Tuesday, 25 February 2025

انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں اور ان کا حلSahibzada Mian Muhmmad Ashraf Asmi Advocate & Human Rights Activist

 Sahibzada Mian Muhmmad Ashraf Asmi Advocate & Human Rights Activist

  انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں اور ان کا حل

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

 میں عدالتی نظام کو درپیش مسائل کی جڑیں کئی عوامل میں پیوست ہیں، جن میں ناقص طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) سب سے نمایاں ہے۔ جب حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرتے، تو عوام کو اپنے حقوق کے لیے عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے، اور انصاف کی فوری فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔ناقص گورننس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام کو بنیادی حقوق اور سہولیات میسر نہیں آتیں،  حکومتی محکمے  کام نہیں کرتے۔ حالت یہ ہے کہ آپ کسی بھی حکمتی محکمے کے دفتر میں چلے جائیں اول تو عملہ موجود ہی نہیں ہوتا اگر ہو بھی تو کام نہ کرنے کے بہانے  بنائے جاتے ہیں اور عوام کو ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک سول جج کے سامنے روزانہ ڈھائی سے تین سو کیسز پیش ہوتے ہیں، جبکہ عملی طور پر وہ صرف 40 سے 45 کیسز پر مناسب توجہ دے سکتا ہے۔ عملے کی کمی اور سہولیات کے فقدان کے باعث یہ بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث عوام کو تاریخ پر تاریخ ملتی رہتی ہے اور مقدمات کے فیصلے دہائیوں تک التوا کا شکار رہتے ہیں۔قرآن پاک میں اس صورتحال کی نشاندہی ان الفاظ میں کی گئی ہے:''اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں، پس اس پر عذاب کا حکم ثابت ہو جاتا ہے، پھر ہم اسے برباد کر دیتے ہیں۔'' (سورۃ الإسراء، آیت 16)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جب حکمران اور معاشرے کے طاقتور افراد اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے تو پورے نظام میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال پاکستان میں نظر آتی ہے، جہاں ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں، اور اس کا براہِ راست اثر عدلیہ پر پڑتا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی ایک اور بڑی وجہ ججز اور عدالتی عملے کی کمی ہے۔ جب ایک جج کو روزانہ سیکڑوں کیسز سننے ہوں، اور ساتھ ہی عملے کی کمی کا سامنا ہو، تو انصاف کی فراہمی کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ فیصلے لکھنے کے لیے سٹینوگرافر کی عدم موجودگی یا ریڈر کی غیر حاضری بھی مقدمات میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ارشد ہے کہ''جب حکمرانی نااہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔'' (صحیح بخاری، حدیث نمبر 59) ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی موجودہ صورتحال پر صادق آتی ہے، جہاں نااہل افراد کی تقرری اور غیر مؤثر حکمرانی کے باعث عوام کو انصاف کے حصول میں دشواریاں پیش آتی ہیں۔ اگر عدالتی عملے اور ججز کی تعداد بڑھا دی جائے، اور ان کے لیے سہولیات کو بہتر بنایا جائے، تو انصاف کی فراہمی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔پاکستان میں انصاف کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ معاشرتی اخلاقیات کی زبوں حالی بھی ہے۔ ایک مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کریں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔ تاہم، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں دھوکہ دہی اور جھوٹ عام ہیں، جس کے باعث مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر لوگ قرآن اور سنت کی تعلیمات پر عمل کریں تو عدالتوں کا بوجھ خودبخود کم ہو جائے گا۔قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے ''بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور رشتہ داروں کو دینے کا بھی، اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو۔'' (سورۃ النحل، آیت 90)۔اس آیت میں انصاف اور احسان کو معاشرتی نظام کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اگر لوگ خود انصاف پسند اور ایماندار ہو جائیں، تو مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔سقراط (Socrates): سقراط کے نزدیک انصاف کسی بھی معاشرے کی بقاء کے لیے لازمی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ انصاف صرف قوانین کی پاسداری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ اگر لوگ اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں، تو عدالتوں پر بوجھ خودبخود کم ہو جائے گا۔افلاطون (Plato): افلاطون نے اپنی کتاب ''ریپبلک'' میں انصاف کو ریاست کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق، ایک منظم اور انصاف پسند معاشرے میں ہر فرد اپنے فرائض انجام دیتا ہے، اور اس کے نتیجے میں انصاف خودبخود قائم ہو جاتا ہے۔پاکستان میں اگر لوگ اپنے اخلاقی اور قانونی فرائض ایمانداری سے ادا کریں، تو عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے۔ ججز اور وکلا کو بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے، جیسا کہ سقراط اور افلاطون نے سکھایا۔جان لاک (John Locke): لاک نے قانون کی حکمرانی (Rule of Law) پر زور دیا، جس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں گڈ گورننس کے فقدان کے باعث لوگوں کو عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جبکہ لاک کے نظریے کے مطابق ایک مؤثر حکومت کے ذریعے اس بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau): روسو نے سماجی معاہدے (Social Contract) کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق حکومت اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا۔ اگر حکومت اور عوام دونوں اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کریں، تو عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو جائے گا۔

