تنویر کے پیارئے اور لاڈلے ماموں اسجدؒ
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
آج سے ٹھیک تیس برس پہلے 1984کی گرمیوں میں میرئے عزیز دوست جناب ڈاکٹر
تنویر احمد چوہدری کے ماموں جان جناب اسجد علی کراچی سے سرگودہا تشریف
لائے ہوئے تھے۔ میری اُن سے ملاقات ڈاکٹر تنویر احمد چوہدری کی رہائش 117
سی سیٹلائٹ ٹاون سرگودہا میں ہوئی پہلی ہی ملاقات میں اتنی شفقت کے ساتھ
پیش آئے کہ بیان سے باہر ہے۔مجھے اُن سے خصوصی لگاؤ ہوگیا اِس کی وجہ یہ
تھی کہ ڈاکٹر تنویر احمدکواُن سے بہت محبت تھی پھر یوں اسجد ماموں بھی
میرے لیے اُن ہستیوں میں شمار ہونے لگے جو کہ زندگی میں رہنماء کے طور پر
رہنمائی کرتے ہیں۔ اُن سے گھنٹوں بات چیت ہوتی اور ہر موضوع پر پر وہ بات
کرتے اِتنی پختگی ہوتی اُن کی باتوں میں کہ دل کو لگتیں۔ ایک گیت جس کے
بول تھے نہ یہ چاند ہوگا نہ تارئے رہیں گئے مگر ہم ہمیشہ تمھارئے رہیں گے
اکثر سنایا کرتے بس پھر کیا تھا جب بھی ڈاکٹر تنویر احمد چوہدری کے ہاں
تشریف لاتے میں اُن سے ملاقات کے لیے حاضر ہوجاتا اور پھر تاریخ
تصوف،شاعری پر بے لاگ گفتگو فرماتے اللہ پاک نے اُن کو اتنی اچھی اور
خوبصورت آواز سے نوازا تھا کہ عام بول چال میں اُن کے بولے ہوئے الفاظ دل
میں اُتر جاتے ہیں۔کراچی میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے فاصلے حائل تھے
لیکن یہ فاصلے اُن کی محبت کے راستے میں کبھی بھی نہ آئے۔ ڈاکٹر تنویر
احمد جب کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور ایم بی بی ایس میں داخل ہوئے
تو میرا رابطہ اسجد ماموں سے تقریباً کٹ گیا میں بھی زمانے کے نشیب وفراز
میں اپنے راستوں پہ چلتا رہا اور تنویر بھی ایم بی بی ایس کرکے فاطمہ
ہسپتال شادمان لاہور میں کا مکرنے لگا اِس دورران اسجد ماموں کے بڑئے
بھائی اور ڈاکٹر صاحب کے ماموں جناب اسلم صاحب لاہور میں شوکت خانم ہسپتال
میں صاحبِ فراش رہے اور خالقِ حقیقی سے جاملے۔ تنویر کے ننھیال کے لیے بہت
بڑا دہچکہ تھا اسلم صاحبؒ بہت معروف ٹیکسٹائل انجینئر تھے اور بے شمار
خوبیوں کے مالک تھے حقیقی معنوں میں اللہ کے نیک بندئے تھے ۔اسجد ماموں
اِس دوران فیصل آباد شفٹ ہو گئے۔ تنویر بھی سرگودہا واپس چلا گیا اور اپنا
کلینک چلانے لگا۔ اور میں لاہور میں جو میرا آبائی شہر ہے اُس کی خاک
چھاننے لگا جب بھی تنویر کے ساتھ ملاقات ہوتی تو میں اسجد ماموں کی خیر
خریت دریافت کرتا۔ یوں زندگی اپنے انداز میں خوشیاں بکھیرتی اور غم دیتی
فراٹے بھرتی رہی اکتوبر2012 میں حضرت باباولایت شاہ قادری نوشاہیؒ کے
سالانہ عرس میں شرکت کے لیے سرگودہا حاضری کا موقع ملا جب ڈاکٹر تنویر
احمد چوہدری کے کلینک گیا تو بہت خوشی ہوئی کہ برسوں بعد اسجد ماموں سے
ملاقات ہوئی وہ بھی بہت خوش ہوئے اور ناراض بھی کہ رابطہ برقرار کیوں نہیں
رہ سکا۔ میں نے عرض کہ میں آپ کو کبھی بھی نہیں بھولا۔ یوں چند دن کافی
دیر تک گفتگو ہوتی رہی اِس دوران مجھے پتہ چلا کہ تنویر کے لاڈلے ماموں جان
بیمار ہیں اور اپنے پیارئے بھانجے کے پاس آجکل علاج کے غرض سے ٹھرئے ہوئے
ہیں۔ اِسی دوران اُن سے ملاقات میں مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ ماموں کے
کاروباری معاملات بہتر نہ تھے اس وعدئے کے بعد کہ وہ لاہور میرے ہائی
کورٹ والے آفس ضرور تشریف لائیں گئے میں لاہور لوٹ آیا۔د اُن کو جان لیوا
کینسر نے آلیا اللہ پاک کو جو منظور تھا وہی ہوا۔ میرے نہایت پیارئے دوست
ڈاکٹر تنویر احمد کے پیارئے ماموں جان جو میرے بھی ماموں تھے اپنے پیارئے
لاڈلے دوست اور بھانجھے ڈاکٹر تنویر کو چھوڑ گئے ۔دوسروں میں خلوص محبت
بانٹنے والے عظیم انسان اپنی ازلی منزل کو سدھار گئے۔ عجیب آزاد مرد تھے نہ
لالچ نہ جھوٹ بس سادگی کا ہی تو پیکر تھے اسجدماموں۔خدا مغفرت فرمائے اور
تمام احباب کو صبر عطا فرمائے۔
اسجد ماموں جو تتلیوں کے دیس کے مکیں ہوگئے۔۔۔۔
دِل سے کہے الفاظ جو محبت اور خلوص
کی خوشبو بکھیردیں ہمیشہ یاد رہتے ہیں
ایسا ہی تعلق جناب اسجدؒ مرحوم سے تھا میرا
تیس برسوں پر محیط تعلق میں بیسوں مرتبہ اُن سے شرفِ ملاقات تھا
لیکن اصل بات یہ ہے کہ
وہ میرے عزیز دوست کے لاڈلے اور پیارئے ماموں بھی تھے اور دوست بھی
بس میرئے لیے یہ ہی کافی تھا
کہ میرئے دوست کو اُن پہ کتنا ناز ہے
جب بھی ملاقات ہوتی تو
میں اپنے دوست سے ماموں اسجد کی بابت ضرور دریافت کرتا
میرا بچپن لڑکپن اُن کی خلوص بھری باتوں اور پیار سے لبریز جو تھا
اُن کے ذکر سے مجھے اپنے بچپن کی یاد آجاتی تھی
سادہ منش نہ کوئی لالچ نہ ہی کوئی ذاتی غرض
بہت بڑئے انسان تھے
اسجد ماموں :ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گئے
کوئی خود کو کیسے فراموش کر سکتا ہے
اللہ پاک اپنی جنت میں آپ کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)
اشرف عاصمی
No comments:
Post a Comment