Thursday, 31 July 2014

انسانی افعال اور تقدیر پر رزقِ حرام کے اثرات میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


انسانی افعال اور تقدیر پر رزقِ حرام کے اثرات

میاں اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


رزقِ حرام انسان سے ہرطرح کا حیاء اور رواداری چھین لیتا ہے اور انسانی جسم کے اندر داخل ہوکر وہ گُل کھلاتا ہے کہ شراب اور خنزیر سے بھی زیادہ شدت کا حامل ہوتا ہے اور انسان سے انسانیت چھین کر اُسے خوب رسوا کرتا ہے ۔صرف بلی اور کتے کا گوشت حرام نہیں ہوتا بلکہ حرام کی کمائی سے خریدا اور کھایا جانے والا مُرغے کا گوشت حلال ہونے کے باوجود حرام ہوجاتا ہے اور انسان کے قلب کو اور اُس کی روح کو پراگندہ کردیتا انسان کے اندر جاکر وہ حرام زدگیاں کرتا ہے کہ رشتوں کی پہچان تک چھین لیتا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے تو یہ بات یقین سے بھی بڑھ کر ہمیں پتہ چلتی ہے کہ کسی کا حق مارانا دنیا میں سارئے فساد کی جڑہے۔ حق مارنے سے مراد یہ ہے کہ عدل نہ کیا جائے جس چیز کو جہاں ہونا چاہیے اُسے وہاں نہ رکھا جائے ۔ جو جس کا ہے اُس کے حوالے نہ کیا جائے۔قدرت کے سامنے تمام ترمحرکات ہوتے ہیں قدرت نے ان افعال سے چشم پوشی اختیار نہیں کی ہوتی کیونکہ کائنات کے نظام میں اصل مرکز تو ہے ہی عدل۔ اِس لیے جب کوئی کسی کا حق مارتا ہے ہے تو وہ گویا اپنے لیے حرام چُن لیتا ہے۔وہ حرام جب اُس بندئے کے جسم میں د اخل ہوتا ہے تو اُس کے اندر ایسی جینیاتی تبدیلیاں لاتا ہے کہ خدا کی پناہ ۔پھر وہ شخص نہ تو رشتوں کا تقدس برقرار رکھتا ہے اور نہ ہے حق اور ناحق میں فرق۔ وہ ایک ایسے گدھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس کی منزل صرف اور صرف مُردار کھانا ہوتا ہے۔رب پاک نے یہ کائنات ویسے بناکر نہیں رکھ چھوڑی کہ اِس کا نظام خود ہی چلتا رہے بلکہ ہر عمل کے بدلے ہرلمحے ردِعمل پیدا ہوتا ہے اور اُس کے اثرات کا خمیازہ پھر اُسے بھگتنا پڑتا ہے جو اِس عمل کا حامل ہوتا ہے۔زندگی میں یہ نہیں کہ ہم جو بھی کرتے رہیں اُس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ایسا نہیں ہے رب پاک ہر فعل کے بدلے اُسی طرح کے عمل سے انسان کو گزارتا ہے جس طرح کا مستحق ہوتا ہے۔ چند برس پہلے ایک بوڑھاشخص سڑک کنارئے مانگ رہا ہوتا تھا۔وہ اپنے قرب وجوار کو چھوڑ کر دوسرئے علاقوں کی طرف نکل جاتا اور اور بھیک مانگتا اور اپنی گزر بسر کرتا۔اُس بوڑھے شخص کے پانچ بیٹے تھے۔ پانچوں بہتر روزگار کے حامل تھے ۔بوڑھا شخص کبھی کسی بیٹے کے گھر جاتا چند دن بعد اُسے وہاں سے نکال دیا جاتا تو پھر اُسے کسی اور بیٹے کے ہاں جاکر پناہ لینا پڑتی لیکن وہاں سے بھی چند دنوں کے بعد اُسے دھتکار دیا جاتا اُس کے دوا دارو کا کوئی بھی بیٹا خیال نہ رکھتا۔مجبوراً مرتا کیا نہ کرتا اُس بوڑھے شخص نے بھیک مانگنا شروع کردی۔یوں اُس کی گزر بسر ہوجاتی۔