جان رولز (John Rawls)نے انصاف کو سماجی مساوات کی بنیاد قرار دیا۔ اس کے مطابق، انصاف کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ پاکستان میں اگر لوگوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق اور سہولیات فراہم کی جائیں، تو عدالتی نظام پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔الگزینڈر ہیملٹن (Alexander Hamilton): ہیملٹن نے ایک مضبوط عدالتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے مطابق، ایک مؤثر عدالتی نظام ہی لوگوں کے حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے۔ پاکستان میں ججز اور عدالتی عملے کی تعداد بڑھا کر اور ان کے لیے بہتر سہولیات فراہم کر کے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کریں تاکہ لوگوں کو عدالتوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔عدالتی عملے اور ججز کی تعداد بڑھائی جائے: ججز کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں اور روزانہ کے کیسز کی تعداد محدود کی جائے۔لوگوں میں دیانتداری اور ایمانداری کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو۔قوانین کو سادہ اور مؤثر بنایا جائے تاکہ مقدمات کے فیصلے جلد ہو سکیں۔پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے گڈ گورننس، عدالتی نظام کی اصلاح، اور معاشرتی اخلاقیات کی بہتری ضروری ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات، یونانی فلسفیوں کے افکار، اور مغربی مفکرین کی آرا ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ انصاف صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر فرد اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے، تو نہ صرف عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ پورا معاشرہ انصاف اور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ قارئین محترم: دُنیا  میں خوشحالی کا ایک ہی معیار ہے وہ ہر ہر شعبے میں انصاف ہونا چاہیے۔ جب انصاف نہ ہوگا تو پھر معاشرے معاشی، سماجی عمرانی طور پر شکست و ریخت کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔پاکستان میں خوشاحالی کے لیے نظام  انصاف کو بہتر کرنا ہوگا۔ سارا بوجھ عدالتوں کی بجائے  تمام حکومتی محکمہ  جات کو ایمانداری سے کام کرنا ہوگا تب ہی عدالتوں پر سے جو مقدمات کا پہار  کھڑا ہے اُس کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ بقول فیضؒ،ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے،وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

Wednesday, 19 February 2025

چیئرمین نیب کے نام انسانی حقوق کے علمبردار کا کھلا خطOpen Letter to the Chairman of NAB from a Human Rights Advocate Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi Advocate

