Thursday, 28 August 2014

پاک سر زمین پاکستانیوں کے لیے غنیمت ............ میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

 

پاک سر زمین پاکستانیوں کے لیے غنیمت

 میاں اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


جیسے ہی بھارت کے نئے آرمی چیف نے عہدہ سنبھالا ہے پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے سیالکوٹ سیکٹر میں آئے روز بھاری فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ معمول بنا ہوا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سیکرٹری کی سطح کی ملاقات جو اگست میں ہونا تھی اُس کو بھی منسوخ کر دیا ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستانی سفیر جو کہ ہندوستان میں متعین ہیں اُھوں نے کشمیری حریت پسند لیاڈر سید شبیر شاہ سے ملاقات کیوں کی ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کو بھارت میں بالعموم اور کشمیر میں بالخصوس اجیرن کر دیا گیا ہے۔اللہ پاک نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایاہے اور راہنمائی کے لیے اپنی محبوب ترین ہستی نبی پاکﷺکومعبوث فرمایا پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیاعصمتیں لٹ گئیں گھر بار تباہ و برباد ہوگئے ۔ محمد علی جناحؒ کی دوربین آنکھوں نے اس بات کا احاطہ کرلیا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ہندووں کے دستِ نگر بن کر رہ جائیں گے اِس لیے سرسید احمد خان، مولانا احمد رضا خان ؒ آف بر یلی شریف،ڈاکٹر اقبالؒ ، مولانا نعیم مراد آبادی، پیر جماعت علیشاہؒ ودیگر قائدین نے پاکستان کو قائم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ پاکستان کا قیام اولیااکرامؒ کا فیضان ٹھرا اِس وطن کے لیے اللہ پاک نے محمد علی جناحؒ کی خاص مدد فرمائی اور نبی پاکﷺ نے بھی محمد علی جناحؒ کو حکم فرمایا کہ تم لندن کو چھوڑو اور جاکر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ملک بناؤ۔یہ ملک جغرافیائی لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے معدنیات کی دولت سے مالا مال، بہترین آب پاشی کا نہری نظام زرخیز مٹی، چار موسم سب کچھ تو ہے ہمارئے وطن میں۔ اِس کے باوجود پاکستان مردِ بیمار کیوں بنا ہوا ہے۔ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن، جس دین اسلام نے یہاں کے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا بننا تھا اُس اسلام کو الوداع کہہ جا چکا ہے۔ذات پات، نسل، فرقہ واریت میں بٹ کر پاکستانی قوم کس طرح اپنے وہ اہدا ف حاصل کر سکتی ہے جن کے لیے یہ وطن بنایا گیا تھا۔اگر ہم بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حالات دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے انتہائی بُری حالت، نہ سرکار کی طرف سے نوکری اور نہ ہی تعلیم کے مواقع۔ وہ کام جو کہ انتہائی نچلے درجے کے ہیں وہ کام مسلمان وہاں جو کرتے ہیں حتی کہ اگر کوئی امیر مسلمان کہیں گھر خریدنا چاہے تو ہندو اُس کو اپنے علاقے میں جائیداد نہیں خریدنے دیتے۔ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں غدار سمجھا جاتا ہے۔معاشی اور سماجی طور پر مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے۔باعزت روزگار نہ ہے۔آئے روز مسلم کُش فسادات شروع ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جاتا ہے۔موجودہ دور میں بھارت میں مسلمانوں کی حالت کا ادراک کر لینے کے بعد پاکستان اللہ پاک کی غنیمت محسوس ہوتا ہے۔اِس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے امریکہ اسرائیل بھارت پاکستان کے وجود کے درپے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان بنایا گیا اُن پر ایک مرتبہ بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اِس ملک کے سرمایہ دار، جاگیردار،وڈیرئے جعلی گدی نشین اِس ملک کی قسمت پر اُلو کی طرح براجمان ہیں۔لیکن اُس کے باوجود اگر ہم ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہیں کہ وہ وہاں شودروں کی سی زندگی گزار رہے ہیں اور خوف کی فضا اُن کے لیے ہے تو پاکستان کا وجود غنیمت محسوس ہوتا ہے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر پاکستانی اپنے فرائض اد اکرئے اور اِس طرح اُسے اپنے حقوق بھی میسر آئیں گے۔پاکستانی قوم کو جس طرح سرمایہ داروں جاگیر داروں نے یرغمال بنا رکھاہے اُس سے عوام اتنے پس چکے ہیں کہ پاکستان کی تخلیق کا مقصد بھی خدانخواستہ اپنے معنی کھوتا جارہا ہے۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ 1857 سے لے کر 1947 تک کا نوئے سالہ دور مسلمانوں نے شدید ابتلاء میں گزارا۔ معاشی سماجی سیاسی عمرانی ہر لحاظ سے پستی مسلمانوں کا مقدر بن چکی تھی۔ان حالات میں خطے میں امن وسکون کے لیے بہتر یہ ہی تھا کہ مسلمانوں کی علیحدہ ریاست ہو۔اگر پاکستان کی تخلیق کے حوالے سے دیکھا جائے تو بھاری مسلامنوں کی جو حالت بھارت میں ہے وہ کوئی ڈھکی شھپی نہیں۔ اِسی رمضان کے بابرکت مہینے میں موجودہ وزیراعظم مودی کی بضل بچہ تنطیم مسلمانوں کے روزئے تڑوا رہی ہے۔ یہ ہے بھارت کا سیکولر ہونا۔پھر مسلامنوں کے ساتھ جس طرح کو سلوک ہندوستان میں رکھا جاتا ہے اُس کی مثال یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں کو غدار سمجھتے ہیں۔