جب اُس کے پوتوں نے دیکھا کہ کہ اُن کا دادا خود کفیل ہوگیا ہے اور اُس کے پاس روپے پیسہ بھی ہوتا ہے تو وہی پوتے جن کو بوڑھے دادے کا وجود اپنے گھر میں بلکل برداشت نہ تھا وہ اِس چکر میں پڑ گئے کہ دادا سے پیسے اینٹھے جائیں اور پتہ چلایا جائے کہ دادا کہ پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں ایک پوتا داد کو گھر لے گیا اور لگا منت سماجت کرنے کہ آپ ہمارئے گھر رہیں آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ بوڑھے بے چارئے شخص کو تو پہلے ہی پناہ چاہیے تھی وہی بوڑھا شخص جو کبھی اُس گھر کا مالک تھا وہاں مجبور اور محکموم بن کر زندگی کے دن پورئے کررہا تھا۔ پوتوں نے دیکھا کہ دادا کے پاس کافی ریزگاری ہوتی ہے تو اُنھیں سمجھ آگئی کہ اُن کے دادانے بھیک مانگنی شروع کردی ہے بجائے اِس کے وہ نادم ہوتے کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے انھوں نے دادا سے تقاضا شروع کردیا کہ اُن کو بھی پیسے دیں یوں وہ بوڑھا دن بھر سڑکوں پر بھیک مانگتا اور شام کو آکر ایک بیٹے کے گھر پڑا رہتا اور پوتوں کو پیسے دیتا رہتا۔ اِس ساری کہانی میں بوڑھے شخص کے جوان بیٹوں کا کردار اتنا بھیانک تھا کہ اُن کے سامنے اُن کا باپ ذلیل ورسوا ہورہا تھا لیکن اُن کو ئی پروا نہیں تھی وہ اِس سارئے واقعے سے چشم پوشی اختیار کرتے رہے اور بوڑھے کی بہویں تو بابے کو رتی برابر بھی برداشت نہ کرتی تھیں ۔ بوڑئے بھکاری کے بیٹے پوتے پوتیاں بہترین زندگیاں گزار رہے تھے سب کے ہاں آسودگی کا عالم تھا۔لیکن بوڑھے شخص کی قسمت اُس سے روٹھ گئی تھی۔ بعدازاں پتہ چلا کہ وہ بوڑھا اپنی جوانی میں غریبوں یتیموں کے مال کو ہڑپ کرتا رہا
تھا اور دنیا میں ہی وہ اتنا ذلیلِ خوار ہوا کہ خدا کہ پناہ اکثر واقفِ حال لوگ چہ میگوئیاں کرتے کہ ہٹے کٹے بیٹوں کا باپ سڑکوں پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہوتا ہے لیکن حرام کی کمائی سے پرورش پانے والی اولاد نے بھی تو اپنا حق ادا کرنا تھا سو اُنھوں نے وہ کیا۔اور اپنے بوڑھے باپ کے معاملے میں اپنے مُردہ ضمیر کی ہر بات مانی ۔ پھر ایک دن وہ بوڑھا شخص بھیک مانگتا ہوا ٹرک کے نیچے آکر کُچلا گیا اور دم توڑ گیا۔اناللہ وانالیہ راجعون۔اُس بوڑھے کا جنازہ بڑئے اہتمام سے اُٹھایا گیا اور اُس کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خوردونوش کا اہتمام کیا گیااور بیٹوں نے اُس کے میت کے پاس کھڑئے ہو کر خوب آنسو بھی بہائے۔آج ہر طرف ااپہ پکار ہے کہ اولاد فرماں بردار نہین ہے جب آپ نے اولاد کی پرورش حرام کی کمائی سے کی ہے تو حرام کی کمائی سے نشونما پانے ولا جسم اور اُس جسم کے اندر روح کیسے حلال ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ جب حرام کمیا جاتا ہے تو اُس وقت اُس سے بہت سے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے جس سے معاشرہ اپنا توزن کھو بیٹھتا ہے اور پھر معاشر ئے میں اخلاقی قدریں زوال پزیر اولاد نافرمان اور یہ ہی حال بیوی اور بہن بھائیوں کا ہوتا ہے۔


