Saturday, 26 July 2014

پاکستان میں کرسچین کے شادی اور طلاق کے مروجہ قوانین پر ایک نظر

 پاکستان میں کرسچین کے شادی اور طلاق کے مروجہ قوانین پر ایک نظر

میاں محمد اشرف عاصمی  ایڈووکیٹ ہائی کورٹ



کرسچن میرج ایکٹ  1872  کے مطابق  کرسچن وہ  ہے جو کرسچن مذہب  پر قائم  ہو۔  سیکشن 23  اور  37 میرج ایکٹ  کے تحت ایسے مقامی افراد جو کہ برصضیر پاک و ہند کے  رہائشی ہیں اور  کرسچین ہیں یا انھوں نے کرسچین مذہب  قبول کیا ہے شادی بیاہ کے حوالے سے   کرسچین برطانوی یا پاکستانی  شہریت کے حامل اینگلو پاکستانی جو کہ پاکستان میں مقیم ہیں۔جانشینی کے حوالے سے ایسا پاکستانی رہائشی  شخص کرسچین  ہے جو کے  اِن گُڈ فیتھ  یہ بات کلیم کرتا ہے کہ وہ کرسچین ہے۔کرسچین کے پیشے کے حوالے  سے امر یہ ہے یہ کسی بھی کرسچین کا ذاتی فعل ہے اس بات کا چرچ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔  کرسچین  والدین کے  ہاں پیدا ہونے والا بچہ بادی النظر میں کرسچین ہی ہو گا۔تاوقتیکہ وہ اس امر کا اعلان عوامی طور پر کرئے کہ وہ کرسچین نہ رہا ہے۔اُس وقت تک وہ کرسچین ہی تصور ہوگا۔عام طو پر یہ ہی مانا جاتا ہے کہ جو مذہب باپ کا ہے وہی مذہب بچے کا ہے۔ یہاں تک  کہ یہ ثابت نہ  ہو جائے کہ بچے  کی کافی عرصہ تک پرورش کسی اور مذہب میں ہوئی ہو۔ اگر کرسچین والد مذہب تبدیل کر لیتا ہے تو یہ ہی  تصور ہوگا کہ بچے کا  مذہب بھی تبدیل ہوگیا ہے یہاں تک کہ یہ ثابت نہ ہوجائے کہ بچے کی پرورش ماں نے کرسچین مذہب کے تحت کی ہے۔اگر کوئی مسلمان  عیسائیت قبول کرلیتا ہے تو  وہ بطور گارڈین  اپنی اولاد جو کہ  مذہب تبدیل کرنے سے پہلے کی ہے کا گارڈین رہے گا جبکہ بچے  صرف اس بناء پر  کرسچین نہ ہوں گئے کہ اُن کے والد نے مذہب تبدیل کر لیا ہے۔رومن کھیتولک چرچ شادی کو ایک مذہبی فریضہ سمجھتے  ہیں۔اینگلیکن اور دوسرے پروٹیسٹینٹ چرچ شادی کو ایک مستقل بندھن مانتے  ہیں جو کہ  رب کی مرضی سے ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کی شادی کے لیے بلوغت کی عمر 18  سال ہے اور دوسرے کرسچین یعنی کہ برٹش وغیرہ کے لیے عمر 21   سال ہے۔ دولہا کو 16 سال سے زیادہ عمر کا اور دلہن کو     13   سال کی عمر سے زیادہ کا ہونا چاہیے۔ اگر کسی کی بھی عمر 18  سال سے کم ہو تو اُن کے والدین یا گارڈین   کی رضا مندی ضروری  ہے ایسا کرنے کی ضرورت  یعنی  رضامندی کی ضرورت   منسٹر آف چرچ آف انڈیا ، پاکستان، برما  سیلون،یا چرچ آف روم یا چرچ آف  سکاٹ  لینڈ میں نہ  ہے۔
 نا بالغان  کے درمیان  شادی  تاہم  void  نہ ہے۔ اگرچہ  وہ  گارڈین  کی مرضی  کے بغیر  بھی کی گئی  ہو۔consanigunity    affinity   کے ضمن  میں ہونے والی  شادی  غیر قانونی  ہے۔ consanguinity  سے مراد  خون  کا رشتہ اور   affanity سے  مراد خاوند یا بیوی کے ذریعہ  سے رشتہ۔ پاکستانی  شہریت  کے  حامل  رومن کیتھولک   کو اپنی مرحومہ بیوی  کی بہن سے شادی    سے   نہیں روکا گیا۔ اگرچہ  اْس مرد  نے  پوپ یا پوپ  کے نمائندے  سے شادی  کی اجازت  لے لی ہو۔  بے شک عورت  ایسی شادی کرنے کی اہل  نہ ہے۔  انگلینڈ  میں مرحومہ بیوی  کی بہن سے شادی deceased wife act 1907   کے تحت  کی اجازت دے دی گئی  ہے۔ یہ قانون ابھی تک پاکستان  میں رائج  نہیں  ہوا۔  ایک عورت  اپنے باپ، بیٹے،  بھائی  باپ  کے باپ، بیٹے کے بیٹے،  بیٹی کے بیٹے،   ماں کے خاوند، خاوند  کے باپ کے باپ، خاوند  کی ماں کے باپ، خاوندکی بیٹی کے بیٹے،  خاوندکے  باپ، خاوندکے بیٹے،  ماں کے خاوند، بیٹی کے  خاوند،  باپ کی ماں کے خاوند، بیٹے کی بیٹی کے خاوند، بیٹی کی بیٹی کے خاوند، باپ کے بھائی، ماں کے بھائی ، بھائی  کے بھائی،  بہن کے بھائی  سے شادی نہیں کر سکتی۔  مرد کو اِن سے شادی کو  مندرجہ ذیل میرج ایکٹ  1904  کے تحت  شادی کرنے سے ممانعت ہے۔  مرحومہ بیوی کی بہن، مرحوم  بھائی کی  بیوی،  مرحومہ بیوی  کے بھائی  کی  بیٹی  سے،  باپ  کے مرحوم  بھائی  کی بیوی  سے ، ماں کے  مرحوم بھائی کی بیوی  سے یعنی  ممانی  سے مرحومہ  بیوی  کے باپ کی بہن  سے، بھائی کے مرحوم بیٹے  کی بیوی سے، بہن کے مرحوم بیٹے کی بیوی  سے شادی  کی اجازت ہے۔  عورت کو میرج  ایکٹ     1949کے  تحت  مندرجہ ذیل  سے شادی کی ممانعت  نہیں  ہے۔ مرحومہ  بہن کے شوہر  سے، باپ کی مرحومہ بہن کے خاوند  سے، ماں کی مرحومہ  بہن کے خاوند  سے،  مرحوم خاوند  کی بہن  کے بیٹے  سے، بھائی  کی مرحوم بیٹی کے خاوند  سے، بہن کے باپ  کے بھائی  سے،  مرحوم خاوند کی ماں  کے بھائی  سے شادی کرنے میں ممانعت  نہیں ہے۔  بھائی اور بہن سے مراد بھائی اور بہن  آف  ہالف  بلڈ  ہیں۔
طلاق  یافتہ کب شادی  کر سکتے ہیں :جب طلاق کی ڈگری جاری ہو جائے  تو دونوں میاں یا  بیوی اور شادی کر سکتے ہیں۔  اگر اپیل  کا حق  نہ ہو  یا پہلی شادی کا خاتمہ  مرد یا عورت کے  فوت ہو جانے سے ہو ا  ہو۔  اور اگر  کوئی  اپیل  پیش نہ ہو ئی  ہو  تب  بھی دوبارہ شادی  کی جا سکتی ہے۔  یا جیسے ہی اپیل  کرنے کی مدت ختم ہو جائے  یا اپیل پیش ہونے کے بعد مسترد ہو جائے  تو پھر  فوراً  دوسری شادی کی جا سکتی ہے۔ سیکشن 5   کرسچن میرج ایکٹ  کے مطا بق (۱)۔  ہر اْس  شخص  سے  شادی کی جا سکتی ہے  جس نے  چرچ کی  روایت  اور  رولز کے حوالے  سے چرچ  کے منسٹر  سے اجازت لی ہے۔  (۲)۔  کسی بھی  cleregymanآف چرچ سے شادی کی  جا سکتی  ہے۔  جو کہ چرچ آف سکاٹ لینڈ  کی رویات قوانین  پر عمل پیرا ہو۔  (۳)۔  اِس قانون کے تحت  مذہب  کے منسٹر  سے جس نے شادی کرنے  کا لائسنس،  اجازت  نامہ لیا ہو۔  (۴)۔ اِس   ایکٹ  کے تحت  میرج رجسٹرار  کے ذریعے  یا اْسکی  اجازت  سے شادی کی جا سکتی  ہے۔ (۵)۔  مقامی  کرسچن  کے درمیان شادی کے لیے  جس شخص  نے بھی  شادی کے لیے جس شخص  نے بھی  اِ س  ایکٹ  کے تحت  لائسنس،  اجازت  لی  ہے۔