ُٓلفظ پاکستان اور اسلام،الفاظ نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام اس طرح ایک دوسرے کے ہم مترادف ہیں کہ شائد اُردو زبان اُسکی وسعتوں کا احاطہ کرنے میں اتنی ہی آسانی محسوس کرتی ہے جتنی آسانی سے محبت اور پیار کے الفاظ بولے جانے کے لائق ہوں۔انسانی جبلت میں پیار اور محبت رچا بسا ہے۔نام نہاد دانشور اپنے غیرملکی آقاوٗں کی خوشنودی کی خاطر پاکستان کے خلاف زبان درازی کرکے اور پاکستان کی تخلیق کو انگریز کی سازش گردان کر درحقیقت ابلیس کی پیروی کا فریضہ ادا کرنے کی سہی میں لگے رہتے ہیں۔ برِ صغیر میں دو قومی نظرئے کی کوکھ سے اْبھرنے والا نظریہ دراصل اپنے تمام معانی، مصادر منابع کے نقطہ نظر سے نظرۂ قرآن اور نظرۂ اسلام ہے۔ کیونکہ تحریک پاکستان کے مراحل کے دوران اسلامیان ہند نے جو نظریاتی نعرہ بلند کیا تھا وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ ا لاللہ۔ پاکستان عالیشان کا وجود باسعود ، ایک مرد قلندر ، مرد حریت اور مرد ایمان اور مرد امتحان ، حضرت قائداعظم ؒ ، کی محنت شاقہ کی بدولت ہوا ۔ حضرت علامہ اقبال ؒ کی روحانی اور ایمانی الہامی شعری کا وشوں نے اپنا رنگ دکھیا اور انہوں نے برصغیر کی غلامی میں پھنسی ہوئی مسلمان قوم کو احساس تفاخر ور خودی کی بیداری کا پیگام دے کر انہیں آزقدی کے اوج ثریا تک پہنچانے کیلئے اپنا خون جگر عطا کیا ۔علم و عقل میں اگر تضاد اور تصادم رہے گا تو ظاہر ہے کہ اس بنی ہوع انسان میں انتشار اور تخریب کا باعث بنے گا ، اور بالآخر قومی زوال کا پیش خیمہ ۔ خدائے بزرگ و برتر نے اْن افراد کو یہ اعزاز عطا فرمادیا ۔ جنھیں دائرہ اسلام نے اسلام میں داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا، وہ افراد دنیائے انسانیت کے خوش قسمت ترین انسان ہیں جنہیں حضور اکرم ﷺ کے یک امتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دین اسلام نے مسلمانوں کے قلوب و ارواح میں جس فلسفہ توحید کو موجزن اور مرتسم کیا ہے، اْس سے ان میں فکری وحدت ، تہذیبی ہم آہنگی ، دینی حریت ور نسانی سطح پر احساس تفاخر کی تخلیق ہوئی ۔ جب قلوب و اذہان میں تصور توحید جلوہ گر نہ ہو انسان کی شخصیت میں وحدت پیدا نہیں ہو سکتی، ظاہر ہے کہ مسلمان ایک باری تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر پختہ ایمان و ایقان رکھے گا ، تو جب ہی اپنے ندر بھی وحدت پیدا کرے گا ۔ اس تمام فلسفہ حیات کا منبع ، ماخذ، روح، اساس ، سرچشمہ اور بنیاد قرآن الحکیم ہے۔ اس نظرئے کو قرآن کی تعلیمات اور حکام کے پیش نظر مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت داتا گنج بخش ؒ اور دوسرے اولیائے کرام اور مجتہدین قابل صد احترام نے اسی نظرئے کو اپنے خون جگر سے سینچا اور روحانی کمالات سے اس عظیم عمارت کی بنیاد وں کو استحکام سے ہمکنار بھی فرمایا۔ انہی بابرکت اور روحانی شخصیات کی تعلیمات مقدسہ نے حضرت علامہ اقبال ؒ اور حضرت قائد اعظم ؒ کے افکار ملہ اور قومی نظریات ، دینی، اسلامی ، قومی امنگوں کا رنگ بھر دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا ۔ انہیں انتشار ونکبت سے جگایا او ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا ۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر ، خطابات ، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا ‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا ‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2
یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا میعار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک دوسری غیر مسلم ۔ ایک مومن اور دوسری کافر یہی وہ فلسفہ فکر نظر تھا کہ حضرت نوح ؑ اپنے سے الگ ہو گئے اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظرۂ حیات مبنی بروحی سے ہم رمگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے حضرت ابر اہیم ؑ کو کہنا پڑا۔ (یعنی تم میں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کے لیے کھلی عداو ت اور نفرت رہے گی۔)چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم کا داخل نہ تھا ۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم ، ملت اسلامیہ کا ف رد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا ۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب ، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی ۔ برادری ، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجماں تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نظرۂ پاکستان کا آغاز ، تشکیل ، اور تراویح برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انھطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے مظالم کا گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’ مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب \'freedom at midnight\' اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’ برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں ، دیالوں ، بگوپالوں ، مہاجروں، ساہنیوں ، دھوتی پرشادوں ، چٹیا گھنٹانوں ، ایڈانیوں ، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کو منسخ کر کے دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا اسیک بازو کٹ گیا چنانچہ اندر گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا ، اس جذبہ محرکہ کو جس تصور ، خیال ، اصول ، جابطے یا نقطہ نظر نے تخلیق کیا اسے نظرۂ پاکستان کا نام دیا گیا ۔ جسے انگریزی میں Iddeology of pakistan کہتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت قائداعظم 1944ء ؁ میں مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان مطالبہ کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی۔ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس کی وجہ نہ ہندوں کی تنگ نظری ہے۔ نہ انگریزوں کی چال ، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اور یہی دراصل مطالبہ نظرۂ پاکستان کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسللہ یہ ہے کہ تکلیف صرف اسلام سے ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد جس طرح اس کے زمین و آسمان بدل جاتیہیں وہ عجیب کیفیت ہے، اس کے خیالات و تصور ات اس کے جذبات و احساسات اور انسانیت کے جملہ تمام اطوار یکدم وحدہ لاشریک کی ذات اقدس سے جڑ جاتے ہیں اور پھر۴ اس کا رخ ممبئ کلکتہ اجودھیا دہلی اور بجنور سے مکہ اور مدینہ کی طرف ہو جاتا ہے اس روحانی اور دینی تبدیلی کی مسٹر گاندھی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ان سے پہلے ہو گزرے مہاپرشوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی، ان مہا گرووں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی ، اور نہ ہی آسکتی تھی اور