Belief in the Hereafter (Akhirat)



 

Belief in the Hereafter (Akhirat)

ASHRAF ASMI

ADVOCATE HIGH COURT

 


Akhirat or the Hereafter is another fundamental articles of faith in Islam. A Muslim should believe in the world of the Hereafter that will come after we die.
Man is an eternal creature. However, God has divided his life span into two parts. A very tiny part of it has been placed in this world, while all of the remainder has been placed in the Hereafter. The present world is the world of action, while the world of the Hereafter is the place for reaping the harvest of actions. The present world is imperfect, but the world of the Hereafter is perfect in every respect. The Hereafter is a limitless world where all things have been provided in their ideal state.
God has placed His heaven - full of all kinds of blessings - in that world of the Hereafter. Those who prove to be God-fearing and pious in this world will enter into that world to find the gates of heaven eternally open for them.
But those who are oblivious of God in this present world or who opt for the path of contumacy in regard to God's matters are criminals in God's eyes. All such people will be deprived of the blessings of the Hereafter.
God is invisible in this present world, and will appear in all His power and majesty only in the world of the Hereafter. Then all human beings will bow low before Him. But at that time, surrendering will be of no avail. Self-abnegation and acceptance of God is desired only while God is still invisible. Surrendering before God after seeing Him in the Hereafter will not benefit anyone.
Death is not the end of a person's life. It is only the beginning of the next stage of life. Death is that interim stage when man leaves this temporary world of today for the eternal world of tomorrow. He goes out of the temporary accommodation of the world to enter the eternal resting place of the Hereafter. The coming of this stage in the Hereafter is the greatest certainty in one's life. No one can save himself from this fate in the Hereafter.
The grave divides this world from the Hereafter. The next world lies across this great divide. Today we are on this side of the divide; tomorrow we will cross it. All living men will taste death; no one will be able to escape it. But man is oblivious of death—the greatest reality of life.
We have all seen people entering the grave never to return, but few of us realize that we are also going to meet the selfsame fate. The door of the grave will open for us and then close on us forever.
How strange it is that man witnesses others dying every day, but himself lives as if he was never going to die. He can see others being summoned before God every day, but he excludes himself from death’s list; he acts as if he was never going to come before the Lord to be judged.
We are closer to death than life. If we could realize this we would look on everyone’s death as our own; it would seem as if we ourselves were being carried to the grave when we saw someone else’s funeral.
Therefore, according to Islam, the present world is not an eternal abode. The Quran tells us that man is placed here only temporarily, so that his moral fibre may be tested in terms of his obedience to God’s will. He must always remember that there will be the life Hereafter, or Akhirat as it is known in Islamic terminology. This is also referred to as Ma‘ad, which means a place to which one returns.
There is a time limit to mortal existence. Death marks the end of the testing period for all human beings. But death only means a change of abode, for the soul never dies. Man returns to the realm whence he came, so that he may wait for the Day of Judgement. That realm, the life Hereafter, is the eternal world. Thus man’s life is divided into two parts: a brief stay in this world and an eternal life in the next world. To the ungodly, it is only then that it becomes obvious that a life which is eternal is far more important than this present existence.
God created human beings and made them responsible for their actions by granting them freedom. If there were no Afterlife, in which the good were rewarded and the bad punished, there would be no justice; in which case, it would appear meaningless to create people with a conscience and a sense of responsibility. But God is just and always acts justly. Hence it is the absolute demand of justice that there should be a Day of Judgement when everyone is brought to book.
After death, human beings will, therefore, leave this present, ephemeral abode and, on the Day of Judgement, will enter another world, which will be eternal. When the time comes for the Last Reckoning, God will destroy this world and replace it with a permanent, everlasting world. All human beings will then be resurrected and brought before the Almighty to be judged. On that day, everyone will stand alone before God. Those who have done good deeds in the world they have left behind will be rewarded. Their reward will be paradise, a state of joy, happiness and peace.
The Quran states:
“God has created death and life to test which one of you is best in conduct.” (67:1)
Furthermore, the concept of the Hereafter gives a fuller meaning and purpose to the life of the believer. One who firmly believes in this concept will not give in to greed or to any other such worldly failings. He will not be a materialist, for he knows that this material life will surely come to an end with death, whereas there will be a whole eternity before him in the Afterlife, during which he will certainly rejoice in having paid due attention to the spiritual side of life on this earth.
Death is not the end of our lives; it is the beginning of our real life. Because our future fate is to be decided on the basis of our present performance, we can either make use of our opportunities on earth to ensure a well-deserved place for ourselves in Paradise, or we can throw them away and condemn ourselves to punishment in Hell.
The belief in the Hereafter naturally has a great influence on the life of a believer. When he knows that God is watching all his actions, his behaviour will be responsible. He will always endeavour to lead his life in consonance with the will of God and will inevitably avoid any course which will incur God’s displeasure.
So we can say that man is an immortal being. He passes part of his time on earth and the rest of his time in the hereafter. This world is for actions; in the next world we will reap the consequences of our actions. The only chance we have to work for the Hereafter is in this world. Afterwards we shall not be able to act: we shall rather have to bear the consequences of our actions. We have very little time on earth. Many who were once among us on earth are now dead and gone. In the same way we shall be removed one day from the land of the living. Our lives will end and we shall be brought before the Lord.
This life is the first and last chance that we shall have to build an eternal future for ourselves. We have only one life on earth, and it is in this life that we must prove our worth. We are being tried on earth, and this trial is sure to reach a decisive outcome. We shall not be able to escape the consequences of our actions. Every second that passes is conclusive, for time that has passed can never return. We have only one chance to show our worth; we can either waste it or put it to good use. We have only one life on earth; we can either grow for ourselves a heavenly crop or an infernal one.
(TO COMPILE THIS ARTICLE HELP TOOK FROM DIFFERENT SOURCES)

سات ستمبر 1974کو پاکستانی قومی اسمبلی سے پاس ہونے والا ختم نبوت کا قانون میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

