Tuesday, 22 July 2014

انسانی آزادیوں کی گھمبیر حالت اور آئین پاکستان

 انسانی آزادیوں کی گھمبیر حالت اور آئین پاکستان 

MIAN ASHRAF ASMI ADVO


آئین و قانو ن پر جب تک عمل درامد نہ ہو تو اٌس وقت تک اٌس کی اہمیت کتابو ں میں لکھے الفاظ کی سی ہے۔تیسر ی دنیا میں بالعموم یہ صو رتحا ل دیکھنے میںآتی ہے کہ وہا ں انسانی حقوق کی پامالی زورو ں پرہے بد قسمتی سے پا کستان بھی برما جیسے مما لک کی صف میں کھڑ ا نظر آتا ہے حکو متی سطح پر آئین پاکستان کومحض ایک مقدس دستاویز کا درجہ دیا گیا ہے جہمو ریت کا نام لے کر نہ تھکنے والے حکمران آئین میں دیے ہو ئے انسا نی حقوق دینے کا حق تو دور کی بات ہے وہ تو جینے کا حق بھی چھین لینے کے در پے ہیں سیاست دان جب اپو زیشن میں ہو تے ہیں تو اِن کی زبان شعلے اٌ گل رہی ہو تی ہے اور جب یہ ہی سیاست دان حکمرانی کا تاج پہن لیتے ہیں تواِن کی زبان منافقت کی آماجگا ہ بن جاتی ہے اٌن کوحکو مت میں رہتے ہو ئے سب اچھا نظر آتا ہے ہر طرف معاشی استحکام نظر آتاہے انسانی آزادی کا ہر طرف ڈھنڈورا پیٹنے والے سیاستدان کسی آمر سے کم نہیں ہو تے ۔ مو جو دہ دورمیں پو ری دنیا ایک ویلج کی صورتحا ل اختیار کر چکی ہے یہ با ت مشاہدے میںآتی ہے کہ پرائیویٹ اداروں میں بالعموم اور حکو متی اداروں میں بالخصو ص نچلے درجے کے ملا زمین سے انسانیت سوزسلو ک کیا جاتا ہے کم تنخواہ پر گھریلو ملازمیں کو رکھنا ۔خواتین کو پرائیویٹ سکیٹر میں مرد حضرات سے آدھی تنخواہ دینا ۔خواتیں اور چھو ٹے بچوں کو ہراساں کرنا ہمارے ملک میں ایک ایسا رواج بن گیا ہے کہ اب اس حوالے سے کو ئی بھی توانا آواز سنائی نہیں دیتی آئین پاکستان ہیومن رائیٹس کے حوالے سے واضح انداز میں انسانی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔
ہمارے آئین کا آرٹیکل 17کہتا ہے ۔ ہر شہری کو ایسوسی ایشن یا یونین سازی کا حق
حا صل ہو تا ہے اس ضمن میں ملکی سا لمیت اوریک جہتی کو ملحوظ خاطر رکھا جا ئے گا اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی اور اخلاقی پہلو بھی پیش نظر رہیں گے۔ہر شہری جو کہ
حکو مت پاکستان کا ملا زم نہ ہواٌسے حق حا صل ہو گاکہ وہ سیا سی جماعت قائم کرے یا کسی بھی سیاسی جماعت کا ممبر بنے اس سلسلے میں ملکی سلامیت اور حا کمیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے اگر کو ئی بھی سیاسی جماعت وفاقی حکو مت کی طرف سے ملکی سلامتی اور حاکمیت کے خلاف قراردے دی جائے تو وفاقی حکو مت پندرہ دن کے اندر اندر معاملہ سپریم کو رٹ آف پاکستان کو بھیجے گی ۔سپریم کورٹ کا فیصلہ اس حوالے سے فائنل ہو گا ۔