اب یہ کیفیت کا فرما ہے مسٹر گاندھی عجیب مکاریت و فریب کاری کے انداز گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک سیدھا سادھا سا ہندو جب مسلمان ہو جاتا ہے تو دنگی، فسادی اور لڑاکا ہو جاتا ہے۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا جب اسے اپنے نظریے کی پاسبانی کرنا پڑے گی ۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا ، جب ناموس رسالت ﷺ پر خدانخواستہ حرف آئے گا ۔ دنگئی تو لازمی ہو گا کہ جب وہ وحدہ لاشریک کی شان میں کوئی غیر قوم کا فرد گستاخی کا مرتکب ہوگا۔ قرآن پاک پر رکیک حملوں کا جواب تو پھر وہ پنی جان پر کھیل کر دے گا اور شہادت کے مقام اولیٰ کو مسکراتے ہوئے حاصل کرنا قاپنا دینی اور اسلامی فریضہ سمجھے گا۔ یہی وہ جذبہ اسلام ہے ، یہی وہ قرآنی برکت ہے یہی وہ دو قومی نظریے کی بنیا د ہے۔ یہی دوقومی نظریہ اپنی روقحانی معنویت اور اسلامی قومی نظریات و تصور کی شکل میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نظرۂ پاکستان کی شکل میں نمودار ہوا۔ پاکستان کی تخلیق میں لاکھوں اسلامیان ہند نے شہادتوں کا خون عطا کیا لاکھوں مسلمان عورتوں اور بچون نے قربانیاں دیں ، پاکستان کو انگریزوں اور ہندوں نے آسانی سے قبول نہیں کیا تھا۔ پاکستان انگریز نے طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا تھا ۔ تقسیم ہند نہ انگریزی بادشاہت کو پسند نہ تھی ، نہ برطانوی پارلیمنٹ ، نہ برطانوی حکومت ہند، نہ وائسرائے صاحبان ، نہ انڈین نیشنل کانگریس ، نہ مسٹر گاندھی ، نہرو پٹیل اور راجگو پال اچاریہ وغیرہ، لارڈ مونٹ بیٹن جو آخری وائسرائے ہند تھا۔ اسے تقسیم ہند سے ویسے ہی چڑ تھی۔ جمیعت العلمائے ہند کی اکثریت مخالف چند اور اسلام پسند گروہ بھی قائداعظم ؒ پر رکیک حملوں سے باز نہ آرہے تھے۔ اکثر مسلمان اکابرین جو کانگریس کے متاثرین میں سے تھے یہ تقسیم پسند نہیں فرما رہے تھے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی خاص طور پر شامل تھے۔ یہ حضرت قائد اعظم ؒ کی سیاسی صداقت اور ولولہ انگیز قیادت اور مومنانہ شان و شوکت کا اعجاز تھا کہ بڑے بڑے برج گرتے چلے گئے بڑے بڑے طوفان اپنی اپنی راہ لیتے رہے بڑے بڑے پہاڑ چکنا چور ہو جاتے رہے۔ اور وہ سرحدیں قیام پزیر ہوئیں جنھوں نے معرکہ بدرو حنین کی یاد دتازہ کردی ۔ یہ سرحدیں کچے دھاگے کی سرحدیں نہیں یہ اینٹوں گارے ، سیمنٹ اور ماربل کی بنائی ہوئی دیوار نہیں ’’ لاالہٰ الاللہ محمد الرسول اللہ‘‘ کے اسلامی اور قرآنی نظریے اور ایمان پر قائم کردہ دیواریں ہیں ۔ جو قیامت تک قائم رہیں گی، حضرت قائداعظم ؒ نے اسی لیے قیام پاکستان کے بعد 30 اکتوبر 1947ء ؁ کو فرمایا تھا ہم نے پاکستان حاصل کر لیا کسی خونی جنگ کے بغیر امن کے ساتھ اخلاقی اور ذہنی قوت کے بل بوتے ، پر یوں ہم نے ثابت کر دکھایا کہ ہم سچے اور ہمارہ مقصد بھی سچا تھا ، پاکستان اب ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں سبق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذکر بے جانہ ہوگا، جب اندرا گاندھی (وزیر اعظم بھارت) نے یہ بیان بڑے فخر وتکبر اور فتح کے نشے میں دیا کہ آج ہم نے قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور ٓج ہم نے ہزار سال کا بدلہ لے لیا۔ اب توجہ توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ کدس نے کس سے یہ بدلہ لیا اور خلیج میں ڈبو دیا ، سگر ہم یہ کہیں کہ اندرا گاندھ نے کتنی غیر منظقانہ معصومیت مین بیان داغا تھا اس قابل رحم خاتون کو معلوم ہی نہیں کہ دو قومی نظریہ اور نظرۂ پاکستان کے اصل مفاہیم و مطالب اور ابدی توجیہات و تفاسیر کیا ہیں اسلام اور قرآن کی روشنی میں اگر ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر میں زندہ ہےتو دو قومی نظریہ اپنی کامل جولانیوں کے ساتھ موجود ہے ، نظرۂ پاکستان مکمل طور پر قائم ہے۔ اسلام کا جھنڈا موجود ہے۔ اگر نظرۂ پاکستان اپنی اصلی اور ازلی حقائق کے نقطہ نظر سے مقصود ہو گیا ہوتا تو بنگلہ دیش جسے آج ہم سابق مشرقی پاکستان کہتے ہیں ہندوستان کا کوئی با جگر حصہ بن چکا ہوتا ، لیکن ایسا ایسا نہیں ہوا وہ پاکستانی حضرات جنہیں پاکستان نے اعلیٰ ترین مقام سیاست و قیاست پر متمکن کر رکھا اب جلوہ افوذ ہیں ، ثولیدہ ، نظریاتی علم سے عاری ، تحرک پاکستان کے دلدوز لمحات و واقعات سے ناواقف ، حضرت قائداعظم ؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ سے بغض ، کینہ اور نفرت رکھنے والے ایسے قابل تعظیم افراد پاکستان کی کیا خدمت کر رہے ہو نگے اور جنہیں باقلخصوص قیامت کے روز حضرت قائد اعظم ؒ کے حضور کیا جوابدہی دینا ہو گی۔ جو نظریہ پاکستان اور تخلیق پاکستان کے بارے میں مشکوک الایمان اور متزلزل عقائد کے علمبردار ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑی اور کوئی بد قسمتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان مشیت ازادی ہے، اور حضرت قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ سات سات ولیوں کی قوت ایمانی والی شخصیات تھیں ۔ اگر پاکستانی دانشور ان کرام، اساتذہ کرام طلبہ و طالبات کبھی ٹھندے دل سے غور فرمائیں ککہ مشرقی ہپاکستان کی علیحدگی میں اہم کردار ادا کرنے والوں کا کیا حشر ہوا وہ پاک و ہند کی سیاسی اور قومی تاریخ کسے ابواب میں قیامت تک کھڑے عبرت نشان عبرت بن کر رہ گئے۔ اندرا گاندھی کا یہ حشر ہوا کہ اسے سپنے باڈی گارڈ نے گولیوں سے اڑا دیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو اپنی ہم قوم فوج کے افسران نے گولیوں سے اْڑا دیا۔ کسی متعلقہ فرد کو بھی زندہ ہیں چھوڑا ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو وجود مسلمانوں کے لیے ایک بہت بری غنیمت ہے اور ہندوستان میں جو ظلم وستم مسلمانوں پرڈھائے جارہے ہیں وہ نریندر مودی کی مسلم دشمنی کے عکاس ہیں۔ لیکن پاکستانی قوم بھارتی وزیر اعظم کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ائے نریندر مودی تم امریکہ اسرائیل کا بغل بچہ بن کر مسلمانوں پر جو طلم ڈھارہا ہے اور پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر جو چھیڑ خانی کر رہا ہے یہ نہ ہو کہ عشق مصطفے کریمﷺ سے اپنے دلوں کو روشن کرنے ولاے نوجوان بھارت کو کئی حصوں میں تقسیم کردیں۔







