخواست دیں تھانے دار صاحب ضرور آپ کے حق میں کاروائی کریں گے۔
محترم قارئین اگر آپ بھی کسی قانونی مسلئے کا شکار ہیں تو آپ مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ماہرِ قانون میاں محمد اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ۱۔ شاہ چراغ چیمبرز متصل ہائی کورٹ لاہور پاکستان فون03224482940,03004262278 پر بزریعہ
السلام علیکم
ReplyDeleteایک جگہ لڑائی ہو گئی. دونوں فریق سے ایک ایک بندہ قتل ہوا. ایک فریق کا لڑکا عامر نامی غیر شادی شدہ ہے. دوسرے فریق کا لڑکا جنید کے 3 بچے اور بیوی رہ گئی. اور جنید فریق دوم کا دوست تها یعنی وہ خود فریق بهی نہیں تها. کیا قانون بچوں کی کفالت کیلئے کسی بهی ایک فریق پر جرمانہ رکیگی. یا کراس کیس لکھ کر دونوں فریق کو ازاد کیا جائے گا. یا دونوں کو سزا دی جائے گی.
یتیموں کی کفالت کی طرف خاص توجہ دے دیں. کوئی حل بتا دیں.
لام و علیکم جناب میرا مسئلہ یہ کہ پانچ سال پہلے میرے ماموں کے گھر میری میرے بڑے بھائی کی شادی ہوئی شادی سے پہلے ان کی شرط تهی کی اپنی تمام زمین لڑکیوں کو دو لہذا ہم نےبزریعہ تملیک دے دی جو کہ نکاح سے پہلے ہوئی اب جبکہ وہ ناراضگی کیوجہ سے میکے چلی گئی ہیں اور برادری کے سمجھا نے کے باوجود واپس نہی آنا چاہتی اور الٹا ہم کو زمین اور مکان بیچنے کی دھمکی دی رہے ہیں اور عدالت جانے والے ہیں کیا کوئی حل ہے کہ اگر وہ نہی بسنا چاہتی ہماری زمین واپس ہو جائے اور مکان بہی جبکہ زمین کا قبضہ ہمارے پاس ہے
ReplyDeleteلام و علیکم جناب میرا مسئلہ یہ کہ پانچ سال پہلے میرے ماموں کے گھر میری میرے بڑے بھائی کی شادی ہوئی شادی سے پہلے ان کی شرط تهی کی اپنی تمام زمین لڑکیوں کو دو لہذا ہم نےبزریعہ تملیک دے دی جو کہ نکاح سے پہلے ہوئی اب جبکہ وہ ناراضگی کیوجہ سے میکے چلی گئی ہیں اور برادری کے سمجھا نے کے باوجود واپس نہی آنا چاہتی اور الٹا ہم کو زمین اور مکان بیچنے کی دھمکی دی رہے ہیں اور عدالت جانے والے ہیں کیا کوئی حل ہے کہ اگر وہ نہی بسنا چاہتی ہماری زمین واپس ہو جائے اور مکان بہی جبکہ زمین کا قبضہ ہمارے پاس ہے
ReplyDeleteسر اگر کوئی بندہ داعوئ استقرار حق کرکے واپس لے اگر پھر کرے تواس کی قانونی حیثیت کیا ہے
ReplyDelete