AIR 1918 LAW  BUR83  ایک  خاص  اجازت  نامہ  کے تحت  جب ایک شخص  جو کہ کرسچن  ہے  اور قانونی  طور  پر  ایک عورت  کے ساتھ  شادی کے بندھن  میں  بندھا  ہوا  ہے  اور  اگر وہ  کسی اور   عورت  سے شادی  کرتا  ہے  تو  وہ تعلق  صرف  (جسمانی  تعلق)  concubinage  ہو  گا۔  اْس  سے پیدا  ہونے والی اولاد قانونی طور  پر جائز  تصور  نہ ہوگی۔ سیکشن  6  کے مطابق   کوئی  بھی  صوبائی  یا مرکزی  حکومت  اپنی علاقائی  حدود  میں  سرکاری  طور  پر  نوٹیفیکیشن  کے ذریعے  مذہبی  منسٹر  کو شادی کی اجازت  دینے یا شادی  کروانے  کا لائسنس،  اجازت  دینے  یا  اْس  اجازت  نامہ کو  منسوخ  کر سکتی  ہے۔  سیکشن  7  کرسچن  میرج ایکٹ  1872 کے مطابق  صوبائی  حکومت  کسی بھی ایک  یا اْس  سے  زیادہ  کرسچنز کی حیثیت   سے کسی بھی ضلع  میں  انتظامی حدود کا  میرج رجسٹرار  مقرر  کر سکتی  ہے۔   اگر  کسی  ضلع  میں  ایک سے زیادہ  شادی رجسٹرار      ہوں  تو پھر اْن  میں سے ایک کو  بطور  سینیئر رجسٹرار  مقرر  کر سکتی ہے۔   جب کوئی  بھی میرج رجسٹرار  پورے ضلع  میں  صرف  ایک  ہو  اور  وہ رجسٹرار  اْس  ضلع  میں  سے غیر حاضر  ہو یا بیمار  ہو جائے  یا  کسی  بھی  وجہ  سے اْس  کا عہدہ  عارضی طور پر  خالی ہو  تو اْس ضلع  کا مجسٹریٹ  اِس  عرصے کے دوران  میرج رجسٹرار  کے طور پر  کام کرے گا۔  سیکشن  8 کرسچن  میرج  ایکٹ  کے تحت  وفاقی  حکومت  سرکاری نوٹیفیکیشن  کے ذریعے  کسی بھی کرسچن  کو بطور  خاص  نام یا  کسی بھی  acceding state  کے اندر  کسی کو  بھی  رجسٹرار  مقرر  کر سکتی ہے۔  وفاقی  حکومت اِس  طرح  کی تقرری  کو  نوٹیفیکیشن  کے ذریعے  ختم  بھی کر سکتی  ہے۔ سیکشن  9کرسچن میرج ایکٹ  1872 کے  تحت صوبائی حکومت کسی بھی کرسچن  کو بطور  خاص  نام  کے ذریعے  سے یا کسی عہدے  دار کی حیثیت  سے وقتی  طور  پر  آبائی  کرسچن  (native christion) کو شادی کرنے کا اجازت نامہ دینے  کا اختیار  دے سکتی  ہے۔ اور اِس  طرح  نوٹیفیکیشن  کے ذریعے  اِس اختیار  کو روک یا ختم  بھی کر سکتی ہے۔  سیکشن  10 کے  تحت   اس قانون  کے مطابق   شادی  صبح  6  بجے  سے شام سات  بجے کے دوران  میں ہوگی۔  لیکن مندرجہ  ذیل  پر اطلاق  نہ ہوگا۔  (۱)۔  چرچ  آف انگلینڈ  کا  سیلرجی جو کہ  خاص اجازت نامہ کے تحت صبح چھ اور شام سات  بجے کے علاوہ کسی بھی  وقت  اینگلیکن بشپ آف کمشنری کے signatures اور مہر کے تحت  شادی کرسکتا ہے۔2) (    Clergyman    جسکا تعلق  چرچ آف  روم سے ہو  وہ صبح چھ اور شام سات بجے کے درمیان کیتھولک بشپ آف ڈائیس یا جس کو انھوں نے اجازت دے رکھی ہو  (3)  سکاٹ لینڈ چرچ کا سیلرجی مین، چرچ آف سکاٹ لینڈ کے قانون،رسوم،تقریبات کے تحت شادی کرسکتا ہے۔
سیکشن  11  کے مطابق چرچ آف انگلینڈ کے پیروکار چرچ آف  انگلینڈ کے  علاوہ  عام طور پر جہاں عبادت کی جاتی ہے 
 وہاں شادی کر سکتے ہیں۔اُس وقت تک کہ ایسا کوئی  چرچ مختصر راستے کے ذریعے بھی پانچ میل دور  اور اُس  وقت جب شادی کرنے والوں نے انگلیکن بشپ  آف   ڈائیکوس یا اُس کی کمشنری کے  دستخط اور مہر کے ذریعہ سے اجازت نامہ لیا ہو خاص اجازت نامے کے لیے رجسٹرار آف ڈائی کوس اضافی  فیس طلب کرسکتے ہے۔ سیکشن 12    میرج ایکٹ کے تحت  کوئی شادی جو کہ منسٹر آف  Religion