7ستمبر 1974کو پاکستانی قومی اسمبلی سے پاس ہونے والا ختم نبوت کا قانون

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم

سات ستمبر انیسو چوہتر کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا ایک اہم سنگ میل ہے اور اِس اثرات بھی نمایاں ہیں کیونکہ ختم نبوت ہمارا ایمان کا جزو لاینفک ہے ۔ اسلام دُشمن ہمیشہ مسلمانوں کے نبی پاک ﷺُ کی شانِ مبارک پر حملہ کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی روح کو وہ زخمی کرسکیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ مسلما نوں میں کتنا دم خم ہے ۔کبھی خاکے چھاپے جاتے ہیں کبھی آزادی رائے کے نام پر پیغبراسلام ﷺکی ناموس پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں درحقیقت نبی پاکﷺنے چونکہ تمام بنی نوح انسان کو شرف انسانیت سے ہمکنارکیا اوربتوں کی پرستش کی بجائے صرف ایک اللہ پاک کے آگے جھکنے کا درس دیا۔اس لیے کفارو مشرکین نبی پاکﷺکی اس سعی کو اپنی دکان داری پر شدیدحملہ تصور کرتے ہیں اسی لیے حیلے بہانوں سے نبی پاکﷺ کی نبوت کے حوالے سے مختلف قسم کی شر پسند ی کر تے ہیں مسلیمہ بن کذاب کی شرپسند ی سے شروع ہونے والا فتنہ برصغیر پاک وہند میں مرزا قاریا نی کے روپ میں انگریز کی سرپرستی میں اُبھرا ۔ جنگ یمامہ جو اِسی حوالے سے لڑی گئی اُس میں بارہ سو صحابہ اکرامؒ شھید ہوئے۔ پوری اسلامی تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ جب کبھی کسی بد بخت نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا امت نہ صرف یہ کہ اس کا مقابلہ کیا بلکہ جب تک اُس کا قلع قمع نہیں کردیا چین اور سکون کا سانس نہیں لیا ۔اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جاسکتا ہے کہ جب کسی نے نبوت کا دعوی کیا ہو اور اُمت نے اُسے خاموشی سے برداشت کرلیا ہو۔ اسی عمل کا تسلسل ہے کہ جب متحدہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا اور اپنے پیروکاروں کی ایک جماعت بنالی تو اسوہ نبوی اور صحابہ کرامؓ کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے علمائے حق اس جھوٹی نبوت کے خاتمے کے لیے میدان عمل میں نکل آئے اور اس کا ہر سطع پر مقابلہ کیا اس وقت کی حکومت برطانیہ کی چونکہ مکمل سرپرستی مرزا غلام احمد کو حاصل تھی اس لیے اس فتنے کا خاتمہ اس طرح تو نہیں کیا جاسکا جس طرح دور نبوی اور دور صحابہ میں ہوا مگر اس فتنے کے مقابلہ اور اور اسے ختم کرنے کے لیے کوئی سستی اور غفلت نہیں برتی گئی بلکہ تحریری،مناظرہ، مباہلہ غرض یہ کہ ہر سطع پر اس کا مقابلہ کیا ان تمام فتنوں میں جو امت کی تاریخ میں رونما ہوئے
فتنہ قادیانیت سر فہرست ہے۔ اس حولے سے پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف کا انقلابی کردار تاریخ کے سنہری حروف میں جگمگا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ ان کا یعنی مسلمانوں کا اسلام اورہے اور ہمارا اور ،ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ان کا حج اور ہے اور ہمارا اور ہے ہمارا ان کے ساتھ ایک ایک چیز پر اختلاف ہے۔ اسلامیان برصغیر پاک وہندنے ختم نبوت کے حوالے سے بھرپور قربانیاں دیں اور بھرپور مزاحمت کی ۔1953میں تحر یک ختم نبوت میں گولیا ں چلیں لیکن رسالت کے پروانوں کے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔اس تحریک میں دس ہزار کے قریب مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور بلال حبشیؓ ، اویس قرنیؓ اور غازی علم دین شھید کے راستے کا انتخاب کیا۔ مجاہد ملت عبد الستار خان نیازیؒ کو اسی تحریک کی پاداش میں پھانسی کی
سزاسنا دی گئی۔بر ف کی سلوں پر لٹا کر اُن پر تشد کیاگیا۔نبی پاکﷺکے بعدکسی اور رسول یا پیغمبرکاسلسلہ ختم ہونے کا مطلب ، رب پاک کا پیغام مکمل ، شریعت مکمل ، رب پاک کا کلا م قرآن مجید مکمل ، قیامت تک نبی پاکﷺ کی لائی ہوئی شریعت ہی حتمی قرار پائی ہے ۔شرپسند عناصر نے ہمیشہ شیطان کی ہمنوائی کا دم بھرتے ہوئے دین اسلام کو نشانے پر رکھا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تو نبوت کا سلسلہ بند نہ کیا ہو تا تو پھر آخری کتا ب بھی نا مکمل شریعت محمدی بھی نا مکمل قرار پاتی ۔ خالق کا ئنات کو کیسے منظور تھا ۔ جب رب پاک ایک ہے تو آ خری کتاب ایک اوررب پاک کے رسول ﷺسب رسولوں کے سردار بھی وہی ہیں جو صاحب قرآن ہیں اس لیے ختم نبوت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقیؒ کے دلائل کئی دنو ں تک متواتر ہوئے جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی نے یہ قانون پاس کردیا کہ نبی پاک ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو نبی ماننا کُفر ہے اور اسی نتیجے میں قادیانی لاہوری گروپ غیر مسلم قرار پائے۔
یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور حکومت تھاذوالفقار علی بھٹو اُس وقت وزیر اعظم تھے۔ اُئین میں جو ترمیم کی گئی وہ درج ذیل ہے۔
CONSTITUTION (SECOND AMENDMENT) ACT, 1974

