جناب مجید نظامی
میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
عروف صحافی نوائے وقت اور دی نیشن کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی علی الصبح
لاہور میں انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! ان کی عمر 86 سال تھی۔ انہوں نے پسماندگان میں بیٹی رمیزہ مجید نظامی چھوڑی ہیں۔
ان کے سوگواروں میں نوائے وقت گروپ کے عملہ کے ارکان بھی شامل ہیں جن میں
انہوں نے اپنی زیادہ تر عمر کا حصہ گذارا۔ ڈاکٹر مجید نظامی کی صحافت کا
آغاز ان کے زمانہ طالب علمی ہی میں ہو گیا تھا۔ انہوں نے اسلامیہ کالج
ریلوے روڈ سے انٹرمیڈیٹ کے بعد ہیلی کالج لاہور میں بی کام میں داخلہ لیا
تھا لیکن پھر اسے چھوڑ کر گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے تاکہ گریجوایشن کے
بعد پولیٹکل سائنس میں ایم اے کریں۔ اس زمانے میں ہی انہوں نے سرراہے لکھنا
شروع کر دیا تھا۔ گورنمنٹ کالج میں تعلیم کے دوران ہی مجید نظامی صاحب
لندن چلے گئے اور وہاں انٹرنیشنل افیئرز کا کورس کیا۔ بار ایٹ لاء کیلئے
گرے زان میں داخلہ لیا۔ وہاں لندن سے آپ نوائے وقت کو خبریں اور مکتوب
لندن بھجواتے رہے۔ 1962ء میں جب بانی نوائے وقت حمید نظامی اللہ کو پیارے
ہوئے تو جناب مجید نظامی نے ان کی جگہ ایڈیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور
2014ء تک 52 سال تک یہ فریضہ جانفشانی کے ساتھ سرانجام دیا جو نہ صرف
پاکستان کی صحافت بلکہ عالمی صحافت کا ایک ریکارڈ ہے۔ وہ ایک دبنگ اور دلیر
ایڈیٹر تھے۔ سول حکمران ہو یا فوجی حکمران کوئی بھی نظامی صاحب کو ان کے
اصولوں سے نہیں ہٹا سکا۔ نظریہ پاکستان سے ان کی کمٹمنٹ اور کشمیر پر
بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف ان کی نفرت دوستوں دشمنوں سب پر واضح تھی۔
بھارت سے پاکستان کے تعلقات بارے ان کا خاص نقطہ نظر تھا جو نوائے وقت کے
اداریوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ وہ شعلہ بیان مقرر تو نہیں تھے لیکن ان کے دھیمے
لہحے میں گفتگو اتنی کاٹ دار ہوتی تھی کہ مخالفین کے دل دہل جاتے تھے۔
ستائیسویں رمضانالمبارک کیس بابرکت ساعتوں میں جب پاکستان کی بنیاد
رکھی گئے اُنھیں بابرکتوں لمحات میں پاکستان سے محب کرنے ولاے عظیم شخصیت
جناب مجید نظامی صاحب اللہ کو پیارئے ہوگئے۔ ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہو
رہی ہے کہ مجھے میرے دل نے اِس دور کے عظیم صحافی ملک و ملت کے رہنما
پاکستان یت کے علمبر دار اسلام کے سچے سپاہی جناب مجید نظامی صاحب کے
ذات پر قلم اُٹھانے کی جسارت پر اُبھارا ہے چشم تصورر میں اُن کی ذات
کا احاطہ کر رہا ہوں ۔ اس کائنات میں کروڑوں اربوں لوگ آئے اور اپنے اپنے
دور میں اپنے اپنے انداز میں اپنا اثر چھوڑ گئے۔ جناب مجید نظامی ان
میں سے خاص افراد کی صف میں شامل ہیں جن کی اپنے وطن اور دین سے محبت
اپنی مثال آپ ہے۔ جنا ب مجید نظامی ایک طرف تو حضرت سلطان صلاح الدین
ایوبی ؒ کے لشکر کے ہراول دستے میں شامل ایک عظیم مجاہد دیکھائی دیتے
ہیں۔تو دوسری جانب سلطان محمود غزنوی کی راہ پر چلتے ہوئے دنیاوی بتوں کو
پاش پاش کرکے رسمِ شبیری ادا کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔بقول حضرت
اقبالؒ دریاوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان، جس سے جگرو لالہ میں
