Saturday, 26 July 2014

گجرات کے گائوں چک بھولا میں معمولی تنازع پر کمسن بچے کے دونوں ہاتھ کاٹنے کے سفاکانہ اقدام، ہسپتال میں بچے کے علاج معالجے میں غفلت اور مقدمے کے اندراج میں غفلت کی اطلاعات


ہائے اُس زودِ پشیمان کا پشیمان ہونا

 گجرات کے گائوں چک بھولا میں معمولی تنازع  پر کمسن بچے کے دونوں ہاتھ کاٹنے  کے سفاکانہ اقدام،  ہسپتال  میں بچے کے علاج معالجے  میں غفلت اور مقدمے  کے اندراج میں غفلت کی اطلاعات

  اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

  معصوم بچے کے دونوں بازو کاٹ دےئے گئے اور یہ سب کچھ خادم اعلیٰ صاحب کے صوبے میں ہوا اور خادم اعلیٰ صاحب کی سرکاری مشینری بھنگ پی کر سوئی ہوئی تھی متعلقہ ڈسٹرکٹ ہسپتا ل انتظامیہ کی نااہلی کی و جہ سے بچے کے دونوں بازو کاٹ دئیے گئے اور پولیس بھی لم میں برابر کی شریکِْ کار کہ مقدمہ درج نہ ہو اور مجرم نہ پکڑئیں جاسکیں۔ایسی بدامنی اور سکھا شاہی کہ آئے روز وڈیروں جاگیرداروں سرمایہ داروں کے ہاتھوں ابن آدم قتل ہورہا ہے اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور عوام کو تسلیاں دئے رہے ہیں کہ لوگوں دیکھو سارئے مسائل حل ہوگئے ہیں ملک خوشحال ہے۔ اتنی بے حسی کہ خدا کی پناہ۔نو دس سو لاکھ آبادی کے صوبے میں اب صرف وہان ہی انصاف ملنے کی توقع ہو گی جہاں جناب خادم اعلیٰ قدم رنجہ فرمائیں گے اِس مطلب تو یہ ہی ہے کہ اتنی حکومتی مشینری کسی کھاتے میں نہیں آتی۔ عوام کا خون چوسنے والی پولیس اور بیوروکریسی کو پھر گھر بھیجیں۔

گجرات کے گائوں چک بھولا میں معمولی تنازع  پر کمسن بچے کے دونوں ہاتھ کاٹنے  کے سفاکانہ اقدام،  ہسپتال  میں بچے کے علاج معالجے  میں غفلت اور مقدمے  کے اندراج میں غفلت کی اطلاعات پر  وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف گجرات  جا پہنچے۔  عزیز بھٹی شہید ہسپتال گجرات  میں ان کی اچانک آمد کی اطلاع  پر گجرات  کی انتظامیہ، پولیس اور ہسپتال  کے ذمہ داران  میں کھلبلی  مچ گئی۔  وزیراعلی  پنجاب محمد شہباز شریف  اپنے ہمراہ  صوبائی وزیر کرنل (ر)  شجاع خانزادہ،  چیئرپرسن چائلڈ  پروٹیکشن بیورو صبا صادق ایم پی اے  اور آئی جی پولیس  کے علاوہ تین قومی اخباروں  کے صحافیوں کو ساتھ لے کر ہیلی کاپٹر پر لاہور سے  گجرات پہنچے۔  گجرات کے ہوائی اڈے سے عزیز بھٹی  شہید ہسپتال کا چند منٹ کا سفر تھا تاہم راستے میں لوگوں  کی کثیر تعداد  وزیراعلی  پنجاب کی آمد کی  خبر   پا کر وہاں پہنچ گئی۔   مظلوم کو انصاف  دلانا ہے اور ظالم کو انجام تک پہنچانا ہے۔  وزیراعلی  پنجاب نے ہسپتال  پہنچ کر بچے  کی عیادت کی۔ اس کے والد اور والدہ سے واقعہ  کی تفصیل  سنی اور کمشنر، ڈی سی او، ڈی پی او،  ایم ایس ہسپتال کو طلب کرکے ان کو سخت  ڈانٹ پلائی کہ یہ ان سب کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں  نے  فوری طور  پر ڈی پی او  اور ایم ایس  ہسپتال کو او ایس  ڈی اور ڈی  ایس پی  پولیس  اور ایس ایچ او  کو معطل  کرنے کا حکم دیا۔  وزیراعلی ڈی  پی او کو بھی  معطل  کرنے لگے تھے تاہم  آئی جی پولیس  نے رائے دی کہ ڈی پی او اچھا اور  محنتی  افسر ہے اسے  معطل کرنے کی بجائے  ایس ڈی او بنانے کی سزا کافی ہے۔  ان کی  رائے کو وزیراعلی  نے مان لیا۔  وزیراعلی  نے اس موقع پر کمسن بچے  کو دلاسا دیا کہ وہ اس کا سرپرست بن کر اس کے نہ صرف مصنوعی  بازو لگوائیں گے بلکہ  جرم کرنے والے کو کیفر کردار تک بھی پہنچائیں گے۔  بچے کے والدین  نے وزیراعلی پنجاب سے کہا کہ ان کی اللہ کے بعد وزیراعلی  سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ظالم  کو انجام تک پہنچائیں گے۔گجرات سے نامہ نگار کے مطابق وزیراعلیٰ  پنجاب نے گجرات آمد پر ظلم کا شکار ہونے والے متاثرہ بچے اور اسکے والدین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انصاف کی یقین دہانی کروائی۔ شہبازشریف نے کہا ہے کہ کمسن تبسم شہزادکے ساتھ ہونے والے واقعہ سے بڑا انسانیت کے ساتھ کوئی اور ظلم نہیں ہوسکتا۔ 10 سالہ تبسم شہزاد گجرات کے نواحی قصبہ چک بھولا میں پرائمری جماعت کا طالب علم ہے اور ایک مقامی زمیندار غلام مصطفی نے گذشتہ روز اسکے والد سے جھگڑے کے بعد اسکے دونوں بازو کاٹ دیئے تھے۔ وزیراعلیٰ تقریباً ایک گھنٹہ تک بچے کے پاس بیٹھے رہے اور اس سے باتیں کرتے رہے اور اس دوران کئی بار انکی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔ وزیراعلی پنجاب نے متاثرہ بچے کے ورثا کو تسلی دی اور یقین دلایا کہ انہیں فوری انصاف دلایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچے کو عمر بھر کیلئے معذور کرنیوالا سنگدل اور انسانیت کا دشمن شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں اور وہ کڑی سے کڑی سزا کا حقدار ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ اور عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ بچے تبسم شہزاد کو علاج معالجہ کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ انہوںنے اعلان کیا کہ بچے کے علاج، بحالی اور تعلیم کے اخراجات حکومت برداشت کریگی۔ وزیراعلیٰ  نے بچے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک بھی دیا۔نو دس سو لاکھ آبادی کے صوبے میں اب صرف وہان ہی انصاف ملنے کی توقع ہو گی جہاں جناب خادم اعلیٰ قدم رنجہ فرمائیں گے اِس مطلب تو یہ ہی ہے کہ اتنی حکومتی مشینری کسی کھاتے میں نہیں آتی۔ عوام کا خون چوسنے والی پولیس اور بیوروکریسی کو پھر گھر بھیجیں۔

No comments:

Post a Comment