شفاق احمد ا ASHFAQ AHMAD BS GREAT WRITER, BROADCASTER, SUFI, ....... WRITTEN BY ASHRAF ASMI ADVOCAGE



ا شفاق احمد  








  پیدائش: 22 اگست، 1925ء
انتقال: 7 ستمبر، 2004ء

اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔
وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔
ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔
ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔
ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔
کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویے کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

Wednesday, 27 August 2014

PREVENTION OF GAMBLING ACT ,1977 , BY MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT, HUMAN RIGHTS ACTIVIST



 

PREVENTION OF GAMBLING ACT ,1977

ACT XXVIII OF 1977

MIAN ASHRAF ASMI

ADVOCATE HIGH COURT

                            An Act to provide for the prevention of Gambling
                 (Gazette of Pakistan , Extraordinary , part 1, 25th may ,1977)
The following Act of parliament received the assent of the president on the21stmay 1977 ,and is here by published for general information .
Where it is expedient to provide for the prevention of gambling . 
And whereas the proclamation of Emergency referred to in Article 280 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan is in force ,.
It is hereby enacted as follows.
1.Short title ,extent and commencement. This Act may be called the prevention of Gambling Act , 1977 .
(2)it extends to the whole of Pakistan .
(3) it shall come into force at once.
2.Definition. in this Act unless ,there is anything repugnant in the subject or context .
(a)common  gaming –house , means any house ,room tent , enclosure , vehicle , vessel or other place , whatsoever in which any instrument of gaming are kept or used for gaming purpose –
(i)with a view of profit or gain of any person awning occupying or keeping such house room , tent , enclosure vehicle , vessel or other place whether by way of charge for the use of such house , room tent enclosure, vehicle vessel or place or instrument otherwise howsoever , or
(ii)with or without a view of such profit or gain ,if the gaming for the purpose of which such instruments are so kept or used in gaming or any figures or number or dates to be subsequently ascertained or disclosed or on the occurrence or non-occurrence of any natural event ,
(b) gaming includes wagering or betting ,including  a wager or bet made in respect of any horse , mare or gelding running in competition with any other horse , mare or gelding ,or of the rider thereof                
(c) instruments of gaming ,includes any article used or intended to be used as a means or appurtenance of , or of carrying on or facilitating gaming and any document used as a register or record or evidence of any gaming ,and .
(d) prescribed means prescribed by rules made under this Act .
3.Penalty for owning or keeping or having charge of a common gaming house . (1) whoever -----
(a) being the owner or occupier, or having the use of any house room ,tent enclosure ,vehicle ,vessel or other place ,keeps or uses ,or knowingly or willfully permits the same to be occupied kept or used by any other person as a common gaming-house or
(b) has the care or management or in any manner assists in conducting the business ,of any common gaming house ,or
(c) advances or furnishes money for the purpose of gaming –house , shall be punished with imprisonment for a term which shall not be less than one month nor more than one year , or with fine which shall not be  less  than one hundred rupees nor more than one thousand rupees ,or with both.
(2)  in a prosecution under sub – Section (1), it shall not be necessary to prove that the person found playing was playing for any money , wager or stake ,.
4.Penalty for being found in common gaming –house .(1)whoever is found in any common gamin-house playing or gaming with cards ,dice ,counters ,money or  other instruments of gaming ,or for the purpose of gaming ,whether for any money ,wager or stake or otherwise shall be punished with imprisonment for a term which may extend to one year ,or with fine which may extend to five thousand rupees or with both.
(2)Any person found in any common gaming –house during any gaming or playing there in shall be presumed, until the   contrary be proved, to have been there fo the purpose of gaming .
5.Penalty of gaming in a public place .Whoever is found gaming in any public place ,street or thoroughfare ,shall be punished with imprisonment for a term which may extend to one year , or with fine which may extend to five hundred rupees ,or with both .
Site plan prepared by police established beyond any doubt that place of alleged gambling was inside the house of petitioner ,which fact was even supported by the contents of ir where in word , Baithak , was used .this implied that the said room was located inside the house from where the petitioner and others were apprehended by the police .s.5was not applicable as it was only restricted to cases of gaming in the public pace , street or a thoroughfare . Raid was conducted in violation and disregard of the mandatory provisions of the Ordinance 1978 PLJ 2007 CRC (LAHORE) 496.
6.Penalty for gaming in private place etc . Whoever is found gaming in any house .room tent ,enclosure ,vehicle ,vessel or other place shall be punishable with imprisonment for a term which may extend to two years or with fine which may extend to one thousand rupees , or with both .
7.Enhanced punishment for subsequent offences .Whoever having been convicted of any offence under this Act ,again commits any such offence shall be punishable for every such subsequent offence with imprisonment for a term which may extend to three years, or with fine which may extend to two thousand rupees ,or with both .
8.Power to enter and search .if a District Magistrate ,Sub Divisional Magistrate ,Magistrate of the First Class upon information and after such in inquiry as he thinks necessary ,has reason to believe that any place is used as a common gaming –house ,or  that an offence under Section 6 is being committed at or in any place ,he may .
(a)enter such place at any time with such assistance as he may require and using such force as may be necessary .
Provided that ,if such place is in the actual occupancy of a woman who according to custom ,does not appear in public ,the officer so entering such place shall give notice to her that she is at liberty to withdraw and ,after allwing reasonable time for her to withdraw and giving her reasonable facility for withdrawing ,may enter the place .
(b)search such place for any instrument of gaming  kept or concealed therein ,and also the person of all those who are found in that place ,except the woman .
(c) seize and take possession of gaming moneys and securities of money and articles of value reasonably suspected to have been used or interded to be used for the purpose of gaming which are found therein or upon any person found therein and
(d) take into custody all person ,except woman ,found in that place whether or not than actually gaming .
9.Presumption with respect to common gaming –house and persons present therein .when any cards ,dice ,gaming –tables gaming clothes gaming –boards or other instruments of gaming are found in any house ,room ,tent ,enclosure ,vehicle vessel or other place entered or searched under the provisions of Section 8.or upon any person found therein it shall be presumed until the contraty is proved ,that such house room ,tent enclosure ,vehicle, vessel or other place is used as a common gaming –house and that any person found therein was there present for the purpose of gaming ,although no play was actually seen by the officer making the entry or search .
10 .Tender of pardon to n accomplice . Any person who shall have been concerned with any gaming contrary to this Act and who shall be examined as a witness before a Magistrate on the trial of any person for a breach of any of the provisions of this Act relating to gaming and who upon such examination ,shall in the opinion of the Magistrate makes ture and faithful discovery to the best of his knowledge of all things as to which he shall be so examined mshall thereupon receive from the said Magistrate a certificate in writing to this effect and shall be freed from all prosecution under this Act for any thing done before that time in respect of such gaming .
(11.Saving . Nothing in this Act shall apple to games played ina Tourist complex which is established and maintained under and in accordance with the terms of ,a  licence granted by the provincial Government and to which only foreigners are admitted .
12.Act to override other laws ,etc .(1) this shall have effect notwithstanding anything contained in any other law for the time being in force .
(2)The following enactment are hereby repealed namely .
(a)The Baluchistan prevention of Gambling ordinance 1961(W.P. Ordinance 1 o 1961)
(b)The West Pakistan prevention of gambling ordinance 1961(W.P .Ordinance 1of 1961)
(c)the Punjab prevention of gambling Ordinance , 1961 (W.P ordinance 1of 1961)and
(d)The sindh prevention of gambling ordinance , 1961 (W.P Ordinance 1 of 1961)
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Sunday, 24 August 2014