ٹھنڈک ہو وہ شبنم کا سراپا دیکھائی دیتے ہیں ۔ حضرت محمد بن قاسمؒ
کی تلوار بن کر با طلوں کا سر کاٹتے ہیں ۔ اس عظیم قلندر نے جس طرح
سے ا تحاد امت ،پاکستا ن اور اسلام سے محبت کا بیڑا اْٹھا رکھا ہے
محب و طن طبقے نظامی صاحب کی اس جرات و بہادری پر فخر محسوس کرتے
ہیں ۔ ایک با ت جو یہ کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا یہ ان کا
ایسا عمل ہے جو موجودہ مادیت پرستی کے دور میں عظیم کارنامہ ہے۔
نوائے وقت کی شکل میں قوم کی رہنمائی کے لیے جس طرح جناب مجید نظامی نے
اپنا فرض نبھایا۔ ان کا دل و جگر ہی جانتے ہیں ۔ ایک بات جو خصوصیت
کے ساتھ ذکر کرنے کے قابل ہے ۔ وہ یہ کہ معاشرے کے تمام طبقہ ہائے فکر
سے منسلک افراد بلا تفریق حسب و نسب مجید نظامی صاحب کی رائے کو ا
پنے لیے مشعل راہ سمجھتے تھے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی کا رہنماء
خواہ مذہبی ہو یا سیاسی سماجی ہو یا سقافتی، سب جناب مجید نظامی صاحب
کی ُ پر اثر شخصیت سے فیض و رہنمائی حاصل کرتے رہے ۔ نظریہ پاکستان
ٹرسٹ کی موجودگی میں باطل اور طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں
پاکستانیت کا پر چار ایک ایسا عظیم کا م ہے جس سے وطن عزیز کے بچے
نوجوان خو اتین وطن کی محبتوں کی حلاوتوں سے مسرور ومطمن ہیں۔ جس طرح
امریکہ بھارت اسرائیل کی مداخلت سے بلوچستان خون میں نہایا ہوا ہے۔خیبر
پختون خواہ میں دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان کی آرمی برسر پیکار ہے۔اِن
حالات میں سبز ہلالی پرچم کی حرمت اور نظریہ پاکستان کی پاسبانی کا فریضہ
ادا کرتے ہوئے جناب مجید نظامی صاحب حضرتِ عباس غازیؒ علمبردار کے نقش
پا ء پر گامزن ہیں۔ وقت کے حکمرانوں کی محفلوں میں جانے سے گریز اور حق
بات کہنا خواہ کتنا بھی مالی نقصان ہو جائے یہ جناب مجید نظامی صا حب
کا خاصہ تھا۔نظامی صاحب کا تعلق اُن افراد سے ہے جو معاشرئے کی سوچ کی
آبیاری کا فریضہ ادا کررہے تھے۔ان کی ذات ایسے چراغ کی ماند تھی جو
اپنے بیگانے سب کے لیے مینارہ نور تھی۔یہ وہ بزرگ ہستی ہیں جو اپنی قوم کی
ذہنی تربیت کررہے تھے۔نفسا نفسی ،مادیت پرستی کے دور میں پاکستانیت کا پرچم
تھامے یہ درویش صفت ولی اپنا فرض ادا کررہے تھے۔ان کو پنجاب یونورسٹی
کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنا ایک اعزاز ہے لیکن میں اگر یہ
کہوں تو میرے جذبات کی ترجمانی ہوگی کہ پنجاب یونورسٹی کے لیے یہ اعزاز ہے
کہ جناب نظامی صاحب نے پنجاب یونیورسٹی کو اپنے وجود کے حصہ کے طور پر
شناخت دی ۔
نظریاتی سمر سکول کی شکل میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نظامی صاحب کی کوششوں سے گزشتہ چودہ سالوں میں نونہالانِ وطن کے اندر جذبہ حب الوطنی، ملی غیرت، مذہبی رواداری کی نفوذ پزیری کی ضمانت ٹھرا ہے۔ جس طرح کا ماحول جناب مجید نظامی صاحب کی سرپرستی میں نظریاتی سمر سکول میں بنایا گیا ہے یہ پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے نشانِ راہ ہے۔ ہزاروں بچے، بچیاں یہاں سے تربیت حاصل کرکے اپنے دلوں کو جذبہُ حب الوطنی اور آقا کریمﷺ کی محبت سے اپنے دلوں کو منور کرچکے ہیں۔الیکٹرانک و پرنٹ میڈ یا میں بے پناہ ترقی نے صحافتی حلقوں کی ذمہ داریوں میں لامحدود اضافہ کردیا ہے۔