Monday, 14 July 2014

حکومت کی طاہر القادری اور عمران خان کو مذاکرات کی پیش کش

حکومت کی طاہر القادری اور عمران خان کو مذاکرات

 کی پیش کش

میاں اشرف عاصمی کے قلم سے

حکومت کو بند گلی میں دھکیلنے میں جوش خروش سے مصروفِ عمل طاہرالقادری اور عمران خان کوحکومت نے رام کرنے کے لیے مذاکراتی عمل شروع کر دیا ہے اس ضمن میں طاہرالقادری سے مذاکرات کے لیے عشرت العباد اور عمران خان سے بات کرنے کے لیے ما ہتا ب خان عباسی کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے اِس حوالے سے حکومت نے اپنی اعلی سطع کی میتنگوں میں اِس امر کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب کہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور لوڈشیدنگ کی وجہ سے بھی عوام بے حال ہیں تو حکومت نہیں چاہتی کے ان حالات میں اُس کے لیے مسائل کھڑئے کیے جائیں اِس لیے ایک تو حکومت نے عمران خان اور طاہرالقادری کے 14 اگست ولے لانگ مارچوں کو روکنے کے لیے خود ہی میدان میں اُترنے کے لیے پورئے دو ہفتے کے لیے آزادی کی تقریبات کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے تاکہ ان تقریبات کی وجہ سے لانگ مارچ نہ ہو پائیں اور حکومت نے ایک اور حکمتِ عملی یہ طے کر ڈالی ہے کہ ان دو ہفتوں پر محیط تقریبات میں غیر ملکی سربراہان حکومتوں کو شرکت کی دعوت دینے کا پروگرام بنایا ہے تاکہ عمران خان اور طاہر القادری فیکٹر کو ڈیفیوز کیا جا سکے۔اِس ساری صورت حال میں حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ عمران خان سے گورنر مہتاب خان عباسی اور طاہر القادری سے گورنر عشرت العباد مل کر اُن سے اُن کے مطالبات پوچھیں اور اِس حوالے سے حکومت ان دونوں رہنماوں کو یہ یقین دہانی کروانا چاہتی ہے کہ ریلیوں جلسوں اور لانگ مارچوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ویسے بھی حکومت کو ابھی قائم ہوئے ایک سال گزرا ہے اور صرف ایک سال بعد اپوزیشن جماعت عمران خان کا تحریک چلانے کا اعلان درست نہیں لگتاملکی بدری کے بعد نواز حکومت کو سنبھالے اتنا عرصہ نہیں گزرا کہ نوبت سڑکوں پر نکلنے تک آجائے ۔اس طرح تو ملک میں انارکی پھیلے گی پہلے ہی ریاست دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے پاک فوج کو پوری قوم کی حمایت کی ضرورت ہے۔ طاہر القادری کے پاس انتخابی طاقت نہیں اور حال ہی میں ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاون کی وجہ سے وہ میڈیا میں اِن ہیں ۔اگر ہم اِس وقت عراق، مصر شام، لیبیاء، فلسطین، کشمیر اور عرب ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو قرین قیاس ہے کہ اس خطے کی ہیت تبدیل کرنے کے لیے امریکہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔پوری قوم کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حکومت کی جانب سے عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرنا اور اُن سے اُن کے مطالبات کی بابت مشاورت ایک احسن قدم ہے اوروقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔کیونکہ حالیہ عرصے میں ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات اِس طرح کے کسی ایڈوانچر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پاک فوج کی حمایت پوری قوم کی آواز ہونی چاہیے نہ کہ پوائینٹ سکورنگ کی جائے۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی وناصر ہو اور حکمرانوں سمیت تمام سیاستدانوں کو حالات کا ادراک کرنے کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔


No comments:

Post a Comment