An Act to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan [Gazette of Pakistan, Extraordinary, Part I, 21st September, 1974]The following Act of Parliament received the assent of the President on 17th September,1974, and is hereby published for general information:-Whereas it is expedient further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan for the purposes hereinafter appearing ;It is hereby enacted as follows:-

  - Short title and commencement.

(1) This Act may be called the CONSTITUTION (SECOND AMENDMENT) ACT, 1974
(2) It shall come into force at once.
2- Amendment of Article 106 of the Constitution.
In the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, hereinafter referred to as the Constitution in Article 106, in clause (3) after the words \"communities\" the words and brackets \"and persons of Quadiani group or the Lahori group (who call themselves \'Ahmadis\')\" shall be inserted.
3- Amendment of Article 260 of the Constitution.
In the Constitution, in Article 260, after clause (2) the following new clause shall be added, namely--
(3) A person who does not believe in the absolute and unqualified finality of The Prophethood of MUHAMMAD (Peace be upon him), the last of the Prophets or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after MUHAMMAD (Peace be upon him), or recognizes such a claimant as a Prophet or religious reformer, is not a Muslim for the purposes of the Constitution or law.\"
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ قومی اسمبلی کے قانون منظور کیے جانے سے پہلے جھوٹی نبوت کے دعوے داروں کو مُرتد نہیں کہا جاتا تھا ایسی بات نہیں یہ تو فیصلہ چودہ سو سال پہلے ہی نبی پاک ﷺ کے دور میں کردیا گیا کہ نبی پاک ﷺ ہی آخری نبی ہیں اُن کے کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اللہ پاک نے تو کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی جب نورِ محمدﷺ تخلیق کیا گیا تو اُسی وقت فیصلہ فرما دیا تھا کہ میرا محبوب نبیﷺ ہی آخری نبی ہیں۔اِسی حوالے سے نبی پاک ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی آب وگل میں تھے۔نبی پاک کے ذریعے سے اپنا دین مکمل کرنے کے بعد پھر کسی اور رسول یا نبی کی آمد کا مطلب یہ کہ دین مکمل
نہیں۔ اِس لیے جتنا اہم کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا اقرار کرنا ہے اُتنا ہی لازم نبی پاکﷺ کو قطعی طور پر آخری نبی ماننا ہے۔ اِس عقیدے کے حوالے سے چونکہ چنانچے کا مطلب ایمان کا خاتمہ ہونا اور مرتد ہونا ہے۔ آقا کریمﷺ کے بعد کسی بھی بدبخت کا نبوت کا دعوی کرنا ایسے ہی جیسے ایک رب کے ہوتے ہوئے کسی اور کو رب مان لیا جائے یا صاحب قران حضرت محمد ﷺ کی بجائے کسی اور کو صاحب قران کے درجے پر معاذ اللہ مان لیا جائے۔ ایسا کرنے والا ایسی سوچ رکھنے والا ایسی سوچ رکھنے والوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا موجودہ پاکستانی قانون کے تحت قادیانی مرزائی و لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اِس طرح سے اِن شر پسندوں کو کھل کر اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقعہ مل گیا ہے اور ٹی وی چینلز کے ذریعےمسلمانوں میں بدگمانیاں پیدا کرہے ہیں اور دنیا میں خود کو مظلوم بنا کر پیش کررہے ہیں کہ جناب دیکھیں پاکستانی کتنے ظالم ہیں ہمارے خلاف قانون بنا لیا ہے اور یہ نام نہاد پروپوگینڈا بھی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں پر عرصہ حیات تنگ ہے اِس لیے جرمنی، کینیڈا وغیرہ نے دھڑادھڑقادیانیوں کو شہریت دی ہے اور یوں اسلام مخالف قوتوں نے پاکستانی ریاست اور عوام کے خلاف آزادی رائے کے حوالے سے مہم جوئی شروع کر رکھی ہے۔ اسلام کو زِک پہنچانے کے لیے نام نہاد لبرل فاشسٹ بھی کسی سے پیچھے نہیں اور وہ اِسی ملک میں رہتے ہوئے اِسی ملک کے خلاف بولتے ہیں اور فوج اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں سات ستمبر انیسو چو ہتر ہماری تاریخ کا ایک تابناک دن تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس دن الگ الگ اجلاسوں میں آئین میں ترمیم کا ایک تاریخی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت پاکستان میں قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ قادیانیت اپنی ظاہری اور پس پردہ سرگرمیوں کی وجہ سے ابھی تک ملت اسلامیہ کے لیے ایک فتنہ بنا ہوا ہے کیونکہ کوئی فتنہ صرف آئین میں ترامیم سے ختم نہیں ہوسکتا ۔آئین کے تمام قانونی و ذیلی تقاضے پورے کیے بغیر قادیانیت مسلمانوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کہ اُسے آئینی تحفظ اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے پردہ میں ملت اسلامیہ کے خلاف اپنی تمام حسرتیں نکالنے کا موقع مل سکتا ہے