پوری قوم کی رائے کو معتبر بنانا اور اُسے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بامقصد بنا کر پیش کرنا موجودہ میڈیا کی بہت بڑی ذ مہ داری ہے۔ زرد صحافت نے اس عظیم شعبے کی پہچان میں کچھ خرابیاں پیدا کی ہیں ۔موجودہ دور میں پاکستانی معا شرے میں میڈیا رائے سازی میں اہم کردار ادا کرہا ہے۔گویا صحافت کا منصب صلاح الدین ایوبیؒ کی للکار، محمد بن قاسمؒ کی بہادری اور سلطان محمود غزنوی کی تلوار ہے۔ جناب نظامی صاحب ملکُ وملت کی تمام ذمہ داریوں کو اپنے کندھے پر اُٹھائے ہو ئے تھے ان کی رہنمائی ملت اسلامیہ کے لیے کسی بھی غنیمت سے کم نہیں تھے۔وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور وطن کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ایک عظیم مشن ہے جناب مجید نظامی صا حب نے ہمیشہ نظریاتی محاذ پر قوم کے سپہ سا لار کا کردار ادا کیا ہے۔اس لیے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کی جناب جناب نظامی صاحب جغرافیائی سرھدوں کت سپہ سالار تھے ۔قائد اعظمؒ اور حضرتِ اقبال ؒ کے سچے پیروکار تھے ۔ اللہ پاک ملک وملت کی رہنمائی کے لیے اُ نکی خدمات قبول فرمائے اُن کو نبی پاک پاکﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے آمین۔۔
نظریاتی سمر سکول کی شکل میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نظامی صاحب کی کوششوں سے گزشتہ چودہ سالوں میں نونہالانِ وطن کے اندر جذبہ حب الوطنی، ملی غیرت، مذہبی رواداری کی نفوذ پزیری کی ضمانت ٹھرا ہے۔ جس طرح کا ماحول جناب مجید نظامی صاحب کی سرپرستی میں نظریاتی سمر سکول میں بنایا گیا ہے یہ پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے نشانِ راہ ہے۔ ہزاروں بچے، بچیاں یہاں سے تربیت حاصل کرکے اپنے دلوں کو جذبہُ حب الوطنی اور آقا کریمﷺ کی محبت سے اپنے دلوں کو منور کرچکے ہیں۔الیکٹرانک و پرنٹ میڈ یا میں بے پناہ ترقی نے صحافتی حلقوں کی ذمہ داریوں میں لامحدود اضافہ کردیا ہے۔پوری قوم کی رائے کو معتبر بنانا اور اُسے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بامقصد بنا کر پیش کرنا موجودہ میڈیا کی بہت بڑی ذ مہ داری ہے۔ زرد صحافت نے اس عظیم شعبے کی پہچان میں کچھ خرابیاں پیدا کی ہیں ۔موجودہ دور میں پاکستانی معا شرے میں میڈیا رائے سازی میں اہم کردار ادا کرہا ہے۔گویا صحافت کا منصب صلاح الدین ایوبیؒ کی للکار، محمد بن قاسمؒ کی بہادری اور سلطان محمود غزنوی کی تلوار ہے۔ جناب نظامی صاحب ملکُ وملت کی تمام ذمہ داریوں کو اپنے کندھے پر اُٹھائے ہو ئے تھے ان کی رہنمائی ملت اسلامیہ کے لیے کسی بھی غنیمت سے کم نہیں تھے۔وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور وطن کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ایک عظیم مشن ہے جناب مجید نظامی صا حب نے ہمیشہ نظریاتی محاذ پر قوم کے سپہ سا لار کا کردار ادا کیا ہے۔اس لیے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کی جناب جناب نظامی صاحب جغرافیائی سرھدوں کت سپہ سالار تھے ۔قائد اعظمؒ اور حضرتِ اقبال ؒ کے سچے پیروکار تھے ۔ اللہ پاک ملک وملت کی رہنمائی کے لیے اُ نکی خدمات قبول فرمائے اُن کو نبی پاک پاکﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے آمین۔۔

No comments:
Post a Comment