 چیئرمین نیب کے نام انسانی حقوق کے علمبردار کا کھلا خط

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

چیئرمین ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل


محترم جناب چیئرمین نیب، السلام علیکم!میں انتہائی تکلیف دہ جذبات کے ساتھ آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں۔ جنابِ عالی، پاکستان میں اس وقت معاشی اور سماجی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے بھی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میں ایک ایسی بہن کی فریاد آپ کے حضور پیش کر رہا ہوں جس کا بھائی آپ ہی کے ادارے میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، لیکن اس کی بیوی فرح منگی ہر جرم کی اصل ماسٹر مائنڈ ہے۔ اس شخص نے اپنی بیوی فرح منگی کے اشاروں پر اپنی ماں اور بہن کے ساتھ بے رحمانہ دھوکہ کیا، مالی فراڈ کیا اور سنگین ناانصافی کی۔ ماں ایک اذیت ناک حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں، جبکہ عرفان منگی اور اس کی بیوی فرح منگی اپنی سازشوں میں مصروف رہے اور کراچی تدفین کے لیے تک نہ آئے۔جب بہن نے اپنے بھائی اور بھابھی کی دھوکہ دہی کے خلاف آواز بلند کی، تو فرح منگی نے اس کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا اور اسے ہراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس بہن نے اپنے تمام شواہد پہلے ہی بذریعہ کوریئر آپ کے دفتر بھجوا دیے ہیں۔ میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں کہ اس بے بس بہن کی فریاد سنی جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔یہ معاشرے کی بے حسی کی انتہا ہے کہ ایک ماں کو ہی لوٹ لیا جائے، اسے زبردستی طاقتور نیند آور ادویات دی جائیں تاکہ اس کی دولت پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس تمام ظالمانہ کھیل کی مرکزی کردار فرح منگی ہے، جس نے اپنے شوہر عرفان منگی کو ماں اور بہن کے خلاف استعمال کیا۔یہ المناک کہانی ریٹائرڈ ڈاکٹر کلثوم منگی کی ہے، جن کے ساتھ فرح منگی اور عرفان منگی نے ناقابلِ یقین ظلم کیا۔ ان کی پنشن اور بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹس ان کے ذاتی اخراجات اور طبی ضروریات کے لیے تھے، مگر فرح منگی کے منصوبے کے تحت عرفان منگی نے ان کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ہر سال دو مرتبہ کراچی آکر، عرفان منگی اپنی ماں سے پانچ لاکھ روپے کے چیک حاصل کرکے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کروا لیتا تھا۔ 2013 میں، فرح منگی کے اکسانے پر اس نے اپنی والدہ کو پشاور لے جا کر بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹس میں اپنا نام بھی شامل کروا لیا، جو اصل میں صرف کلثوم منگی کے نام پر تھے۔فرح منگی نے اپنے شوہر عرفان منگی کے ساتھ مل کر کلثوم منگی کو طاقتور نیند آور ادویات دے کر ان کی ذہنی حالت خراب کر دی، جس کے بعد یہ سرٹیفیکیٹس ایک مشترکہ اکاؤنٹ میں منتقل کروائے گئے۔ بعد میں، ماں کو آسٹریلیا بھیج دیا گیا، جہاں وہ مکمل طور پر تنہا تھیں، اور اس کے پیچھے بھی فرح منگی کی چالاکی شامل تھی۔عرفان منگی نے 2004 میں اپنی والدہ کے پنشن اکاؤنٹ میں اپنا نام شامل کروا لیا، حالانکہ یہ اکاؤنٹ صرف 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے مخصوص تھا۔ اس نے اپنے سرکاری اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر اسے اپنے قبضے میں کر لیا، اور یہ سب فرح منگی کے اشارے پر ہوا۔مزید برآں، فرح منگی نے اپنی ساس کو قائل کیا کہ تمام زیورات، نقدی، اور قیمتی اشیاء ایک مشترکہ لاکر میں رکھ دی جائیں۔ بعد میں، یہ تمام اشیاء فرح منگی اور عرفان منگی کے قبضے میں چلی گئیں، جن کی مالیت کروڑوں روپے تھی۔2024 میں جب کلثوم منگی کی طبیعت بگڑ گئی، تو انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، مگر ان کے دونوں بیٹے عرفان منگی اور کامران منگی ان کی عیادت کے لیے نہ آئے۔ حد تو یہ ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد بھی دونوں بھائی تدفین میں شریک نہ ہوئے، جبکہ اس ظلم کی اصل ذمہ دار فرح منگی نے اس معاملے میں سب سے زیادہ منفی کردار ادا کیا۔یہاں ایک واحد فرد جس نے اپنی ماں کی آخری دنوں میں خدمت کی، وہ تھیں ان کی بیٹی، ڈاکٹر فوزیہ نعیم منگی۔ وہ خود بھی دو سال قبل ریٹائر ہو چکی ہیں۔ افسوس کہ اپنی ماں کی خدمت کرنے کے جرم میں فرح منگی نے اپنے شوہر عرفان منگی کو بہکایا کہ وہ اپنی بہن کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر اس کی کردار کشی کرے۔جب ڈاکٹر فوزیہ نعیم منگی کو اپنی ماں کے ساتھ ہونے والے مالی فراڈ کا علم ہوا تو انہوں نے عرفان منگی سے کہا کہ وہ ماں کی رقم واپس کرے، مگر فرح منگی نے عرفان منگی کو مزید بھڑکایا اور بہن کو بدنام کرنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ڈاکٹر فوزیہ نعیم منگی نے انصاف کے حصول کے لیے چیئرمین نیب کو درخواست دی، لیکن چونکہ عرفان منگی نیب کے محکمے میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، اس لیے وہ اپنی بیوی فرح منگی کے اشاروں پر اپنی بہن کو ہراساں کر رہا ہے اور جھوٹے الزامات لگا کر اس کا وقار مجروح کر رہا ہے۔محترم چیئرمین نیب!میری آپ سے درد مندانہ درخواست ہے کہ اس بہن کی فریاد پر فوری توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔ اس تمام جرم کی اصل ذمہ دار فرح منگی کو بھی کٹہرے میں لایا جائے، کیونکہ وہی اس مالیاتی بدعنوانی اور خاندانی تباہی کی اصل مجرم ہے۔آپ کے ادارے میں کام کرنے والے اس افسر اور اس کی بیوی کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، جنہوں نے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ظلم کیا۔والسلام،صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ،چیئرمین ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل                        


