Sunday, 13 July 2014

عمران خان کی جانب سے مجوزہ توہین عدالت کا قانونی تجزیہ


عمران خان کی جانب سے مجوزہ توہین عدالت کا قانونی تجزیہ

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کسی بھی معاشرے میں امن وآشتی کا سبب بننے والے اہم ڈیٹیرمینیٹس میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل عامل یہ ہے کہ حکمرانوں کی نیت کیا عوام کی خدمت ہے یا لوٹ مار۔ اِس لیے حکمرانوں نے جب خود ہی لوٹ مار کرنی ہے تو طاہر ہے حکمرانون کی لوٹ مار چھوٹی موٹی تو ہوتی نہیں اِس لیے ان حکمرانوں کے حاشیہ بردار بھی خوب لوٹ مار کرتے ہیں اِس کی واضع مثال حال ہی میں جو حکومت مرکز میں قائم تھی۔ جب انتظامیہ نے اپنا فرغ ادا نہین کرنا تو مجبوراً کسی نے تو اِس خلا کو پُر کرنا ہوتا ہے ِٓس مْصد کے لیے پھر عدلیہ کو فوری ایکشن کے لیے سو موٹو لینا پڑ جاتا ہے اچھی حکمرانی ہو رہی ہو تو عدلیہ کو کام کرنے مین بہت آسانی رہتی ہے۔اِس لیے اگر سو موٹو عدلیہ لیتی ہے تو اِس کے پیچھے یہ اہم مْقصد کارفرما ہوتا ہے کہ اب حکومت اپنا کردار تو ادا نہیں کر پارہی تو اب یہ خلاء کسی نے تو پُر تو کرنا ہے تو اِن حالات میں عدلیہ قومی خزانے کو لوٹ مار سے بچانے کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑتی ہے ۔ پچھلی حکومت میں نااہل قرار دئیے جانے پر جب سابق وزیرِاعظم کو جب توہین عدالت کے کیس کی سماعت کا سامنا تھا تو جناب سابق وزیراعظم ارشاد فرمایا کرتے تھے کی سپریم کورٹ میرے خلاف جو بھی فیصلہ کر لے فیصلے کے اوپر عمل درآمد کے لیے تھانے دار تو میں نے ہی فراہم کرنا ہے یہ ہے رویہ جمہوری عمل کے دوران برسراقتدار آنے والے حکمرانوں کا ۔اِس حوالے سے فوجی آمرووں کی سوچ کیا ہوگی اِس کا اندزہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے موجودہ عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے معاشرے کے تمام طبقہ جات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن اُس کا مطلب یہ نہیں کہ کیونکہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے اب جب ہماری بات نہ مانے جائے تو ہم عدلیہ پر چڑھ دوڑیں اور عدالت کی توہین کے مرتکب ہوں یہ رویہ تو فوجی آمروں اور سابق جمہوری حکومت کے رویے سے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اب جو کچھ ہم نے قربانیا ں عدلیہ کے لیے دی ہیں اُن کا قصاص بمعہ سود مانگا جارہا ہے ۔ اِس طرح کے رویوں سے معاشروں میں تحمل ، بُردباری پیدا نہیں ہوا کرتی یہ تووہی بات ہے کہ نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر، پڑی اپنی بُرائیوں پہ جو نظر تو نگاہ میں کوئی بُرا نہ رہا۔
جب کوئی بھی شخص عدالتی احکامات کو نہیں مانتا یا کسی بھی عدالتی حکم کی بحرمتی کرتا ہے یا کوئی بھی کسی عدالتی حکم یا طریقہ کار کو نہیں مانتا جس کو مانا جانا ضروری ہو یا کوئی بھی شخص کسی ایسے بیا ن سے پھر جائے جو اِس نے عدالت کے سامنے دیا ہو۔اگر کوئی ایسا قدم اُٹھائے جو عدالت کی اتھارٹی کو چیلنج ہو یا دخل اندازی کرئے یا قانون کی عملداری میں Prejudice ہو کسی بھی عدالتی طریقہ کار کو ڈسٹر ب کرئے تو اس امر کو کہا جاتا ہے کہ یہ توہین عدالت ہے ۔ contempt کی تین اقسام ہیں سول،کریمنل اور جوڈیشل۔ (1) ہر superior کورٹ کو توہین عدالت میں سزا دینے کا اختیار ہے(2) ہر ہائی کورٹ کو اپنی ماتحت عدلتوں کی توہین کرنے پر سزا دینے کا اختیار ہے(3) ACT XLV OF 1860 کے مطا بق کوئی بھی ہائی کورٹ اِن کیسوں کی سماعت نہیں کرئے گی جن میں توہین عدالت کی سزا پاکستان پینل کوڈ کے مطابق ماتحت عدا لتوں کو دینے کا اختیار ہو۔مہذب معاشروں میں ادب واحترام برداشت رواداری امن وسکون ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان معاشروں میں قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے اس حوالے سے اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ وہی قومیں اس وقت خوشحال ہیں جو قانون کا احترام کرتی ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کو اُن کی حقیقی روح کے مطابق نہ صرف مانا جاتا ہے بلکہ اُس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ترقی پزیر معاشروں میں کیونکہ کرپشن اور اقربا پروری عروج پر ہوتی ہے اس لیے قانون کی عملداری خام خیالی بن کر رہ جاتی ہے اور یوں عدلیہ پورے وقار کے ساتھ اپنے فیصلوں کو نہیں منوا پاتی۔ گویا توہینِ عدالت کا سرزد ہونا جان بوجھ کر ان معاشروں میں نہیں ہوتا بلکہ عدالتی احکامات کو ماننا بااثر طبقہ جات کے لیے اُن کی اپنی توہین کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں عدلیہ کے ساتھ بااثر طبقے تو معاذآرائی تو ہر دور میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن حکومتِ وقت بھی کسی طرح بھی عدالتی فیصلوں پر خوشی کا اظہار نہیں کرتی بلکہ عدالتی فیصلوں کو نہ ماننے کی ترغیب دینااُس کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔پاکستان کی عدالتی تارئیخ جو نظریہ ضرورت نامی بدنما دھبے کی گواہ ہے وہ نظریہ ضرورت کبھی فوجی ڈکٹیٹروں کی چرھائی کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتا رہا اور کبھی نام نہاد جمہوریت پسندوں نے عدالتوں کا گلہ گھوٹنے میں کو کسر نہ چھوڑی۔ عدالتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عدلیہ کو قابو میں رکھنے کے لیے مقننہ اور حکومت نے اپنے سارے داؤ پیچ استعمال کیے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد
سکندر مرزا ایوب خان،یحیےٰ خان ، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف ، نواز شریف اور بے نظیر کے ادوار میں عدالتوں کو دبانا اور اپنے حق میں فیصلے کروانا عام دستور رہا ہے۔ اس حوالے سے جناب آصف علی ذرداری کا دور اپنی مثال آپ ہے کیونکہ اس دور میں زرداری صاحب کا سامنا ایک ایسی عدلیہ کے ساتھ تھا کہ جس نے مشرف جسے نام نہاد کمانڈو کو ناکوں چنے چبوادیے اور مشرف خود ساختہ جلاوطنی کا ڈھونگ رچائے بیٹھا رہا۔ عدلیہ سول سوسائٹی، وکلاء نے وہ ا نقلا ب آفرین کردار ادا کیا کہ تیسری دنیا کے غریب ملکوں میں اس کی مثال ملنا عبث ٹھرا ہے۔ پاکستانی معاشرئے میں موجودہ نفسا نفسی کے عالم میں جب کے اقدار نام کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کی جاتی وہاں عدالتوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ یہ مقننہ کی ذمہ داری ہے آپکی نہیں۔ جناب زرداری کے دورِ اقتدار میں جس جس حکومتی شخصیت یا بیوروکریٹ نے عدالتی احکامات کا مذاق اُڑا یا اُس اُس شخص کو زرداری حکومت بڑے بڑے عہدوں سے نوازتی رہی حتیٰ کہ بدنامِ زمانہ رینٹل پاور کیس کے اہم کردار بھی عدالت کی طرف سے چور ڈاکو قرار دئے جانے کے بعد اسی ملک کے وزیر اعظم بنا دئیے گئے۔ 5 مارچ 2013 کو چیف جسٹس آف پاکستان نے این آئی ایل سکینڈل کیس میں توہینِ عدالت کے نوٹس کے باوجود ڈائرایکٹر ایف آئی اے لاہور وقار حیدر کو بحال رکھنے پر ڈی جی ایف آئی اے کو فوری طور پر طلب کر لیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جس افسر کے خلاف توہینِ عدالت کی سپریم کورٹ کاروائی کر رہی ہے وہ ابھی بھی ڈائریکٹر شپ کے مزے لوٹ رہا ہے عدالت کو تماشا بنایا ہوا ہے جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل درآمد ہی نہیں کیا جاتا آخر ایف آئی اے چاہتی کیا ہے یہ عدالتی احکامات کے ساتھ زیادتی ہے اگر ایف آئی اے ہمارے احکامات پر عمل نہیں کرتی تو کس سے گلہ کرے حکومت کو جو بھی حکم دیتے ہیں اس کے برعکس سرگرمی شروع ہو جاتی ہے ہمارا مخالف سرکار کے نزدیک نیک اور پارسا بن جاتا ہے(رپورٹ دی نیوز مورخہ 6 مارچ 2013) یہ رویہ ہے اُس جمہوری حکومت کا جس کے متعلق با ر بار گلے پھاڑ کر کہا جاتا ہے کہ اِس جمہوری حکومت نے اپنی مقررہ مدت پوری کی ہے۔ اگر جمہوریت میں عدالتوں کی توہین کا یہ عالم ہے تو پھر فوجی ڈکٹیٹروں کا کیا عالم ہوگا کہ عدالتِ عظمیٰ کے چیف یہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عدالتوں کی مخالفت کرتا ہے اُسے حکومت کی آشیر باد حاصل ہو جاتی ہے اور وہ حکومت کے نزدیک پارسا نیک گردانا جاتا ہے۔ توہین عدالت کے قانون کے سیکشن 5 کے سب سیکشن 1
کے مطابق ایسا کوئی شخص جو کہ توہین عدا لت کا مرتکب ہو ا ہو تو اُسکو چھ ماہ قید یا جرمانہ جو کہ ایک لاکھ تک ہوسکتا ہے یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ سیکشن 5 کے سب سیکشن 2 ؁ٓ کے مطابق اگر کوئی شخص جس پر الزام ہو کہ وہ توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے اور کیس کے کسی بھی مرحلے پر معافی مانگنے کی صورت میں عدالت اگر سمجھتی ہے کہ ملزم نے معافی صدقِ دل سے مانگی ہے تو عدالت اُے معاف کرکے سزا ختم کرسکتی ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ ملزم حقیقی معنوں میںیقین واعتماد رکھتا ہو کہ اُس سے توہین عدالت سرزد نہیں ہوئی۔سب سیکشن 3 کے مطابق اگر توہین عدالت کمپنی کی طرف سے ہوئی ہو تو اِسکی ذمہ داری اُن افراد پر ہوگی جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کمپنی کے امور کے ذمہ دار ہیں اُن کو اس میں سزا ہوگی۔ سب سیکشن 4 کے مطابق کوئی بھی عدالت سزا کا حکم اُسے نہیں دے سکتی جس کو سب سیکشن1کے تحت استشناٰ حاصل ہو۔ سیکشن 6 کے مطابق کرمنیل کنٹمپٹ اُس وقت ہوگی جب (a) کوئی گواہی پر یا متوقع گواہو ں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرئے (b) کسی بھی جج پر غلط طریقے سے اثر انداز ہو یا اثر انداز ہونے کی کوشش کرئے یا کسی بھی کیس کی سماعت کے دوران اپنی مرضی کا حکم لینے کے لیے اثر انداز ہو تو یہ امر کریمنلِ توہینِ عدالت کے زمرے
میں آتا ہے۔(c) ایسا کو ئی بھی ایکٹ جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنے۔ سیکشن 7 توہین عدالت آرڈیننس 2004 کے مطابق سپیرےئر کورٹ (1) سوموٹو ایکشن لے سکتی ہے (2) کسی بھی شخص کی طرف سے توہین عدالت کا مسلۂ اُٹھائے جانے پر جو کہ متعلقہ شخص کے کیس سے منسلک ہوئی ہو (3) صوبائی یا وفاقی حکومت کے افسر کی طرف سے درخواست دئیے جانے پر،