Wednesday, 30 July 2014

انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے لاہور بار ایسوسی ایشن کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے چےئرمین میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا تجزیہ

‎VISIT OF HUMAN RIGHTS COMMITTEE LAHORE BAR ASSOCIATION BAKHSI (JAIL)KHAN OF SESSION COURT LAHORE Ashraf asmi chairman human rights committee lahore bar Visted bakeshi khana session court lahore.inquring problems of prisoner women and mozam khan vice chairman.m.ali malik.sultan anjim.shahid ghani azhar jutt . Abida ch .bibi manaza and ahsan ul haq members humen rights committee are also with him
.انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن کے چےئرمین میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی زیرِ قیادت انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن کا بخشی خانہ                        سیشن کورٹ لاہور کا دورہ
لاہور (پریس ریلیز )انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن کے چےئرمین میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی زیرِ قیادت انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن نے بخشی خانہ سیشن کورٹ لاہور کا دورہ کیا۔اس دورہ کے دوران مختلف مقدمات میں قید خواتین و مرقیدیوں سے ملاقات کی اور انصاف کی فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے قیدیوں کے خیالات کو سُنا۔بخشی خانے میں صفائی کے حالات بہت بہتر تھے۔ اِس موقع پر جڑانوالا کی رہائشی ایک خاتون نے کہا کہ وہ بے قصور ہے اور اُس کو چوری کے شعبے میں پولیس نے پکڑا ہے اور اُس کے مقدمے کی پیروی کرنے والا کوئی نہیں۔اور اُس کے خلاف لاہور کے مختلف تھانوں میں پانچ سے زائد ایف آئی آر درج ہیں۔اُسے بے گناہ ہونے کے باوجود ان مقدمات میں پھنسایا گیا ہے انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار نے اِس خاتون کو قانونی امداد دینے کا فیصلہ کیا۔اِس کے علاہ قتل کے ایک مقدمے میں ایک قیدی خاتون نے بتایا کہ وہ بے گناہ ہے اور اُسے اور اُسکے شوہر کو بے گناہ طور پر تین ماہ سے قید میں رکھا ہوا ہے اور اُسے کے بچے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ اِسی طرح ایک قیدی خاتون کا کہنا تھا کہ فیملی کیس میں اُس نے اپنے حق میں ڈگری کروائی تھی لیکن اُس کے شوہر نے اُسکو جعلی کاغذات کی تیاری کے مقدمے میں گرفتار کروادیا ہے ۔دورہ کرنے والوں میں وائس چےئرمین معظم خان، بی بی منزہ، عابدہ چوہدری، محمد علی ملک ، احسان الحق رندھاوا،محمد سلطان انجم عدیل گوندل ،میاں شاہدغنی اور اظہر جٹ ایڈووکیٹس شامل تھے۔ اِس موقع پر تمام ممبران نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے وکلاء اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‎

انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے لاہور بار ایسوسی ایشن کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے چےئرمین میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا تجزیہ