ہر سیاسی جماعت اپنے ذرائع آمدنی کی بابت جوابدہ ہو گی کہ اٌس نے فنڈز کن ذرائع سے حا صل کیے آئین کا آرٹیکل نمبر 17 ہیو من رائیٹس کنوینشن کے آرٹیکل11 سب آرٹیکل) 1 (اور 2 سے ما خوذہے اور ہندوستانی آئین 1956کے آرٹیکل19 سب آرٹیکل1 کا اور4 اور1962 کے آئین کے بنیا دی حقوق نمبر7 سے مما ثلت رکھتا ہے آرٹیکل17 سب آرٹیکل2 شہریو ں کو ایک بنیادی گا رنٹی دیتا ہے کہ وہ آزادی سے پاکستان کے گورنس کے معاملا ت میں سیاسی سرگر میوں کی مدد سے حصہ لے سکتے ہیں قابل قبو ل پا بندیو ں کے تحت یہ بات آئین میں یقینی بنائی گئی ہے کہ ہر شخص کا یہ بنیادی فرض ہے کچھ کہے ،پرنٹ کرائے،شائع کرائے وہ سب سچ پر مبنی ہو پی ایل ڈی2008 کراچی558 کے مطابق Reasonableلفظ کا مطلب یہ ہے کہ صیح ،سچا ،ٹھیک انصا ف پر مبنیReasonable پا بند ی سے مراد یہ نہیں کہ ملک کے بیشتر حصے کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا ئے پی ایل ڈی 2009ایس سی107 پی ایل ڈی 1989ایس سی66 کے مطابق کسی بھی شخص کی طرف سے سیاسی جماعت قائم کرنا یا کسی بھی سیاسی جماعت کا رکن بننے سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتاہے اور قومی اسمبلی میں اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت کی بنا پر حکو مت قائم کر سکتا ہے اس آرٹیکل کے تحت ایک ایسا نظا م ترتیب دیا گیا ہے جہا ں کو ئی بھی سیاسی جماعت قائم کر نا یا سیاسی جماعت کا کام کرنا روکا جاسکتاہے ۔
اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اٌن کا ایکٹ ملکی سا لمیت کے خلاف ہے آئین پاکستان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مملکت خدادِ پاکستان میں حق انجمن سازی ہرطبقہ فکر کو دیا جائے ایسے معاشرے میں جہا ں جا گیردارانہ سوچ اور سرمایہ درانہ اندازحکمرانی نے پورے معاشرے کو شکنجے میں پھنسا رکھا ہے وہا ں زبان کو کھو لنا اور سچ کہنا جرم قرار پاتا ہے مزدوروں کی یو نیں سازی کا مقصد مزدوروں کے حقوق کی حفاظت اٌن کی اٌجرت میں اضا فہ کروانا ۔مزدوروں کے اوقات کار کو بہتر بنوانا ہے۔درحقیقت حق انجمن سازی کی بدولت آجر کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے انجمن سازی کی بدولت مزدوروں کی حا لت بہتر ہو تی ہے ۔رجسٹرڈشدہ انجمن اس پو زیشن میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ممبران کی ایما پر آجروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنا سکتی ہے ۔اوروہ مزدوروں کے حقوق کی تحفظ کر سکتی ہے آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق ضروری نہیں کہ یونین رجسٹرڈہو آئین پاکستا ن کا آرٹیکل نمبر 17 اس بات کی دلا لت کرتاہے کہ پاکستان میں رہنے والے تما م لوگ بلا امتیا ز مذہب فرقہ ،ذات پات قومی دھارے میں شریک ہو کر اپنا سیا سی کردار ادا کریں اس سلسلے میں قرارداد مقاصد نے بھی آئین پاکستان کا رٌخ متعین کر دیا کہ کسی کو کسی طرح کی سیاسی سرگرمیو ں میں حصّہ لینے سے نہیں روکاجا سکتا۔ آئین پاکستان میں اخلاقیات کو انتہا ئی اہمیت کا
حا مل قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن پا ک میں سورۃ انعام کی آیت نمبر152میں ارشاد ہوتاہے کہ بے شرمی والے کاموں کے نزدیک مت جاوٌکام چھپے ہو ئے ہوں یا کھلے عام پس ہر مسلمان کا یہ فر ض ہے کہ وہ س بات کو یقین کی حد تک سمجھے کہ کیا اخلا قیات ہیں اور کیا اخلا قیا ت نہیں۔ایک ایسو سی ایشن اور سیاسی پارٹی ،کمپنی فرم ،سوسائٹی یا کلب کی شکل میں ہو سکتی ہے ۔لوگ با ہم مل کر سیاسی ،معاشی،سماجی ،مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہو سکتے ہیں اور لوگوں کے مقاصدسا ئنس ،مذہب ،آرٹ ادب کے فروغ کے لیے بھی ہو سکتے ہیں گویا کہ انجمن سازی اخلاقی دائرے کے اندر رہ کر کرانے کی آئین اجازت دیتاہے کسی بھی ادارے کو اس بنا پر ریا ست کے خلاف سرگر میو ں میں حصہ لینے پر کا م کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔کسی بھی حکو متی ملازم کو اس حق سے روکا نہیں جا سکتا ہے کہ وہ انجمن سازی نہیں کر سکتا۔
ہا ں لیکن سیاسی سرگرمیوں میں حصّہ لینے لے پر پابندی ہے پاکستانی عدالتوں نے یہ قراردیا ہے کہ صوبائی حکومتیں کسی بھی جماعت کو ملک دشمن سرگرمیوں میں حصّہ لینے کی بنا پر کام سے روک سکتی ہیں۔آئین کے آرٹیکل کی توضیح و تشریح اس با ت کی دلالت کرتی ہے کہ دیں اسلام جو کہ دیں فطرت ہے اٌس کی روشنی میں کو ئی بھی شخص بلا امتیاز جنس ، رنگ ، نسل ،مذہب ،اپنے حقوق کے لیے آواز اٌٹھا سکتا ہے اورسیاسی سرگرمیو ں میں حصّہ لے سکتاہے اگر ہم موجودہ حالا ت میں نجی اداروں کا جائزہ لیں تو یہ بات باعث شرم ہے کہ وہ حقوق جو آئین ہر کسی کو دیتا ہے نجی اداروں میں اِن حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے کہیں اوقاتِ کا ر اور کس اْجرت کے لیے آواز بلند کرنے
پرمزدوروں کوفیکٹریوں کارخانوں سے نکال دیا جا تا ہے۔ نجی اداروں میں حفظا نِ صحت کے اصولوں کو بھی برٌی طرح پامال کیا جا رہا ہے ۔اس ضمن میں حکو متی اداروں میں ورکرزپر ہو نے والے ظلم کا سدباب کیا جائے تو ممکن ہو سکتا ہے کہ اِس دور میں جب ا نفا ر مے اپنے عروج پر ہے عوام الناس کو حقِِ آواز دیا جا سکے آئین کے آرٹیکل 17 کے حوالے سے حکومتی اداروں میں بھی عمل نہیں ہو رہا خصوصاً ریلوے ،واپڈ ا میں کا م کرنے والے ملازمین کو ڈیلی ویجز ،کنٹرکٹ کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے اور بنیادی سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے ۔کنٹرکٹ کی تلوار ہر وقت ورکروں کے سر پر لٹک رہی ہے سرمایہ دارانہ نظا م کے ٹھیکے داری سسٹم کو کسی بھی طرح قائم رکھنا انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے ۔
صحا فیوں ، علماء،دانشوروں ،وکلا ء،سول سوسائٹی ،اسا تذہ د سب کو اس ضمن میں اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے کہ پاکستان میں اکیسوں صدی کے ما ڈرن دور میں جب دنیا ایک گاوء ں کی شکل اختیا ر کر چکی ہے ۔تمام طبقوں کو انسانی حقوق بلاا امتیاز میسر آسکیں ۔
حکو متی اداروں نجی کا رخا نوں ، گھریلو ملا زمین خصوصاً چو کیدا ر ،نائب قاصد ، مزدور اِس حق کے طلب گار ہیں کہ حکومت اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا تے ہو ئے خو فِ خدا
کر ئے اور معاشرے کے نچلے اور محروم طبقوں کو بھی جینے کا حق دے۔

No comments:

Post a Comment