Open Letter to the Chairman of NAB from a Human Rights Advocate
Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi Advocate
Chairman, Human Rights Front International

Respected Chairman NAB, Assalamu Alaikum!

Today, with deep anguish and sorrow, I present this plea before you. The economic and social conditions in Pakistan are evident to all, and seeking justice has become an uphill struggle. I bring to your attention the plea of a sister whose brother holds a senior position in your esteemed institution. This individual has falsely accused his innocent and helpless sister, defrauded her, and even deceived their mother. The mother passed away in an extremely painful situation, and this man, who was in Islamabad at the time, did not even travel to Karachi for her burial. Instead, when the sister raised her voice against her brother’s fraud, he began harassing her. Below, I outline the full details of this distressing case.


I shudder to think what would happen if even the weak judicial system of this society were absent—elites would completely devour the common people. In a society where a 90-year-old mother is robbed, where she is given high-potency sedatives so that her wealth can be seized, one can do nothing but lament the insensitivity of such a community. The status of a mother in Islam and Islamic society is of the highest regard. The Quran and Sunnah have explicitly stated the greatness and rights of a mother. The Holy Quran emphasizes the importance of a mother’s rights:“And We have enjoined upon man [care] for his parents. His mother carried him, [increasing her] in weakness upon weakness, and his weaning is in two years.” (Surah Luqman: 14)This is the tragic story of a retired doctor, Kulsoom Mangi, whose treatment at the hands of her own sons exposes the insensitivity of our society. This story highlights the aspects of our social fabric filled with greed and callousness. Dr. Kulsoom Mangi’s pension and welfare savings certificates were meant for her personal expenses and medical needs. However, in her final days, she faced nothing but hardship. Her eldest son, Irfan Mangi, exploited her finances. Twice a year, he would visit Karachi and obtain checks worth 500,000 rupees from his mother, depositing them into his personal account.In 2013, Irfan Mangi took his mother to Peshawar and had his name added to her welfare savings certificates, which were originally solely in her name and held a total value of 7.5 million rupees, generating an annual profit of 1.2 million rupees. Irfan and his wife, Farah, manipulated Dr. Kulsoom by administering powerful sedatives, which impaired her mental state. This allowed them to transfer these certificates into a joint account. Later, Irfan sent his mother to Australia on a visa, where she lived in complete isolation. Upon her return, her mental state had deteriorated to the extent that she could not even recall the events that transpired in Peshawar.

In 2004, Irfan Mangi had his name included in his mother’s pension benefit account, which is exclusively meant for individuals over the age of 60. Shockingly, using his government influence, he managed to get this account under his name. Additionally, Irfan and his wife convinced Dr. Kulsoom to store all her jewelry, cash, and valuables in a joint locker. These assets, worth millions, were later seized by Irfan and Farah.