پاک سر زمین پاکستانیوں کے لیے غنیمت



پاک سر زمین پاکستانیوں کے لیے غنیمت

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

جیسے ہی بھارت کے نئے آرمی چیف نے عہدہ سنبھالا ہے پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے سیالکوٹ سیکٹر میں آئے روز بھاری فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ معمول بنا ہوا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سیکرٹری کی سطح کی ملاقات جو اگست میں ہونا تھی اُس کو بھی منسوخ کر دیا ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستانی سفیر جو کہ ہندوستان میں متعین ہیں اُھوں نے کشمیری حریت پسند لیاڈر سید شبیر شاہ سے ملاقات کیوں کی ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کو بھارت میں بالعموم اور کشمیر میں بالخصوس اجیرن کر دیا گیا ہے۔اللہ پاک نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایاہے اور راہنمائی کے لیے اپنی محبوب ترین ہستی نبی پاکﷺکومعبوث فرمایا پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیاعصمتیں لٹ گئیں گھر بار تباہ و برباد ہوگئے ۔ محمد علی جناحؒ کی دوربین آنکھوں نے اس بات کا احاطہ کرلیا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ہندووں کے دستِ نگر بن کر رہ جائیں گے اِس لیے سرسید احمد خان، مولانا احمد رضا خان ؒ آف بر یلی شریف،ڈاکٹر اقبالؒ ، مولانا نعیم مراد آبادی، پیر جماعت علیشاہؒ ودیگر قائدین نے پاکستان کو قائم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ پاکستان کا قیام اولیااکرامؒ کا فیضان ٹھرا اِس وطن کے لیے اللہ پاک نے محمد علی جناحؒ کی خاص مدد فرمائی اور نبی پاکﷺ نے بھی محمد علی جناحؒ کو حکم فرمایا کہ تم لندن کو چھوڑو اور جاکر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ملک بناؤ۔یہ ملک جغرافیائی لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے معدنیات کی دولت سے مالا مال، بہترین آب پاشی کا نہری نظام زرخیز مٹی، چار موسم سب کچھ تو ہے ہمارئے وطن میں۔ اِس کے باوجود پاکستان مردِ بیمار کیوں بنا ہوا ہے۔ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن، جس دین اسلام نے یہاں کے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا بننا تھا اُس اسلام کو الوداع کہہ جا چکا ہے۔ذات پات، نسل، فرقہ واریت میں بٹ کر پاکستانی قوم کس طرح اپنے وہ اہدا ف حاصل کر سکتی ہے جن کے لیے یہ وطن بنایا گیا تھا۔اگر ہم بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حالات دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے انتہائی بُری حالت، نہ سرکار کی طرف سے نوکری اور نہ ہی تعلیم کے مواقع۔ وہ کام جو کہ انتہائی نچلے درجے کے ہیں وہ کام مسلمان وہاں جو کرتے ہیں حتی کہ اگر کوئی امیر مسلمان کہیں گھر خریدنا چاہے تو ہندو اُس کو اپنے علاقے میں جائیداد نہیں خریدنے دیتے۔ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں غدار سمجھا جاتا ہے۔معاشی اور سماجی طور پر مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے۔باعزت روزگار نہ ہے۔آئے روز مسلم کُش فسادات شروع ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جاتا ہے۔موجودہ دور میں بھارت میں مسلمانوں کی حالت کا ادراک کر لینے کے بعد پاکستان اللہ پاک کی غنیمت محسوس ہوتا ہے۔اِس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے امریکہ اسرائیل بھارت پاکستان کے وجود کے درپے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان بنایا گیا اُن پر ایک مرتبہ بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اِس ملک کے سرمایہ دار، جاگیردار،وڈیرئے جعلی گدی نشین اِس ملک کی قسمت پر اُلو کی طرح براجمان ہیں۔لیکن اُس کے باوجود اگر ہم ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہیں کہ وہ وہاں شودروں کی سی زندگی گزار رہے ہیں اور خوف کی فضا اُن کے لیے ہے تو پاکستان کا وجود غنیمت محسوس ہوتا ہے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر پاکستانی اپنے فرائض اد اکرئے اور اِس طرح اُسے اپنے حقوق بھی میسر آئیں گے۔پاکستانی قوم کو جس طرح سرمایہ داروں جاگیر داروں نے یرغمال بنا رکھاہے اُس سے عوام اتنے پس چکے ہیں کہ پاکستان کی تخلیق کا مقصد بھی خدانخواستہ اپنے معنی کھوتا جارہا ہے۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ 1857 سے لے کر 1947 تک کا نوئے سالہ دور مسلمانوں نے شدید ابتلاء میں گزارا۔ معاشی سماجی سیاسی عمرانی ہر لحاظ سے پستی مسلمانوں کا مقدر بن چکی تھی۔ان حالات میں خطے میں امن وسکون کے لیے بہتر یہ ہی تھا کہ مسلمانوں کی علیحدہ ریاست ہو۔اگر پاکستان کی تخلیق کے حوالے سے دیکھا جائے تو بھاری مسلامنوں کی جو حالت بھارت میں ہے وہ کوئی ڈھکی شھپی نہیں۔ اِسی رمضان کے بابرکت مہینے میں موجودہ وزیراعظم مودی کی بضل بچہ تنطیم مسلمانوں کے روزئے تڑوا رہی ہے۔ یہ ہے بھارت کا سیکولر ہونا۔پھر مسلامنوں کے ساتھ جس طرح کو سلوک ہندوستان میں رکھا جاتا ہے اُس کی مثال یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں کو غدار سمجھتے ہیں۔
ُٓلفظ پاکستان اور اسلام،الفاظ نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام اس طرح ایک دوسرے کے ہم مترادف ہیں کہ شائد اُردو زبان اُسکی وسعتوں کا احاطہ کرنے میں اتنی ہی آسانی محسوس کرتی ہے جتنی آسانی سے محبت اور پیار کے الفاظ بولے جانے کے لائق ہوں۔انسانی جبلت میں پیار اور محبت رچا بسا ہے۔نام نہاد دانشور اپنے غیرملکی آقاوٗں کی خوشنودی کی خاطر پاکستان کے خلاف زبان درازی کرکے اور پاکستان کی تخلیق کو انگریز کی سازش گردان کر درحقیقت ابلیس کی پیروی کا فریضہ ادا کرنے کی سہی میں لگے رہتے ہیں۔ برِ صغیر میں دو قومی نظرئے کی کوکھ سے اْبھرنے والا نظریہ دراصل اپنے تمام معانی، مصادر منابع کے نقطہ نظر سے نظرۂ قرآن اور نظرۂ اسلام ہے۔ کیونکہ تحریک پاکستان کے مراحل کے دوران اسلامیان ہند نے جو نظریاتی نعرہ بلند کیا تھا وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ ا لاللہ۔
پاکستان عالیشان کا وجود باسعود ، ایک مرد قلندر ، مرد حریت اور مرد ایمان اور مرد امتحان ، حضرت قائداعظم ؒ ، کی محنت شاقہ کی بدولت ہوا ۔ حضرت علامہ اقبال ؒ کی روحانی اور ایمانی الہامی شعری کا وشوں نے اپنا رنگ دکھیا اور انہوں نے برصغیر کی غلامی میں پھنسی ہوئی مسلمان قوم کو احساس تفاخر ور خودی کی بیداری کا پیگام دے کر انہیں آزقدی کے اوج ثریا تک پہنچانے کیلئے اپنا خون جگر عطا کیا ۔علم و عقل میں اگر تضاد اور تصادم رہے گا تو ظاہر ہے کہ اس بنی ہوع انسان میں انتشار اور تخریب کا باعث بنے گا ، اور بالآخر قومی زوال کا پیش خیمہ ۔ خدائے بزرگ و برتر نے اْن افراد کو یہ اعزاز عطا فرمادیا ۔ جنھیں دائرہ اسلام نے اسلام میں داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا، وہ افراد دنیائے انسانیت کے خوش قسمت ترین انسان ہیں جنہیں حضور اکرم ﷺ کے یک امتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دین اسلام نے مسلمانوں کے قلوب و ارواح میں جس فلسفہ توحید کو موجزن اور مرتسم کیا ہے، اْس سے ان میں فکری وحدت ، تہذیبی ہم آہنگی ، دینی حریت ور نسانی سطح پر احساس تفاخر کی تخلیق ہوئی ۔ جب قلوب و اذہان میں تصور توحید جلوہ گر نہ ہو انسان کی شخصیت میں وحدت پیدا نہیں ہو سکتی، ظاہر ہے کہ مسلمان ایک باری تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر پختہ ایمان و ایقان رکھے گا ، تو جب ہی اپنے ندر بھی وحدت پیدا کرے گا ۔ اس تمام فلسفہ حیات کا منبع ، ماخذ، روح، اساس ، سرچشمہ اور بنیاد قرآن الحکیم ہے۔ اس نظرئے کو قرآن کی تعلیمات اور حکام کے پیش نظر مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت داتا گنج بخش ؒ اور دوسرے اولیائے کرام اور مجتہدین قابل صد احترام نے اسی نظرئے کو اپنے خون جگر سے سینچا اور روحانی کمالات سے اس عظیم عمارت کی بنیاد وں کو استحکام سے ہمکنار بھی فرمایا۔ انہی بابرکت اور روحانی شخصیات کی تعلیمات مقدسہ نے حضرت علامہ اقبال ؒ اور حضرت قائد اعظم ؒ کے افکار ملہ اور قومی نظریات ، دینی، اسلامی ، قومی امنگوں کا رنگ بھر دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا ۔ انہیں انتشار ونکبت سے جگایا او ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا ۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر ، خطابات ، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا ‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا ‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2
یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا میعار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک دوسری غیر مسلم ۔ ایک مومن اور دوسری کافر یہی وہ فلسفہ فکر نظر تھا کہ حضرت نوح ؑ اپنے سے الگ ہو گئے اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظرۂ حیات مبنی بروحی سے ہم رمگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے حضرت ابر اہیم ؑ کو کہنا پڑا۔ (یعنی تم میں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کے لیے کھلی عداو ت اور نفرت رہے گی۔)چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم کا داخل نہ تھا ۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم ، ملت اسلامیہ کا ف رد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا ۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب ، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی ۔ برادری ، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجماں تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نظرۂ پاکستان کا آغاز ، تشکیل ، اور تراویح برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انھطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے مظالم کا گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’ مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب \'freedom at midnight\' اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’ برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں ، دیالوں ، بگوپالوں ، مہاجروں، ساہنیوں ، دھوتی پرشادوں ، چٹیا گھنٹانوں ، ایڈانیوں ، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کو منسخ کر کے دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا اسیک بازو کٹ گیا چنانچہ اندر گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا ، اس جذبہ محرکہ کو جس تصور ، خیال ، اصول ، جابطے یا نقطہ نظر نے تخلیق کیا اسے نظرۂ پاکستان کا نام دیا گیا ۔ جسے انگریزی میں Iddeology of pakistan کہتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت قائداعظم 1944ء ؁ میں مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان مطالبہ کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی۔ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس کی وجہ نہ ہندوں کی تنگ نظری ہے۔ نہ انگریزوں کی چال ، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اور یہی دراصل مطالبہ نظرۂ پاکستان کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسللہ یہ ہے کہ تکلیف صرف اسلام سے ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد جس طرح اس کے زمین و آسمان بدل جاتیہیں وہ عجیب کیفیت ہے، اس کے خیالات و تصور ات اس کے جذبات و احساسات اور انسانیت کے جملہ تمام اطوار یکدم وحدہ لاشریک کی ذات اقدس سے جڑ جاتے ہیں اور پھر۴ اس کا رخ ممبئ کلکتہ اجودھیا دہلی اور بجنور سے مکہ اور مدینہ کی طرف ہو جاتا ہے اس روحانی اور دینی تبدیلی کی مسٹر گاندھی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ان سے پہلے ہو گزرے مہاپرشوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی، ان مہا گرووں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی ، اور نہ ہی آسکتی تھی اور
اب یہ کیفیت کا فرما ہے مسٹر گاندھی عجیب مکاریت و فریب کاری کے انداز گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک سیدھا سادھا سا ہندو جب مسلمان ہو جاتا ہے تو دنگی، فسادی اور لڑاکا ہو جاتا ہے۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا جب اسے اپنے نظریے کی پاسبانی کرنا پڑے گی ۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا ، جب ناموس رسالت ﷺ پر خدانخواستہ حرف آئے گا ۔ دنگئی تو لازمی ہو گا کہ جب وہ وحدہ لاشریک کی شان میں کوئی غیر قوم کا فرد گستاخی کا مرتکب ہوگا۔ قرآن پاک پر رکیک حملوں کا جواب تو پھر وہ پنی جان پر کھیل کر دے گا اور شہادت کے مقام اولیٰ کو مسکراتے ہوئے حاصل کرنا قاپنا دینی اور اسلامی فریضہ سمجھے گا۔ یہی وہ جذبہ اسلام ہے ، یہی وہ قرآنی برکت ہے یہی وہ دو قومی نظریے کی بنیا د ہے۔ یہی دوقومی نظریہ اپنی روقحانی معنویت اور اسلامی قومی نظریات و تصور کی شکل میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نظرۂ پاکستان کی شکل میں نمودار ہوا۔ پاکستان کی تخلیق میں لاکھوں اسلامیان ہند نے شہادتوں کا خون عطا کیا لاکھوں مسلمان عورتوں اور بچون نے قربانیاں دیں ، پاکستان کو انگریزوں اور ہندوں نے آسانی سے قبول نہیں کیا تھا۔ پاکستان انگریز نے طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا تھا ۔ تقسیم ہند نہ انگریزی بادشاہت کو پسند نہ تھی ، نہ برطانوی پارلیمنٹ ، نہ برطانوی حکومت ہند، نہ وائسرائے صاحبان ، نہ انڈین نیشنل کانگریس ، نہ مسٹر گاندھی ، نہرو پٹیل اور راجگو پال اچاریہ وغیرہ، لارڈ مونٹ بیٹن جو آخری وائسرائے ہند تھا۔ اسے تقسیم ہند سے ویسے ہی چڑ تھی۔ جمیعت العلمائے ہند کی اکثریت مخالف چند اور اسلام پسند گروہ بھی قائداعظم ؒ پر رکیک حملوں سے باز نہ آرہے تھے۔ اکثر مسلمان اکابرین جو کانگریس کے متاثرین میں سے تھے یہ تقسیم پسند نہیں فرما رہے تھے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی خاص طور پر شامل تھے۔ یہ حضرت قائد اعظم ؒ کی سیاسی صداقت اور ولولہ انگیز قیادت اور مومنانہ شان و شوکت کا اعجاز تھا کہ بڑے بڑے برج گرتے چلے گئے بڑے بڑے طوفان اپنی اپنی راہ لیتے رہے بڑے بڑے پہاڑ چکنا چور ہو جاتے رہے۔ اور وہ سرحدیں قیام پزیر ہوئیں جنھوں نے معرکہ بدرو حنین کی یاد دتازہ کردی ۔ یہ سرحدیں کچے دھاگے کی سرحدیں نہیں یہ اینٹوں گارے ، سیمنٹ اور ماربل کی بنائی ہوئی دیوار نہیں ’’ لاالہٰ الاللہ محمد الرسول اللہ‘‘ کے اسلامی اور قرآنی نظریے اور ایمان پر قائم کردہ دیواریں ہیں ۔ جو قیامت تک قائم رہیں گی، حضرت قائداعظم ؒ نے اسی لیے قیام پاکستان کے بعد 30 اکتوبر 1947ء ؁ کو فرمایا تھا ہم نے پاکستان حاصل کر لیا کسی خونی جنگ کے بغیر امن کے ساتھ اخلاقی اور ذہنی قوت کے بل بوتے ، پر یوں ہم نے ثابت کر دکھایا کہ ہم سچے اور ہمارہ مقصد بھی سچا تھا ، پاکستان اب ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں سبق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذکر بے جانہ ہوگا، جب اندرا گاندھی (وزیر اعظم بھارت) نے یہ بیان بڑے فخر وتکبر اور فتح کے نشے میں دیا کہ آج ہم نے قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور ٓج ہم نے ہزار سال کا بدلہ لے لیا۔ اب توجہ توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ کدس نے کس سے یہ بدلہ لیا اور خلیج میں ڈبو دیا ، سگر ہم یہ کہیں کہ اندرا گاندھ نے کتنی غیر منظقانہ معصومیت مین بیان داغا تھا اس قابل رحم خاتون کو معلوم ہی نہیں کہ دو قومی نظریہ اور نظرۂ پاکستان کے اصل مفاہیم و مطالب اور ابدی توجیہات و تفاسیر کیا ہیں اسلام اور قرآن کی روشنی میں اگر ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر میں زندہ ہے
تو دو قومی نظریہ اپنی کامل جولانیوں کے ساتھ موجود ہے ، نظرۂ پاکستان مکمل طور پر قائم ہے۔ اسلام کا جھنڈا موجود ہے۔ اگر نظرۂ پاکستان اپنی اصلی اور ازلی حقائق کے نقطہ نظر سے مقصود ہو گیا ہوتا تو بنگلہ دیش جسے آج ہم سابق مشرقی پاکستان کہتے ہیں ہندوستان کا کوئی با جگر حصہ بن چکا ہوتا ، لیکن ایسا ایسا نہیں ہوا وہ پاکستانی حضرات جنہیں پاکستان نے اعلیٰ ترین مقام سیاست و قیاست پر متمکن کر رکھا اب جلوہ افوذ ہیں ، ثولیدہ ، نظریاتی علم سے عاری ، تحرک پاکستان کے دلدوز لمحات و واقعات سے ناواقف ، حضرت قائداعظم ؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ سے بغض ، کینہ اور نفرت رکھنے والے ایسے قابل تعظیم افراد پاکستان کی کیا خدمت کر رہے ہو نگے اور جنہیں باقلخصوص قیامت کے روز حضرت قائد اعظم ؒ کے حضور کیا جوابدہی دینا ہو گی۔ جو نظریہ پاکستان اور تخلیق پاکستان کے بارے میں مشکوک الایمان اور متزلزل عقائد کے علمبردار ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑی اور کوئی بد قسمتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان مشیت ازادی ہے، اور حضرت قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ سات سات ولیوں کی قوت ایمانی والی شخصیات تھیں ۔ اگر پاکستانی دانشور ان کرام، اساتذہ کرام طلبہ و طالبات کبھی ٹھندے دل سے غور فرمائیں کہ مشرقی ہپاکستان کی علیحدگی میں اہم کردار ادا کرنے والوں کا کیا حشر ہوا وہ پاک و ہند کی سیاسی اور قومی تاریخ کسے ابواب میں قیامت تک کھڑے عبرت نشان عبرت بن کر رہ گئے۔ اندرا گاندھی کا یہ حشر ہوا کہ اسے سپنے باڈی گارڈ نے گولیوں سے اڑا دیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو اپنی ہم قوم فوج کے افسران نے گولیوں سے اْڑا دیا۔ کسی متعلقہ فرد کو بھی زندہ ہیں چھوڑا ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو وجود مسلمانوں کے لیے ایک بہت بری غنیمت ہے اور ہندوستان میں جو ظلم وستم مسلمانوں پرڈھائے جارہے ہیں وہ نریندر مودی کی مسلم دشمنی کے عکاس ہیں۔ لیکن پاکستانی قوم بھارتی وزیر اعظم کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ائے نریندر مودی تم امریکہ اسرائیل کا بغل بچہ بن کر مسلمانوں پر جو طلم ڈھارہا ہے اور پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر جو چھیڑ خانی کر رہا ہے یہ نہ ہو کہ عشق مصطفے کریمﷺ سے اپنے دلوں کو روشن کرنے واے نوجوان بھارت کو کئی حصوں میں تقسیم کردیں۔