انسانی حقو ق کمیٹی لاہور بار ایک ایسا فورم ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ظلم تشدد اور انسانی حقوق کی خلاٖف ورزیوں کے خلاف ایک توانا آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔ یوں تو وکلا کا پروفیشن ہی ایسا ہے کہ ان کو معاشی معاشرتی عمرانی ،نفسیاتی قانونی و دیگر زندگی کے شعبہ جات کے متعلق بھرپور آگہی واداک ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ۔قانون کے شعبہ سے منسلک افراد کس طرح اپنے وجود سے معاشرے کو فا ئدہ پہنچا سکتے ہیں موجودہ حالات میں مادیت نے ہر رشتے سے تعلق کو گہنا کر رکھ دیا ۔ہر لمحہ ہر ساعت معاشی ضرورتوں کا رونا رونے نے معاشرے سے امن سکون چھین لیا ہے ۔صبح صادق سے لے کر رات گئے تک معاشی مجبوریوں کو اپنے حواس پر سوار کرکے اپنے آپ کو ہر لمحے ما یوس اور دکھ کا شکا ر کررکھا ہے دکھی اور مایوس انسانیت نے اپنے لئے خود سا ختہ اتنے دُکھ پال رکھے ہیں کہ دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے کوتو خالق پر بھروسہ ہے لیکن جن کو روٹی میسر ہے وہ دوسروں سے نوالے چھین کر اپنے پیٹ کی دوزخ کی آگ کو بجھانے کی لا حاصل سعی میں مصروف ہیں
راقم کے خیا ل میں انسانی حقوق کے تنظیموں کو سب سے پہلے تو یہ امر پیش نظر رکھنا چاہیے کہ انسانی حقوق کے لئے کا م کرنے والے کا رکنا ن خود کو ہو س دُنیا وی لالچ سے دور رکھیں ۔جب تک اُن کے اپنے دلوں میں خوف خداہوگااور دُنیا وی آسائشات کی اہمیت نہ ہو گی تب ہی وہ معاشرے کو کچھ دے سکتے ہیں۔ا پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے کا م کرنے کے جنا ب انصاربرنی بہت بڑا نام ہے جوکہ پوری دُنیا میں اِس شعبے میں اپنی مثال آپ ہیں دیگر کئی لوگ اور تنظمیں بھی کا م کررہی ہیں لیکن اکثرکا کا م صرف میڈیا تک اپنی نمائش تک محدود ہے یا پھر جن لوگوں سے یا جن ملکوں سے یہ افراد فنڈز لیتے ہے اِن کے مِفادات کا تحفظ کرنا ہے۔دُنیا آج تک ایسی مثال دینے سے قاصر ہے کہ نبی پاک ﷺ سے بڑھ کر انسانی حقوق کا علمبرادر اور کوئی نہیں ۔بنی پاک ﷺ نے حقوق خواتین اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جو مثالیں قائم کیں وہ پوری انسانیت کا سرفخر سے بلند کیے ہوئے ہیں انسانی حقوق تو بہت بڑی بات ہے ،نبی پاک ﷺ نے تو جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ہما ری رہنمائی کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔موجودہ ادوار میں امریکہ یورپ برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بہت فعال ہیں ۔لیکن اُن کا دائرہ کا ر صرف اپنے ملکوں تک محدود ہے یہ ممالک تومعاشی سماجی حوالے سے پہلے ہی بہت ترقی یا فتہ ہیں وہا ں تو اِن تنظیموں کا کام بہت آسان اور یہ تنظیمیں مسلسل آگا ہی مہم کے ذریعے انسانی شعور کی بیداری کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں ۔ان ترقی یافتہ ممالک میں معاشی آسودگی کی وجہ سے قوانین پر عمل پیرا ہونا اور عزت وحرمت کے لیے کام کرنا نسبتاً آسان ہے۔سویڈن برطانیہ ،ناروئے امریکہ جرمنی یورپ کے دیگر ممالک میں انسانی حقوق کے علمبردار مرد وخواتین بہت زیادہ فعال ہیں۔ پاکستان میں انصار برنی کے علاو ہ عابد منٹو ایڈووکیٹ ،فاروق طارق،عاصمہ جہانگیر،جمی انجینئر، حنا جیلانی، طاہرہ مظہر علی خان، ایس ایم ظفر،آئی ائے رحمان بہت ہی قابل احترام نام ہیں جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کو معاشرئے میں رواداری امن برداشت کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔فیض احمد فیض جیسے عظیم دانشور بھی اِسی راہ کے مسافر تھے۔ اگر ہم انسانی حقوق کی پامالی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ ترقی پذیر ممالک یا انتہائی پسماندہ ممالک غربت کی ایسی چکی میں پس رہے ہیں کہ ان ممالک میں بس غلام ابنِ غلام ہی پیدا ہورہے ہیں غربت کے منحوس چکر نے ان ممالک کو اِس طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جو کہ ایک ایٹمی ملک ہے جس کے پاس سمندر ہے پہار ہیں چاروں موسم ہیں ہیں صرف چند ہزار لوگوں نے اُنیس کروڑ انسانوں کو یر غمال بنا رکھا ہے ساٹھ فی صد سے زیادہ لوگ خِط غربت سے انتہائی نچلی سطح پر زندگی بسر کرہے ہیں بے روزگاری، مخفی بے روز گاری نے عوام کا بُرا حال کر رکھا ہے ان حالات میں پھر انسانی حقوق کی حالت کیسے بہتر ہوسکتی ہے جب غریب