In 2024, when Dr. Kulsoom Mangi’s health deteriorated, she was admitted to the hospital, yet neither of her sons, Irfan or Kamran, showed any concern. Even after her passing, they did not attend her funeral, whereas NAB Karachi staff members were present.Amidst this harrowing tale, there is one individual who stood by Dr. Kulsoom Mangi until her last breath—her daughter, Dr. Fauzia Naeem Mangi, who herself retired two years ago. Ironically, for the mere act of taking care of her mother, Dr. Fauzia became the target of character assassination by her own brother, Irfan Naeem Mangi. Two months before their mother’s passing, Dr. Fauzia discovered the financial fraud committed by Irfan, Farah, and Kamran. When she confronted Irfan and demanded that he return the misappropriated funds to their mother, he instead launched a smear campaign against her.

Dr. Fauzia Naeem Mangi sought justice by filing a complaint with the Chairman of NAB. However, since Irfan Mangi holds a senior position in NAB, he is abusing his authority to harass and defame his own sister.

Islam holds sisters in high regard, emphasizing kindness, respect, and goodwill towards them. Treating one’s sister with love and honor is a sign of faith. The teachings of Islam advocate for maintaining good relations and fulfilling their needs.

A Heartfelt Appeal to the Chairman of NAB

I earnestly request that you pay heed to this sister’s plea. The officer under your supervision, who has committed grave injustices against his own mother and sister, must be held accountable. Justice must be served to the aggrieved sister, and necessary actions should be taken against the perpetrator.

Sincerely,
Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi Advocate
Chairman, Human Rights Front International


Tuesday, 18 February 2025

معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ماں بولی میں خو بصورت کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں Ali Ahmad Kiyani AdvocateBook of Poetry

 معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ماں بولی میں خو بصورت کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں 


صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

 معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ساتویں کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آگئی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے ادبی دنیا میں جوش و خروش عروج پر ہے۔ ''صحرا صحرا رلیاں اکھیں '' کے عنوان سے یہ غزلیہ مجموعہ پہاڑی ادب میں ایک اہم اور خوب صورت اضافہ ہے۔ علی احمد کیانی، جو ادبی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت ہیں، نے اردو اور پہاڑی دونوں زبانوں کی ترویج اور ترقی میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے متاثر کن شعری مجموعوں اور نثری نگارشات میں اردو کی تین کتابیں  ''آنچل کی ہوا دو'' ''محبت لازمی کرنا '' اور ''آقا تیری گلی میں '' شامل ہیں۔ جبکہ پہاڑی میں، انہوں نے چار کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں ''پیار نے دیوے بال ''، جو محبت اور رشتوں کی خوبصورت تصویر ہے۔ ''پھل تہ کلیاں '' جو فطرت کی خوبصورتی کی عکاس ہے اور ''رنگ پرنگے تہاگے '' جو طنز و مزاح سے بھرپور ہے، قابل ذکر ہیں اور اب، ''صحرا صحرا رلیاں اکھیں '' ایک شاہکار شعری مجموعہ ہے  جو ان کی منفرد اور معیاری شاعری کا ایک حسین گلدستہ ہے جس کی تازہ مہک قارئین کو مسحور کرے گی۔ایک خوبصورت پہاڑی زبان میں لکھی گئی شاعری کی کتاب کو دیکھتے ہوئے، یہ احساس ہوتا ہے کہ ماں بولی میں کی گئی شاعری اپنی ایک الگ تاثیر رکھتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف زبانوں کے عظیم شعراء اور ماہرین نے  اپنے خیالات کا اظہا رخوبصور  ت انداز میں کیا ہے۔


پنجابی کے عظیم شعراء  اکرام،بلھے شاہ ؒ کے مطابق،''جیڑا اپنے گھر نوں وساری، اوہو جگ نوں کی وساوے۔'' (جو اپنی ماں بولی کو چھوڑ دے، وہ دنیا میں کہیں نہیں ٹھہر سکتا۔)اِسی طرح حضرت بابا وارث شاہ ؒ  کہتے ہیں ''جے عشق سچا ہووے، تے ہر زبان اچ سچ بولدا اے۔'' (اگر محبت حقیقی ہو تو ماں بولی میں کی گئی شاعری دل میں اتر جاتی ہے۔)