Thursday, 21 August 2014

DEFAMATION whoever by words either spoken or intended to be read ,or by sign or by visible representations , makes or publishes any imputation concerning any person intending to harm , or knowing or having reason to believe that such imputation will harm the reputation of such person


                                           DEFAMATION


whoever by words either  spoken or intended to  be read ,or by sign or by visible representations , makes or publishes any imputation concerning any person intending to harm , or knowing  or having reason to believe that such imputation will harm the reputation of such person



MIAN ASHRAF AMI



ADVOCATE HIGH COURT


499. Defamation .---- whoever by words either  spoken or intended to  be read ,or by sign or by visible representations , makes or publishes any imputation concerning any person intending to harm , or knowing  or having reason to believe that such imputation will harm the reputation of such person , is said except in the cases hereinafter  excepted , to defame that person .
Proviso 1(………….)
Explanation 1. It may amount to defamation to impute anything to a deceased
Person if the imputation would harm the reputation of that person if living , and is intended to be hurtful to the feeling of his family or other near relatives..
Explanation 2. It may amount to defamation to make an imputation concerning a company or a association or collection of persons as such .
Explanation 3. An imputation in the form of an alternative or expressed ironically , may amount to defamation .
1.    (provided that the exception in this section other than   the fourth exception shall not apply in cases in which the imputation is published in a ,book, news-sheet or newspaper as defined in the west Pakistan press and publication Ordinance , 1963 (ordinance no . xxx of 1963)ins .by ordinance LXVIII OF . 1979 omitted  by Act IV OF 1986 (PLD  1988 CENT . ST 16 ).
2.    Explanation 4 . no imputation is  said to harm a person reputation , unless that imputation directly or indirectly in this estimation of other , lowers the moral of intellectual character of that person or lowers the character of that person in respect of this caste or of his calling or the credit of that person , or causes it to be believed that the body of that person is in a loathsome state or in a state generally  considered a as disgraceful.
                                                Illustration
(a)           A says , Z is an honest man , he never stile watch intending  to cause it to be believed that Z  did steal b watch . this is defamation unless it falls within one of the exception .
(b)           A is asked who stole  b watch . A points to z intending to cause    it to be believed  that z stole b  watch . this is defamation , unless it falls within one  of the exception .
(c)            A draws a picture of z running away with b watch . intending it to be believed that z stole b watch . this is defamation , unless it falls within one of the exception .
First Exception ….imputation of truth which public good requires to be made or  publish … it is not defamation to impute anything which is ture concerning any person , if it be for the public good that the imputation should be made or publish . whether or not it is for the public good is a question of fact.
Second Exception … Public conduct of public Servants … it is not defamation to express in good faith any opinion whatever respecting the conduct of any person of a public servant in the discharge of his public function , or respecting his character , so far as his character appears in that conduct , and no further .
Third Exception …Conduct of any person touching any public question … it is not defamation to express in good faith any opinion whatever respecting the  conduct of any person touching any public question , and respecting his character , so far as his character appears in that conduct , and   no further .
                                         Illustration
It is not defamation in A to express in good faith any opinion whatever respecting  zs conduct in petitioning government on a public question . in signing a requisition for a meeting on public question . in presiding or attending as such meeting ,in forming or joining any   society which invites the public support , in voting or canvassing for a particular candidate for any situation in the efficient discharge of the duties of which the public is interested .
Fourth Exception … Publication of reports of proceedings of Court….it is not defamation to publish  a substantially true report of the proceeding of a Court of justice , or of the result of any such proceeding .
Explanation .A justice of the peace or other officer holding an enquiry in open Court preliminary to trial in a Court of justice , is a Court within the meaning of the above section .
Fifth Exception … Merits of case decided in Court or conduct of witness and other concerned…..it is not defamation to express in good faith any opinion whatever respecting the merits of any case , civil or criminal , which has been decided by a Court of justice , or respecting the conduct of any person as a party , witness or agent ,In any such case , or respecting the character of such person as far as his character appears in that conduct , and no further .
                                            Illustrations
(a)                       A says .i think Z evidence on that trial is so contradictory that he must be stupid or dishonest . A is within exception if he says that in good faith , inasmuch as the opinion which he expresses respects Z character as it appears in Z conduct as a witness and no further.
(b)                       But if A says , do not believe what z asserted at that trial because I know him to be a man without veracity A is not with in this exception , inasmuch as the opinion which expresses of Z character in an opinion not founded on Z conduct as a  witness. 
Sixth Exception …. Merits of public performance.----- it is  not defamation to express in good faith any opinion respecting the merits of any performance which its author has submitted to the judgment of the public , or respecting the character of the author so far as his character appears in such performance , and no further .
Explanation . A performance may be submitted to the judgment of the  public expressly or by acts on the part of the author which
 imply such submission to the judgment of the public .
                                                 illustrations
(a)           A person who publishes a book , submits that book , to the judgment of the public .
(b)           A person who makes a speech in public , submits that speech  to the judgment of the public.
(c)           An actor or singer who appears on a public stage , submits his acting or singing to the judgment of the public.
(d)           A says of a book  published by z—z book is foolish .z must be a week man . z book is indecent , z must be a man of impure mind . A is  with in this exception , if he says this in good faith inasmuch as the opinion which he expresses of z  respects z character only so far as it appears in z book , and no further .
(e)           But if a says , I am  not surprised that z book is foolish indecent for he is a weak man and a libertine . A is  not with in this exception inasmuch as the opinion which he expresses of z character is an opinion not founded on book .
Seventh Exception ----   Censure  passed  in good faith by person having lawful authority over another .---it is not defamation in a person having over another any authority either conferred by law or arising out of a lawful contract made with that other , to pass in good faith  any censure on the conduct of that other in matters to which such lawful authority relater .
                               Illustration
A judge censuring in good faith the conduct of a witness , or of an officer of the Court .a head of a department censuring in good faith those who are under this order ,a parent censuring in good faith a child in the presence of other children , a schoolmaster , whose authority is derived from a parent , censuring in good faith a pupil in presence of other pupils , a master censuring a servant in good faith for remission in service , a banker censuring in good faith , the cashier of his bank for the conduct of such cashier as such cashier – are within this exception .
Eight Exception – Accusation preferred in good faith to authorized person --- it is not defamation to prefer in good faith an  accusation against any person to any of those who have lawful authority over that person with respect to the subject – matter of accusation .
                              
