Saturday, 12 July 2014

انجمن طلبہء اسلام سے وابستہ شاہیوں کے شہر سرگودہا کے سپوت اقبال چوہدری شھید




انجمن طلبہء اسلام سے وابستہ

شاہیوں کے شہر سرگودہا کے سپوت اقبال چوہدری شھید

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


رمضان المبارک کی ان عظیم ساعتوں میں جناب شھید اقبال چو ہدریؒ کی یاد سے ایک عجیب سے کیفیت طاری ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس نے عین اپنی جوانی کے ایام میں اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا نبی کریمﷺ کی محبت کو بنا لیا تھا۔ راقم جب گورنمنٹ کالج آف کامرس سرگودہا میں فرسٹ ائیر میں داخل ہوا تواُس وقت مارشل لاء کا دور تھا۔ تعلیمی اداروں طلبہ تنظیمیں فعال کردار ادا کر رہی تھیں۔ اُس دور میں طلبہ کے پاس پڑھائی کے اوقات کے علاوہ فارغ وقت کا فی ہوتا تھا۔ نہ کمپیوٹر ، نہ موبائل فون اور نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی کیبل ٹی وی۔ یہ فارغ وقت یا تو محلے میں قائم لائبریریوں سے کتب لے کے کر مطالعہ میں گزرتا یا پھر غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیموں میں طالب علم شمولیت اختیار کرلیتے۔راقم کی ملاقات اپنے کالج آفس کے پاس محترم سینئر دوست مشتاق احمد صا حب نے ایک نوجوان محترم اقبال چوہدری کے ساتھ کروائی اور کہا کہ اِن سے رابطہ رکھا کریں اقبال چوہدری شھیدؒ نے مجھے نوائے طلبہ کی کچھ کاپیاں دیں گھر آکر میں نے اپنے ماموں جان محترم حکیم میاں محمد عنایت خان قادری نوشاہی صاحب کو جب اِس تنظیم کی بابت بتایا تو ماموں جان نے کہا کہ ٹھیک ہے تم اِس تنظیم میں شمولیت اختیار کر لو اِس کے نظریات بالکل درست ہیں یوں قافلہء عشق و مستی انجمن طلبہٗ اسلام کا میں ہمسفر بنا گیا اقبال چوہدری صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں وہ اُس وقت سرگودہا ضلع کے کنوئیر تھے اور برادرم غلام مرتضیٰ سعیدی صاحب سرگودہا شہر کے کنونیر اور گورنمنٹ کالج سرگودہا میں سال چہارم کے طالب علم تھے۔ غلام مرتضیٰ سعیدی ڈی بلاک سیٹلائٹ ٹاون سرگودہا میں اقبال چوہدری شھید کی سٹر یٹ میں ہی قیام پذیر تھے۔یوں ان احباب کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہوا کہ اِس تعلق نے میری زندگی میں عشق مصطفی کریمﷺ کے حوالے سے ایک سوچ کو جنم دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ اقبال چوہدری شھید سے روزانہ ملاقات ہوتی اور یوں ہم سرگودہا میں اِن کی قیادت میں مختلف کالجز اور علاقائی یونٹوں میں جاتے اور عشق مصطفےﷺ کا پیغام پہنچاتے۔ اقبال چوہدری سے میری رفاقت صرف چند سال پر محیط پر لیکن اِن چند سالوں میں یقینی طور پر اقبال چوہدری شھید نے ہمیں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی بجائے عشق رسولﷺ بطور نظریہ حیات سے روشناس کروادیا۔ یوں گورنمنٹ کالج سرگودہا ،انبالہ مسلم کالج سرگودہا، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ سرگودہا ،کامرس کالج سرگودہا میں باقاعدگی سے انجمن کے یونٹ کام کرنے لگے ۔ افتخار شھید یونٹ، صدیق اکبرؓ یونٹ، جوہر کالونی یونٹ،شمشیر ٹاون یونٹ اِسی طرح کام بڑھتا چلا گیا۔ اِس قافلہِ عشق و مستی میں جاوید مصطفائی،رفیق انجم مرحوم،اسلم رانجھا، غلام مصطفےٰ بلوچ ، حماد احمد بگوی، جوا د ا حمد بگوی، رضاالدین صدیقی، ڈاکٹر تنویر احمد چوہدری، ملک امتیاز، وحید ملک، ڈاکٹر عرفان علی ظفر ، اسلم حیات میرے ساتھی تھے، بعد ازاں راجہ اظہر عباس ،جناب صاحبزادہ احمد ندیم رانجھا صاحب جیسے لوگ بھی ہمارئے اس قافلے میں شامل ہوئے۔ سرگودہا میں ایک درویش صفت ساتھی جاوید مصطفائی نے حقیقت میں انجمن کے دوستوں کے درمیان رابطہ کا کام کیا اور انجمن کے کام کے لیے بھرپور جدوجہد کی بلکہ پابند سلاسل بھی رہے۔ اِسی طرح آسٹریلیا میں مقیم ہمارئے بھائی ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر بھی ہمارئے ساتھ شفقت فرماتے اُس وقت راولپنڈی میڈیکل کالج کے طالب علم تھے لیکن سرگودہا سے تعلق ہونے کی بناء پر جب بھی فراغت ہوتی تو ہماری تربیت فرماتے۔ یوں اقبال چوہدری شھید نے ہمیں بالکل کالج کے ابتدائی ایام میں دوستوں کے اچھے خاصے گروپ میں شامل کروا دیا۔اقبال چوہدری شھید جب بھی کسی تعارفی نشست میں اپنا تعارف کرواتے تو فرماتے خاکسار کو الفاظ کی ترتیب میں اقبال چوہدری کہتے ہیں۔ مرحوم نے ایم ائے اکنامکس کا امتحان دیا ہوا تھا کہ تنظیمی کام کے سلسلے میں جارہے تھے کہ ایکسیڈنٹ میں شھید ہوگئے قافلہ عشق رسولﷺ کے لیے دن رات کام کرنے والے اقبال چوہدری اپنے آبائی گاؤں چک چھیاسی شمالی سرگودہا میں آسودہ خاک ہیں۔آپؒ دسمبر 1986میں ہم سے جدا ہوکر حیات جادوانی کا جام پی گئے۔اقبال چوہدری شھید حقیقی معنوں میں اقبال کے شاہین تھے۔ بے باک اور باہمت نوجوان جو کہ اپنے زندگی عشق مصطفےﷺ کے فروغ کے مشن کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔ آپ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہماری سوچوں کی آبیاری کی اور بہت سے دوستوں کو عشقِ نبی پاک ﷺ کے عظیم مشن سے روشناس کروایا۔تنظیمی کاموں کے سلسلے میں اکثر بہت بھاگ دوڑ کرتے اُُن کے بھائی جناب چوہدری اکرم صاحب اور چوہدری افضل صاحب سے نیاز مندی رہتی ہے اُن کو عین اپنی شباب عمری میں داغِ مفارقت دئے جانے والے اقبال چوہدری شھید کی شہادت کا دکھ ہے اور انجمن کے دوستوں کو بھی اِس حوالے سے بہت دُکھ پہنچا تھا۔ بہت شدید صدمہ تھا ہمارئے لیے۔ اللہ پاک شھید کے درجات میں بلند فرمائے ۔اقبال شھید کے ساتھ گزارئے ہوئے لمحات زندگی کا اثاثہ ہیں ۔ اللہ پاک نے جوانی میں ہی ہم سے ہمارا جواں سال ساتھ لے لیا۔ قدرت کے اپنے ہی انداز اور طریقے ہوتے ہیں انسانی سوچ اُسکا احاطہ نہیں کر سکتی۔اللہ پاک شھید کو بلند درجہ عطا فرمائے آمین۔
شھید کی یاد میں چند الفاظ یہ بھی۔۔۔۔۔۔۔


کہنے کو تو چند سال کی رفاقت تھی
اور ایک تنظیمی تعلق
لیکن شھید نے جو درس ہمیں دیا کہ
قافلہ رُکنے نہ پائے، اسباب کی فکر نہیں کرنی
نبی پاک ﷺ کے عشق کے فروغ کے
اپنی جان پہ پیش کر دی جائے
اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو
غلامی رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے
جو ہو نہ عشقِ مصطفےٰﷺ تو زندگی فضول ہے
ڈرائیں گی بھلا کسے یہ راستے کی سختیاں
ہم عظمت رسولﷺ کے پاسبان ہیں پاسبان

No comments:

Post a Comment