 عظیم روحانی شخصیت حضرت بابا فریدؒ کا کہنا ہے کہ ''بولیئے نیکا، جھک جھک بولیئے۔'' (ماں بولی میں الفاظ نرم ہوں تو اثر زیادہ ہوتا ہے۔) عظیم  پشتو شاعرخوشحال خان خٹکؒ کے خیال میں ''زبان دا راز اے، عشق دے ساز اے۔''(ماں بولی کا حسن اس میں چھپے جذبات سے ظاہر ہوتا ہے۔پنجاب بی عظیم صوفی شاعر جناب میاں محمد بخش ؒ کہتے ہیں کہ''ساہواں نوں کھلوتا رہن دے، پر ماں بولی نوں نہ بھلائیں۔''

(سانسیں چلتی رہیں یا نہ رہیں، مگر ماں بولی کو کبھی نہ چھوڑو۔

عربی زبان کے پا عظیم شعراء  اکرام  جن میں امرو القیس شامل ہیں  وہ کہتے ہیں  کہ''الشعر لسان القلب، فإن نطق بغیر لغتہ خسر جمالہ.'' (شاعری دل کی زبان ہے، اگر وہ اپنی اصل زبان میں نہ ہو تو اپنی خوبصورتی کھو دیتی ہے۔ جبکہ متنبی کہتے ہیں ''اللغۃ روح الأمۃ، وإن فقدت فقدت الأمۃ نفسہا.''(زبان قوم کی روح ہوتی ہے، اگر یہ ختم ہو جائے تو قوم خود کو کھو دیتی ہے۔احمد شوقیکے مطابق ''فی لغتنا کنوز لا یعرفہا إلا العاشقون.''(ہماری ماں بولی میں ایسے خزانے چھپے ہیں جنہیں صرف عشق کرنے والے جانتے ہیں۔ابو تمام کے مطابق ''الشعر ماء الحیاۃ، واللغۃ کأسہ.''(شاعری زندگی کا پانی ہے اور زبان اس کا جام ہے۔البحتری کے مطابق ''ما أجمل أن تغنی القوافی بلغۃ الأرض التی نشأت فیہا.'' (کتنا حسین ہے جب شعر اپنے ہی دیس کی زبان میں گایا جائے۔)

اِسی طرح فارسی زبان کے عظیم شعراء جن میں مولانا جلال الدین رومیشامل ہیں کہ مطابق ''ہر زبانی کہ از دل برخیزد، بر دل نشیند.''(جو زبان دل سے نکلتی ہے، وہی دل میں اترتی ہے۔)شیخ سعدی کے خیال میں 

''گفتار شیرین چون شہد، زبان مادری گوہر است.''(میٹھی زبان شہد کی مانند ہے اور ماں بولی ایک قیمتی گوہر ہے۔)حافظ شیرازی کہتے ہیں ''زبان مادر را رہا مکن کہ عشق در آن خانہ دارد.''(ماں بولی کو مت چھوڑو، اس میں محبت بسی ہوتی ہے۔)۔عمر خیام کہتے ہیں ''بہ زبان خود شعر گفتن، نزدیکترین راہ بہ حقیقت است.''اپنی زبان میں شاعری کرنا حقیقت کے قریب ترین راستہ ہے۔فردوسی کے مطابق''آن کہ زبان مادری را پاس ندارد، گویی خود را فراموش کردہ است.''(جو اپنی ماں بولی کی حفاظت نہ کرے، گویا وہ خود کو بھول چکا ہے۔

روسی زبان کے ماہریالیگزینڈر پوشکن کا کہنا ہے ''ماں بولی میں لکھی گئی شاعری دل کا آئینہ ہوتی ہے۔  لیو ٹالسٹائیکہتے ہیں 'اگر کسی قوم کو سمجھنا ہو تو اس کی شاعری کو پڑھو۔' اسِی طرحفیودور دستوئیفسکیکہتے ہیں کہ''شاعری زبان کو نہیں، جذبات کو بولتی ہے۔''انگلش زبان کے ماہر  ولیم شیکسپیئر کے مطابق ''الفاظ کی اصل طاقت ان کی ماں بولی میں پوشیدہ ہے۔'' اِسی طر ح  جان ملٹن  کہتا ہے کہ ''جو زبان تمہاری روح کو سکون دے، وہی اصل زبان ہے۔''اور رابرٹ فراسٹ کے مطابق ''میری بہترین شاعری میری ماں بولی میں ہے۔   ٹی ایس ایلیٹ کہتے ہیں: زبان صرف ذریعہ نہیں، بلکہ تخلیق کا جزو ہے۔