                                             Illustration
If A in good faith accuses z before a Magistrate , If A in good faith complains of the conduct of z a servant to z master , if a in good faith complains of the conduct of z a child , to z father ,A is within this exception .
Ninth Exception ---- imputation made in good faith to person for protection of his or other interest --- it is not defamation to make an imputation on the character of another provided that the imputation be made in good faith for the protection of the interest of the person making it , or of any other person or for the public good .
                                                                   Illustration
(a)                       A , a Shopkeeper, says to B who manages his business – sell nothing to z unless he pays you ready money , for I have no opinion of his honesty , A is within the exception , if he has made this imputation on z in good faith for the protection of his own interests .
(b)                       A a magistrate in making a report of his own superior officer , casts an imputation on the character of z Here ,if the imputation is made in good faith , for the public good .A is within the exception
Tenth Exception – Caution intended for good of person to whom conveyed or for public good ---- it is not defamation to convey a caution in good faith , to one person against another , provided that such caution be intended for the good of the person to whom it is conveyed , or of some person in whom that person is interested , or for the public good .
                                                 
Defamation . Necessary ingredients making of imputation or defamatory statement ,communication to a third party or publication . and intention harm r knowing or having reason to believe  that such imputation will harm the reputation of such person .2000 p c r l j 1847
1.    Act of agent .Making of imputation or defamatory statemet , communication to a third party or publication , and intention to harm or knowing or having reason to believe that such imputation will harm the reputation of such person . 2000 p c r lj 1847.
2.    Onus to prove .Direct nexus between the author or originator of the imputation and its publication  or communication is required to be established by independent evidence . 2000 pc r lj 1847.
3.    Power of high Court . High Court has unabridged and unqualified powers to interfere in any appropriate case where it is  found that any particular proceeding would tantamount to abuse of process of law and that of the Court . 2000 PCR, LJ 1847.
4.     Defences available . (1) Truth of statement made in public interest (2)Honest opinion about public conduct of public conduct of public functionaries (3)Statement being an opinion about conduct of a person (4)Neutral and fair / accurate reporting of Court proceeding (5)Honest expression  of opinion about merits of the decided case (6)Fair comments about merits of public performance (7)Bona fide censure passed by a person in authority (8)Accusation made by a person in good faith to a person in authority (9)Accusation made to safe guard the personal interest of the individual orfor the public good of a person or to public (10)putting a person or public on caution against another for public good .2000 pcr .lj 1847.
5.    Mense  rea . for constituting offence of defamation meanse rea or intention is essential ingredient . Allegation made in complaint are of general nature . No specific instance has been quoted nor any witness was examined by complainant to substantiate his version . complainant failed to examine any of relatives who discontinued contacts with him . criticsm is essential for healthy society . newspapers act within its legitimate sphere when it offers criticism of what they considers and bonafide believes tobe good for community . freedom of speech under Article 19 of constitution and freedom of press under 4th Amendment  Act of 1975 has widened its scope . Right of people to speak out through free press is hallmark of democratic society . Media is supposed to take lead reflecting if anything wrong is taking place . Application for quashing of proceeding allowed . OLJ 2001 CRC ( KARACHI ) 6714 = PLD 2001 KAR .115. 
500. PUNISHMENT FOR DEFAMATION ----Whoever defames another shall be punished with simple imprisonment for a term which  may extend to two years or with fine ,or with both .
   (provided that the originator of the defamatory imputation shall be     punished with imprisonment of either description for a term which may extend to five years , or with the which shall not be less than one hundred thousand rupees or with both .
Explanation ---- Originator means the initiator of a defamatory imputation )
Proviso (……….)
                                                            
1.    Scope and extent . How to be taken . 1987 pcr lj1439 . Mens rea or intention is essential ingredient .PLD 2001 kar 115. Assertion of words ishiq –e-Hawiwi with married woman . Disrepute . pld 1991esc 71 Ground reflecting on character of spouses in proceedings for dissolution of marriage ,pld 1982 lah 60. Statement of the complainant and his witnesses not recorded by magistrate himself but by his clerk.illegality incurable . 1994 pcr .l 430 , 1993 mld 2045. Police may investigate into an offence under Section 500, ppc on the direction of magistrate  and not on police report under section 173, cr pc 1997 pcr lj 1128 offence under 500 ,p.p.c. on date of its alleged commission by respondent inclusive of date on which complaint was filed was not only cognizable but was also non – compoundable . plj1998 crc (quetta) 77.section 500/506/34 ppc . billable plj 1999 crc lah 472 .MD is competent to lodge complaint  on behalf of company . pld 1967 sc 32 .
2.    Act of agent . Agent and principal might be equally liable under civil tort of defamation but in criminal law it has to be proved by independent evidence . Mere presumption not enough . 2000 pcr lj 1847 .
501.Printing or engraving matter know to be defamatory .----
Whoever prints or engraves any matter , knowing or having good reason to believe that such matter is defamatory of any person shall be punished with simple imprisonment for a term which may extend to two years , or with fine , or with both .
502.sale of printed or engraved substance containing defamatory matter .--.whoever sells or offers for sale any printed or engraved substance containing defamatory matter knowing that it contains such matter , shall be  punished with simple imprisonment for a term which may extend to two years , or with fine or with both .
( 502-A. Trial of offences under this  chapter .--- Notwithstanding anything contained in the code of criminal procedure , 1898 (Act V of 1898)the Court of Session shall have the jurisdiction to try an offence under this chapter and decide it within a period of ninety days .)
(502-B.Publicising identity of a woman in case of Zina or rape.----
Whoever publicizes any case of zina or rape whereby the identity of any woman or her family member is disclosed shall be punished with imprisonment which may extend to six months or with fine or with both .