Wednesday, 23 July 2014

شاہینوں کے شہر کے شاہین صفت انگریزی کے اُستاد جناب پروفیسر حافظ فتح محمدؒ


شاہینوں کے شہر کے شاہین صفت انگریزی کے اُستاد جناب پروفیسر حافظ فتح محمدؒ

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

رب پاک نے کائنات کا نطام خود بخود چلنے کے لیے نہیں چھوڑ رکھا بلکہ کائنات میں موجود ہر ذی روح کو کوئی نہ کوئی کام کوئی نہ کوئی کردار سونپ رکھا ہے۔ عقلی تقاضے بعض اوقات اُن معاملات کا ادراک نہیں کر پاتے جو سلسلے رب پاک نے کائنات کے نظام کو حرکت میں رکھنے کے لیے کیے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو دوسرے انسانوں کے لیے منفعت کا باعث بنتے ہیں یا ایسے انسان جو کہ انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب کے قابل بناتے ہیں وہ لوگ معلم ہیں وہ اُستاد ہیں جو دنیا بھر میں علم کے نور کو پھیلاتے ہیں اور یہ سلسلہ رُکتا نہیں بلکہ اُن کی ظاہری حیات اور پردہ پوش ہونے کے بعد بھی اُن کا فیض جاری وساری رہتا ہے۔ اللہ پاک کے نیک بندے جن کا مقصد حیات ہی علم کی شع فر وزاں کرنا ہوتا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اُن کے پھیلائے ہوئے علم کے نور کا ہا لہ معاشرے میں مسلسل نیکی بھلائی پھیلارہا ہوتا ہے۔ موجودہ حالت میں جب کہسرزمین سرگودہا کے لیے شائد یہ کوئی یہ انوکھی بات نہیں کیونکہ یہ بڑی مردم خیز مٹی کی حامل سرزمین ہے لیکن سرگودہا کے لوگوں نے ہمیشہ علم وادب کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھا ہے۔ ہوتا اکثر یہ ہی ہے کہ جب بھی کوئی بڑی ہستی اِس دنیا کا سفر مکمل کرکے اپنے جنتی گھر تشریف لے جاتی ہے تو تب اُس کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے سرگودہا کے لوگ خوش نصیب ہیں کہ اُن کو حافظ فتح محمد صاحب ؒ جیسا عظیم اُستا دملا ۔ یہ فانی دُنیا ہے یہاں سب مسافر ہیں لیکن جو لوگ رب پاک کے بندوں کے لیے منفعت کا ذریعہ بنتے ہیں وہ افراد معاشرئے کے ماتھے کا جھومر ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں ایسے کام کر جاتے ہیں جو کہ ہمیشہ اُن کو امر کرجاتے۔ خلوص و مہر وفا کی حامل شخصیات ظاہری حیات اور اُسے بعد بھی فیض جاری رکھے ہوئے رہتی ہیں۔اُن کا مرنا اُس طرح کا مرنا نہیں ہوتا کہ مٹی کا ڈھیر بن جائے بلکہ وہ تو علم کے نور کے اتنے دئیے روشن کیے ہوتے ہیں کہ گہری رات بھی بقعہ نور بن جاتی ہے عقل و دانش اُن کے آگے جھکتی ہیں۔ اُن کا جینااُن کا مرنا ایسے سفر کی مانند ہوتا ہے جہاں کبھی کبھی پڑاؤ ڈالنا پڑتا ہے لیکن پھر یہ سفر راہوں کو روشنی دیتا ہوا منزل کی جانب گامزن رہتا ہے۔ایسی ہی ایک ہستی جناب حافظ فتح محمد نہایت عالم فاضل اور اپنے مضمون انگریزی کے ماہر اُستا دتھے۔ اُن کے لیے شائد تھا کا لفظ لکھنا میرے لیے مشکل ہے کیونکہ جتنا علم انھوں نے اپنے رب کے کرم سے پھیلایا اور خیر تقسیم کی وہ نور ، وہ علم بھی زندہ ہے اور جن لوگوں نے جناب پروفیسر صاحب سے اکتسابِ فیض کیا وہ اس نور کو آگے پھیلا رہے ہیں۔ جناب حافظ صاحب جیسی شخصیت کسی بھی معاشرے کے لیے کسی بہت بڑی نعمت سے کم نہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم کو پھیلا نے میں صرف کی۔ سرگو دہا اوراُ س کے قرب وجوار کے شہر اِس بات کے گواہ ہیں جناب حافظ صاحب انگریزی کے ایک بے بدل پروفیسر تھے۔ پھلروا ن سرگودہا کا وہ خوش نصیب قصبہ ہے جہاں جناب پروفیسر صاحب پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ محدو د وسائل کے باوجود آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج سرگودہا موجودہ یونیورسٹی آف سرگودہا میں تدریس کے فرائض انجام دئیے۔ آپ کے لکھے ہوئے نوٹس انگریزی کے مضمون کے طلبہء کے لیے کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے۔آپ نہایت محبت اور نرمی کے ساتھ پڑھاتے اور طلبہء کے دل میں آپ کے لیکچر اُتر جاتے۔ راقم کے لیے یہ بات باعث افتخار ٹھری کے پروفیسر صاحب کے بڑے صاحبزادے جناب کنور ابوعبیدہ میرے نہایت ہی قریبی دوست ہیں اور ہماری دوستی اُس وقت سے ہے جب ہم گورنمنٹ کمپری ھینسیو ہائی سکول سرگودہا میں پڑھتے تھے۔ یوں مجھے جناب پروفیسر صاحب کے ساتھ اکثر ملاقات کا شرف ملتا اور جب بھی میں جاتا تو اپنے بیٹے کو خصوصی طور پر کہتے کہ اشرف کو کھانا کھلایا ہے یا نہیں ،بہت زیادہ محبت اور شفقت سے پیش آتے بہت مہمان نواز تھے۔ میں کامرس اور قانون کا طالب علم رہا ہوں لیکن مجھے اعزاز ہے کہ میں نے جناب پروفیسر صاحب کے پاس اُن کے بڑے بیٹے کے ہمراہ انگریزی ادب کے لیکچرز لیے اور میری یہ خواہش تھی کہ میں ایسا کرکے اُس برادی میں شامل ہوجاؤں جو آپ کے شاگرد ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔ اِس حوالے سے مجھے جب بھی اُن کی یاد آتی ہے تو
میں پروفیسر صاحب کے زیادہ قریب ہونے پر افتخار محسوس کرتا ہوں۔ جناب پروفیسر صاحب اعلیٰ گریڈ میں ترقی پاچکے تھے لیکن پھر بھی انتہائی سادہ اندازِ زندگی اختیار کیے رکھا۔ آپ کالج سائیکل پر ہی جاتے۔ گھر میں بھی با جماعت نماز کا اہتمام کیا ہوتا۔ آپ کے تمام بچے صوم صلوۃ کے پابند ہیں ایک اور بات وہ یہ کہ اکثر آپ کے عزیزوں کے بچے تعلیم کے خاطر آپ کے ہاں قیام پزیر ہوجاتے یوں آپ کے دستر خواں کو بہت وسعت حاصل تھی۔ ایک بڑے صاحبزادے جناب کنور ابوعبیدہ اس وقت ایک میڈیسن کمپنی میں ایریا منجر ہیں اور ایک صاحبزادے جناب پروفیسر ڈاکٹر جواد اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوتے تدریسی عمل میں مشغول ہیں پروفیسر جواد ماہر نفسیات ہیں آپ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں اور یونیورسٹی آف سرگودہا میں پروفیسر ہیں۔ اِسی طرح آپ کے ایک صاحبزادے سرگودہا کے مشہور ڈاکٹر ہیں ۔ڈاکٹر فواد ماہر امراضِ دل ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ آپ کے دیگر صاحبزدگان بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور آپ سے فیض یاب ہونے والے آپ کے شاگرد بھی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جہاں آپ کے شاگرد موجود نہ ہوں اور وطن عزیز کی خدمت پر مامور نہ ہوں۔میرے یہ ٹوٹے پھوتے الفاظ درحقیقت جناب پروفیسر صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہیں اللہ پاک اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔ بقول اقبالؒ کے مرُشد رومیؒ ، رُوح را تا ثیر آگاہی بود، ہرکرا ایں بیش اللہی بود۔۔یعنی کہ روح کی تاثیر باخبری ہوتی ہے،جس کو یہ زیادہ حاصل ہے وہ اللہ والا ہے۔
ََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ اور انسانی حقوق کی عالم گیر تنظیم مصطفائی جسٹس لائرز فورم انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔


No comments:

Post a Comment