  کے ذریعے ہونی ہو اور جس کا اجازت نامہ اُس کے پاس ہے جو شادی  کا خواہاں ہے تو وہ فرسٹ شیڈوول  کے تحت ایک نوٹس منسٹر آف Religion     کو دے جس میں مرد  یا عورت شادی کرنے کا اظہار کرئے گی اور اُس میں وہ عورت یا مرد بیان کریں گئے(a)     نام، پیشہ  دونوں افراد کے جو کہ شادی کے خواہشمند ہیں۔) (b  دونوں کا رہائشی مقام    (c)   وقت جب دونوں موجودہ رہائشی مقام پر مقیم ہوئے) (d   چرچ یا نجی رہائش جہاں پر شادی ہوگی۔ اگر عورت یا مرد میں سے کوئی  بھی  نوٹس  میں   دئیے گئے مقام پر ایک ماہ سے   زائد عرصہ پہلے رہائش پذیر ہوا ہو تو وہ مرد/   عورت  اُس  نوٹس میں  یہ تحریر کرئے گی۔ڈائی وورس  ایکٹ  1869     کے تحت کوئی بھی خاوند سول کورٹ میں پٹیشن دائر کرسکتا ہے اور یہ درخواست کرسکتا ہے کہ اُس کی بیوی  بدکاری کی مرتکب ہوئی ہے اس لیے شادی کی تنسیخ کی جائے  اِسی طرح بیوی بھی اپنے  خاوند  کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ  یا ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرسکتی ہے کہ اُسکے خاوند نے کرسچینٹی کے پروفیشن کو کسی اور مذہب کے پروفیشن میں بدلا ہے یا مسلسل بدکاری میں مبتلا ہے یا پہلی شادی کے موثر  ہونے کے  باوجود  دوسری شادی کر لی ہے یا مرد نے مرد کے ساتھ یا جانوروں کے ساتھ بدکاری کی ہے پٹیشن میں یہ  درخواست کی جائے گی   کہ فطرتی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے  اس ایکٹ کے سیکشن 10  کے  مطابق عدالت  اگر مطمن نہ ہو تو شوا ہد کی بناء پر پٹیشن کو ڈسمس کر سکتی ہے۔ سیکشن 14  ڈائی وورس ایکٹ   1869    کے مطابق عدالت اگر مطمن ہو تو طلاق کی ڈگری جاری کردے گی۔ سیکشن 15 ڈائی  وورس ایکٹ 1869ء کے مظابق عورت یا مرد  کو عدالت شواہد کی بناء پر ریلیف دے سکتی ہے کہ بدکاری کی گئی ہے۔ سیکشن 18 کے تحت کوئی بھی خاوند یا بیوی سول کورٹ  میں پٹیشن دائر  کر سکتے ہیں کہ اُس کی شادی کو null and void   قرار دئے دیا جائے۔ سیکشن 19  ڈائی وورس ایکٹ1869ء  کے مطابق اس طرح  کی ڈگری مندرجہ ذیل بنیادوں پر جاری کی جائے گی۔   (a)     یہ کہ ریسپاونڈینٹ  شادی کے وقت یا کیس دائر کرنے کے وقت بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا۔  (b)    یہ کہ دونوں خاوند یا بیوی کا آپس میں prohibited decrees کا رشتہ بنتا ہے۔(c)   دونوں یا خاوند اور بیوی میں سے ایک شادی کے وقت پاگل تھا۔(d)   جب شادی ہوئی تو مرد  اپنی پہلی بیوی یا  عورت اپنے پہلے خاوند کے ساتھ رہ رہے تھے اور اُس وقت تک اُن کی پہلی شادی قائم تھی۔
ہائی کورٹ  ان قوانین میں تبدیلی کرسکتی ہے اور  وقت کے ساتھ  جو بھی قانون ضروری ہو اُسکی تشریع  و  تو ضیع کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment