انسانی افعال اور تقدیر پر رزقِ حرام کے اثرات
میاں اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
رزقِ حرام انسان سے ہرطرح کا حیاء اور رواداری چھین لیتا ہے اور انسانی جسم
کے اندر داخل ہوکر وہ گُل کھلاتا ہے کہ شراب اور خنزیر سے بھی زیادہ شدت
کا حامل ہوتا ہے اور انسان سے انسانیت چھین کر اُسے خوب رسوا کرتا ہے ۔صرف
بلی اور کتے کا گوشت حرام نہیں ہوتا بلکہ حرام کی کمائی سے خریدا اور
کھایا جانے والا مُرغے کا گوشت حلال ہونے کے باوجود حرام ہوجاتا ہے اور
انسان کے قلب کو اور اُس کی روح کو پراگندہ کردیتا انسان کے اندر جاکر وہ
حرام زدگیاں کرتا ہے کہ رشتوں کی پہچان تک چھین لیتا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے
کہ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے تو یہ بات یقین
سے بھی بڑھ کر ہمیں پتہ چلتی ہے کہ کسی کا حق مارانا دنیا میں سارئے
فساد کی جڑہے۔ حق مارنے سے مراد یہ ہے کہ عدل نہ کیا جائے جس چیز کو جہاں
ہونا چاہیے اُسے وہاں نہ رکھا جائے ۔ جو جس کا ہے اُس کے حوالے نہ کیا
جائے۔قدرت کے سامنے تمام ترمحرکات ہوتے ہیں قدرت نے ان افعال سے چشم پوشی
اختیار نہیں کی ہوتی کیونکہ کائنات کے نظام میں اصل مرکز تو ہے ہی عدل۔
اِس لیے جب کوئی کسی کا حق مارتا ہے ہے تو وہ گویا اپنے لیے حرام چُن لیتا
ہے۔وہ حرام جب اُس بندئے کے جسم میں د اخل ہوتا ہے تو اُس کے اندر ایسی
جینیاتی تبدیلیاں لاتا ہے کہ خدا کی پناہ ۔پھر وہ شخص نہ تو رشتوں کا تقدس
برقرار رکھتا ہے اور نہ ہے حق اور ناحق میں فرق۔ وہ ایک ایسے گدھ کی شکل
اختیار کرلیتا ہے جس کی منزل صرف اور صرف مُردار کھانا ہوتا ہے۔رب پاک نے
یہ کائنات ویسے بناکر نہیں رکھ چھوڑی کہ اِس کا نظام خود ہی چلتا رہے بلکہ
ہر عمل کے بدلے ہرلمحے ردِعمل پیدا ہوتا ہے اور اُس کے اثرات کا خمیازہ
پھر اُسے بھگتنا پڑتا ہے جو اِس عمل کا حامل ہوتا ہے۔زندگی میں یہ نہیں کہ
ہم جو بھی کرتے رہیں اُس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ایسا نہیں ہے رب پاک ہر فعل
کے بدلے اُسی طرح کے عمل سے انسان کو گزارتا ہے جس طرح کا مستحق ہوتا ہے۔
چند برس پہلے ایک بوڑھاشخص سڑک کنارئے مانگ رہا ہوتا تھا۔وہ اپنے قرب
وجوار کو چھوڑ کر دوسرئے علاقوں کی طرف نکل جاتا اور اور بھیک مانگتا اور
اپنی گزر بسر کرتا۔اُس بوڑھے شخص کے پانچ بیٹے تھے۔ پانچوں بہتر روزگار کے
حامل تھے ۔بوڑھا شخص کبھی کسی بیٹے کے گھر جاتا چند دن بعد اُسے وہاں
سے نکال دیا جاتا تو پھر اُسے کسی اور بیٹے کے ہاں جاکر پناہ لینا پڑتی
لیکن وہاں سے بھی چند دنوں کے بعد اُسے دھتکار دیا جاتا اُس کے دوا دارو
کا کوئی بھی بیٹا خیال نہ رکھتا۔مجبوراً مرتا کیا نہ کرتا اُس بوڑھے شخص
نے بھیک مانگنا شروع کردی۔یوں اُس کی گزر بسر ہوجاتی۔جب اُس کے پوتوں نے
دیکھا کہ کہ اُن کا دادا خود کفیل ہوگیا ہے اور اُس کے پاس روپے پیسہ بھی
ہوتا ہے تو وہی پوتے جن کو بوڑھے دادے کا وجود اپنے گھر میں بلکل برداشت نہ
تھا وہ اِس چکر میں پڑ گئے کہ دادا سے پیسے اینٹھے جائیں اور پتہ چلایا
جائے کہ دادا کہ پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں ایک پوتا داد کو گھر لے گیا اور
لگا منت سماجت کرنے کہ آپ ہمارئے گھر رہیں آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں
ہوگی۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ بوڑھے بے چارئے شخص کو تو پہلے ہی پناہ
چاہیے تھی وہی بوڑھا شخص جو کبھی اُس گھر کا مالک تھا وہاں مجبور اور
محکموم بن کر زندگی کے دن پورئے کررہا تھا۔ پوتوں نے دیکھا کہ دادا کے پاس
کافی ریزگاری ہوتی ہے تو اُنھیں سمجھ آگئی کہ اُن کے دادانے بھیک مانگنی
شروع کردی ہے بجائے اِس کے وہ نادم ہوتے کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے انھوں
نے دادا سے تقاضا شروع کردیا کہ اُن کو بھی پیسے دیں یوں وہ بوڑھا دن بھر
سڑکوں پر بھیک مانگتا اور شام کو آکر ایک بیٹے کے گھر پڑا رہتا اور
پوتوں کو پیسے دیتا رہتا۔ اِس ساری کہانی میں بوڑھے شخص کے جوان بیٹوں کا
کردار اتنا بھیانک تھا کہ اُن کے سامنے اُن کا باپ ذلیل ورسوا ہورہا تھا
لیکن اُن کو ئی پروا نہیں تھی وہ اِس سارئے واقعے سے چشم پوشی اختیار کرتے
رہے اور بوڑھے کی بہویں تو بابے کو رتی برابر بھی برداشت نہ کرتی تھیں ۔
بوڑئے بھکاری کے بیٹے پوتے پوتیاں بہترین زندگیاں گزار رہے تھے سب کے ہاں
آسودگی کا عالم تھا۔لیکن بوڑھے شخص کی قسمت اُس سے روٹھ گئی تھی۔ بعدازاں
پتہ چلا کہ وہ بوڑھا اپنی جوانی میں غریبوں یتیموں کے مال کو ہڑپ کرتا رہا
تھا اور دنیا میں ہی وہ اتنا ذلیلِ خوار ہوا کہ خدا کہ پناہ اکثر واقفِ حال لوگ چہ میگوئیاں کرتے کہ ہٹے کٹے بیٹوں کا باپ سڑکوں پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہوتا ہے لیکن حرام کی کمائی سے پرورش پانے والی اولاد نے بھی تو اپنا حق ادا کرنا تھا سو اُنھوں نے وہ کیا۔اور اپنے بوڑھے باپ کے معاملے میں اپنے مُردہ ضمیر کی ہر بات مانی ۔ پھر ایک دن وہ بوڑھا شخص بھیک مانگتا ہوا ٹرک کے نیچے آکر کُچلا گیا اور دم توڑ گیا۔اناللہ وانالیہ راجعون۔اُس بوڑھے کا جنازہ بڑئے اہتمام سے اُٹھایا گیا اور اُس کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خوردونوش کا اہتمام کیا گیااور بیٹوں نے اُس کے میت کے پاس کھڑئے ہو کر خوب آنسو بھی بہائے۔آج ہر طرف ااپہ پکار ہے کہ اولاد فرماں بردار نہین ہے جب آپ نے اولاد کی پرورش حرام کی کمائی سے کی ہے تو حرام کی کمائی سے نشونما پانے ولا جسم اور اُس جسم کے اندر روح کیسے حلال ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ جب حرام کمیا جاتا ہے تو اُس وقت اُس سے بہت سے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے جس سے معاشرہ اپنا توزن کھو بیٹھتا ہے اور پھر معاشر ئے میں اخلاقی قدریں زوال پزیر اولاد نافرمان اور یہ ہی حال بیوی اور بہن بھائیوں کا ہوتا ہے۔
تھا اور دنیا میں ہی وہ اتنا ذلیلِ خوار ہوا کہ خدا کہ پناہ اکثر واقفِ حال لوگ چہ میگوئیاں کرتے کہ ہٹے کٹے بیٹوں کا باپ سڑکوں پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہوتا ہے لیکن حرام کی کمائی سے پرورش پانے والی اولاد نے بھی تو اپنا حق ادا کرنا تھا سو اُنھوں نے وہ کیا۔اور اپنے بوڑھے باپ کے معاملے میں اپنے مُردہ ضمیر کی ہر بات مانی ۔ پھر ایک دن وہ بوڑھا شخص بھیک مانگتا ہوا ٹرک کے نیچے آکر کُچلا گیا اور دم توڑ گیا۔اناللہ وانالیہ راجعون۔اُس بوڑھے کا جنازہ بڑئے اہتمام سے اُٹھایا گیا اور اُس کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خوردونوش کا اہتمام کیا گیااور بیٹوں نے اُس کے میت کے پاس کھڑئے ہو کر خوب آنسو بھی بہائے۔آج ہر طرف ااپہ پکار ہے کہ اولاد فرماں بردار نہین ہے جب آپ نے اولاد کی پرورش حرام کی کمائی سے کی ہے تو حرام کی کمائی سے نشونما پانے ولا جسم اور اُس جسم کے اندر روح کیسے حلال ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ جب حرام کمیا جاتا ہے تو اُس وقت اُس سے بہت سے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے جس سے معاشرہ اپنا توزن کھو بیٹھتا ہے اور پھر معاشر ئے میں اخلاقی قدریں زوال پزیر اولاد نافرمان اور یہ ہی حال بیوی اور بہن بھائیوں کا ہوتا ہے۔


.jpg)










