ضروریاِت زندگی کا نام رکھ دیا جائے میٹرو بس
میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
رمضان کا مہینہ ایسے گزراہ گیا جیسے ملک میں لوٹ مار مچی ہوئی ہو۔ ملک
حالتِ جنگ میں ہو۔ اور1930 کی دہائی میں آنے والا بد ترین معاشی بحران
جو کہ افراط زر کا سبب بنا تھا اُس جیسا ماحول بنا ہو اتھا۔ بجلی کی
لوڈشیدنگ، گیس کی لوڈشیڈنگ۔ سبزیاں پھل گوشت اتنا مہنگا جیسے یہ زمین کی
بجائے چاند سے لایا گیا ہو۔ایسا لگا کہ حکومتی انتظامیہ ہے ہی نہیں۔ اکیلا
خادم اعلیٰ اب کس کس مشکل کا حل نکالے۔ ایم این ائے اور ایم پی ائے تو خادم
اعلیٰ کی ڈکشنری میں اِس اہلیت کے حامل نہیں ہیں کہ وہ عوام کو کوئی
ریکیف دئے سکیں اِس لیے خادمِ اعلیٰ نے سارئے کام اپنے ذمہ لے رکھے ہیں جس
کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہو پارہا سوائے میٹروٹرین کے۔اب عوام کو باقی
چیزوں کی بھی ضرورت ہے اُن کا کیا جائے۔خادم، اعلیٰ گذشتہ تیس سالوں سے
سیاست میں ہیں اُن کو ادرا ک ہے کہ جو ایم این ائے ایم پی ائے بے شمار روپے
خرچ کرکے اسمبلیوں میں آتے ہیں اُن بے چاروں نے پورا بھی کرنا ہوتا ہے اِس
لیے خادمِ اعلیٰ نے اُن کو روکنے کے کے لیے کہ وہ لوٹ مار نہ کر سکیں
سارئے کام خود ہی کرنے کا
سوچ رکھا ہے اِس لیے سوائے سڑکوں ،میٹرو ٹرین کچھ بھی نہیں ہو پایا۔ سرکاری محکموں میں کرپشن عام ہے عدالتی نظام چوپٹ ہے۔ دال، سبزیوں گوشت کی قیمتوں پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہی ضروریات زندگی کی اشیا کا نام میٹرو بس رکھ دیا جائے پھر شائد خادم اعلیٰ
کی اور عوام کی دونوں کی سُنی جائے۔ورنہ ایک بات اظہر من الشمس ہے کہ اِس حکومت نے تو پی پی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اللہ پاک ہمارئے حال پر رحم فرمائے آمین۔
سوچ رکھا ہے اِس لیے سوائے سڑکوں ،میٹرو ٹرین کچھ بھی نہیں ہو پایا۔ سرکاری محکموں میں کرپشن عام ہے عدالتی نظام چوپٹ ہے۔ دال، سبزیوں گوشت کی قیمتوں پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہی ضروریات زندگی کی اشیا کا نام میٹرو بس رکھ دیا جائے پھر شائد خادم اعلیٰ
کی اور عوام کی دونوں کی سُنی جائے۔ورنہ ایک بات اظہر من الشمس ہے کہ اِس حکومت نے تو پی پی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اللہ پاک ہمارئے حال پر رحم فرمائے آمین۔

No comments:
Post a Comment