سیکشن 8 (1) کے مطابق اگر عدلیہ کی کاروائی کی FAIR REPORTING کی گئی ہو تو اس پر توہین عدالت نہیں لگائی جاتی ہے۔(2) عدالت انصاف کے مفاد میں عدالتی کاروائی کو شائع کرنے سے روک بھی سکتی ہے۔ سیکشن 9 کے مطابق اگر کسی جج پر ذاتی طور پر کوئی تنقید کی گئی ہو اور یہ تنقید IN GOOD FAITH کی گئی ہو تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں ہو گئی۔سیکشن10 کے تحت اگر کسی عدالتی فیصلے پر عوامی اہمیت کے تحت کوئی رائے ظا ہر کی جائے تو یہ بھی توہین عدالت کے زمرے میں نہیں ہوگا۔ سیکشن 11 کے مطابق جوڈیشل CONTEMPT کے حوالے سے سپیرئر کورٹ از خود ایکشن لے سکتی ہے یا کسی شخص کی جانب سے توجہ دلائے جانے پر ایکشن لیا جاسکتا ہے۔سیکشن 12 سول CONTEMPT از خود نوٹس کے تحت یا متاثرہ شخص کے توجہ دلانے پر عدالت کاروائی کرے گی۔ سیکشن 13 کے مطابق اگر عدالت کے سامنے توہین عدالت کی گئی ہو تو عدالت توہین کرنے والے ملزم کو قید کر سکتی ہے یا پھر سب سیکشن 2 کے مطابق جو طریقہ کار ہے اُس پر عمل ہو گا۔مندرجہ بالا قانون کی دفعات کا تفصیلی جائزہ اِس بات کی دلالت ہے کہ عدالتوں کا احترام لازم ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ججز کونسا فرشتے ہیں اِن کی ہر بات ضروری نہیں کہ درست ہے ، ٹھیک ہے یہ استدلال بھی لیا جاسکتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ جب عدالتوں کے بارئے میں یہ عمومی رویہ رواج پا جائے تو پھر کونسی عدالت کو نسا احترام یہ تو سب کچھ تباہ و برباد کرنے والی بات ہے لیکن یہ کہنا کہ ججز کونے فرشتے ہیں یہ رویہ درست نہ ہے۔ دو اگست دو ہزار تیرہ کو سپریم کورٹ مین عمران خان صاحب کے مبینہ توہینِ عدالت کے کیس میں جناب جسٹس ایس جواد خواجہ نے بجا فرمایا ہم تو شیشے کے گھر میں رہنے والی مچھلیوں کی مانند ہیں ہر کوئی ہم پر اعتراض کرتا ہے لیکن ہم تو کسی اعتراض کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ جسٹس افتخار چوہدری صا حب کی رائے یہ تھی کہ عمران خان صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں جو یہ بات کہی ہے کہ حالیہ الیکشنز میں عدلیہ کا کردار شرمناک رہا یہ غلط بات ہے اِس سے عدلیہ کا امیج متاثر ہوتا ہوا ہے اور جناب افتخار چوہدری صاحب کی یہ بھی رائے تھی عمران خان کا قومی قد کاٹھ ایساہے کہ اُنھیں اِس طرح کی بات نہیں کرنا چاہیے تھی ایک موقع پر جناب جسٹس افتخار چوہدری صاحب نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کا یہ کہنا کہ وہ عدلیہ کی بحالی کے جیل گئے تو اِنھیں یہ بات نہیں کرنی چاہیے۔ جسٹس ایس جواد خواجہ نے عمران خان کے جواب الجواب کو مایوس کُن قرار دیا۔عدالت کو اگر ہم اکھاڑہ بنا دیں گے تو پھر تو عدالتوں کا احترام نہیں رہے گا اِس لیے ضرورت اِس امر کہ ہے جس عدالت سے ہم انصاف کے خواہشمند ہیں اُس کا احترام بھی کریں اگر سب کا پنا اپنا سچ اور اپنا اپنا جھوٹ ہے تو پھر عدالتوں کو بند کردئیں اور جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون لے آئیں۔

No comments:

Post a Comment