 شیلے کے مطابق: شاعری جب ماں بولی میں ہوتی ہے، تو خواب حقیقت بن جاتے ہیں۔فرانسیسی زبان کے ماہرین  وکتور ہیوگو کے مطابق: ماں بولی میں شاعری دل کی صدا ہے۔ چارلس بودلیئر کہتے ہیں: جو الفاظ دل سے نکلیں، وہی زبان کو امر کر دیتے ہیں۔ہسپانوی زبان کے ماہرین:ابن خلدون کے مطابق: زبان اور شاعری قوم کی پہچان ہیں۔ جبران خلیل جبران کہتے ہیں: جو بات ماں بولی میں کہی جائے، وہ سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ فرید الدین عطار کے مطابق: زبان کا حسن شاعری میں پنہاں ہے۔ ابوالعلاء معری کہتے ہیں: شاعری وہی سچی ہوتی ہے جو اپنی اصل زبان میں ہو۔


دکھ تے غم وچ کھلیاں اکھیں 

رونا   کد  یو   پہلیاں  اکھیں 


کن  سا   اتھرو   کہسنے  والا 

اج وی راتیں  ڈھلیاں اکھیں 


ہک پاسے دی  ساری  دنیاں 

ہک  پاسے یو  کہلیاں  اکھیں 


ہک  لیلیٰ نے عشقے  وچ  یو 

صحرا  صحرا   رلیاں   اکھیں 


یار  علی  نانہہ   اچھی   بسیا 

رہیاں کہلیاں  ملیاں  اکھیں 

علی احمد کیانی کی شاعری اور نثر ایک عرصے سے قارئین کے دلوں پر راج کرتی چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے ادب کے شائقین اور قارئین کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل کر رکھا ہے۔ ان کی خوب صورت اور فکر انگیز شاعری اعلی ادبی رویوں کی حامل ہے جو انہیں ادبی حلقوں میں ایک محبوب شخصیت بناتی ہے۔پہاڑی زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کو ”صحرا صحرا رلیاں اکھیں“ کی اشاعت کا  بے صبری سے انتظار تھا۔ پہاڑی ادبی حلقے علی احمد کیانی سے ایک اور ادبی شاہکار کی توقع کر رہے تھے، جو اب صحرا صحرا رلیاں اکھیں کے روپ میں سامنے آیا۔امید واثق ہے کہ اس تازہ ترین کتاب سے پہاڑی زبان و ادب میں علی احمد کیانی ایک سرکردہ ادبی شخصیت کے  طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ادب میں علی احمد کیانی کی شراکت کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے، اور انہیں اپنے کام کے لیے متعدد تعریفی اسناد اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔علی احمد کیانی ایڈووکیٹ کی پہاڑی زبان میں لکھی جانے والی کتب انڈس کلچرل فورم کے زیراہتمام منعقدہ مادری زبانوں کے ادبی میلے میں ہر باقاعدگی سے شامل کی جاتی ہیں جو بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔پہاڑی و ادب کے فروغ کے لیے ان کی لگن نے ادیبوں اور شاعروں کی نئی نسل کو متاثر کیا ہے، اور اس کا اثر بہت سے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کے ادبی کے کام میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ علی احمد کیانی بنیادی طور پر عزل کے شاعر ہیں۔ وہ غزل کی ایک مضبوط روایت کو لے کر چل رہے ہیں۔ وہ اردو کے ساتھ پہاڑی زبان میں بھی غزل لکھ رہے ہیں۔ ان کی نئی کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں دراصل پہاڑی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب یقینی طور پر غزل کے قارئین کو متاثر کرے گی اور دیرپا تاثر چھوڑے گی۔ ادبی حلقوں کی جانب سے اس مجموعہ کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