عوام کو بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہانکا جارہا ہے بنگلہ دیش بھارت برما میں بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ جس طرح کسی دوشیزہ کی خوبصورتی اُسکے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے اِسی طرح پاکستان کی سٹرٹیجک جغرافیائی حالت نے اُس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہے امریکہ ، بھارت اسرائیل ہماری جان کے دُشمن بنے ہوئے ہیں اوپر سے ستم ظریفی یہ بھی کہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے بھی ہمیشہ امریکی غلامی کے طوق کو اپنے گلے کا ہار بنائے رکھنے کو اپنے لیے فخر جانا ہے ۔ پاکستانی معاشرے میں علم کے نور کی کمی نے وڈیروں ، زمینداروں ، سرمایہ داروں کو عوام دُشمنی کے حوالے کیے رکھا ہے ۔ پاکستانی قوم کی بنیادی مشکلات میں پولیس کا نظام اور پٹواری کا ظلم شامل ہے۔ راقم کو جب 22A,22B سی آر پی سی کے تحت سیشن کورٹ میں پیش ہونا پڑتا ہے تو سیشن جج صاحبان کے احکامات کی حکم عدولی پولیس افسران کا خاصہ ہے۔ سیشن جج صاحبان بے بسی کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔
پولیس کے نظام میں بہت بڑی خرابی سیاسی مداخلت کا ہونا ہے۔ پولیس کا نظام ہمارے معاشرے میں انصاف کی بالا دستی کے راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔پو لیس کو دباؤ میں رکھنے کے لیے اتنے گروہ سرگرمِِِِِِِِ عمل ہیں کہ پولیس چاہے بھی تو اِن ذ مہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر ہے ۔جب پولیس نے اپنے فرا ئض کی ادائیگی پریشر میں کرنی ہے اور جب ہر ایم این اے اور ایم پی اے تھانیدار کو اپنی انا کے اشاروں پر نچاتا ہے تو امن و امان کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ رب پاک کو حاضر و نا ضر جان کر اگر ہم خود سے یہ سوال کریں کہ کیا کسی شریف النفس انسان کا موجودہ دور میں اسمبلی کا ممبر بننا ممکن ہے تو اِسکا جواب منفی میں ہونے کے ساتھ ساتھ ہے یہ بھی ہوگا کہ شریف آدمی نہ تو الیکشن لڑ سکتا ہے اور نہ ہی جیت سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تھانے اور کچہری کی سیاست ہوتی ہے۔ کسی کو گرفتار کروادیا کسی کو مروادیا اور کسی کو علاقے سے ہی غائب کروادیاجنگل کا قانون توپھر بھی کو معانی رکھتا ہے جہاں درندے ، پرندے ہزاروں سالوں سے بس رہے ہیں۔ ہمارری سوسائٹی میں طاقت کا استعمال
،اقرباپروری اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں عوامی نمائندے کیسے ہوں گے ؟ جیسا ماحول بن چکا ہے ادھر تو شرافت، دیانت امانت سب کچھ منافقت میں ڈھل چکا ہے۔98% طبقے کو % 2 نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اِن حا لات میں پولیس امن و امان کیسے قائم رکھے جب عوامی نمائندے وزیر ،مشیر سرمایہ دار وڈیرے پولیس کو اپنی من مانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ سندھ اسمبلی کے ایک ضمنی الیکشن میں حکومتی پارٹی کی ایک خاتون امیدوار نے پولیس آفیسر کے سامنے خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کو تھپڑ مارے اور ڈی ایس پی باادب ہو کر سارا تماشا دیکھتا رہا۔ یہ ہے وہ پولیس جس نے عوام کو غنڈوں کی چیرہ دستیوں اور ظلم سے بچانا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں میڈیا کے فعال کردار نے کافی حد تک آگاہی دی ہے۔ لیکن حز بِ اقتدار ہو یا حزب مخالف، اقتدار میں رہنے کے لیے منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ وہ بھاری رقوم خرچ کرکے آئے ہیں اس لیے ہر طریقے سے رقم کماتے ہیں۔ اِن لوگوں نے باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں وکلاء، سول سوسائٹی اور عدلیہ ہی امید کی کرن ہیں کہ شائد ہمارہ معاشرہ کبھی گدِھوں سے نجات حاصل کرسکے۔ تھانے بکتے ہیں ماہانہ بنیادوں پر رقوم اکھٹی ہوتی ہیں۔کتابوں میں لکھے اخلاقیات اور مذہب کے امن وآشتی کے اسباق کہیں دور اندھیرے میں دُبکے ہوئے ہیں۔۔ تعلیم ،امن ،صحت، روزگار سماجی انصاف معاشرے کو امن وآشتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالیٰ شان ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔قصور پولیس کا نہیں بلکہ اِس کو کرپٹ کرنے والوں کا ہے جو پولیس کو دباؤمیں رکھ کر اُس سے ہرناجائز کام کرواتے ہیں جس سے یہ احساس شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے آزادی جیسی نعمت کی قدر نہیں کی اور دورِ غلامی کی لعنت سے کوئی سبق نہیں سیکھاہمارے رویے ایک قوم ہونے کے ناطے اِس لیے بہتر نہیں ہو پائے کہ ہمارے حکمران کیونکہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں
اور وہ خود کو قانون کے دائرے میں رکھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔قانون کی بلادستی کے لیے سب سے زریں اصول یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہو۔ جو قومیں امیروں اور غریبوں کے درمیان انصاف کی فراہمی کے حوالے سے تفریق کرتی ہیں وہ تباہ برباد ہوجاتی ہیں پاکستانی سوسائٹی میں امن ومان اور قانون کی عملداری اُس وقت ممکن ہے جب حکمران اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے ہوں۔ہمارئے معاشرئے میں قانون کی حاکمیت نہ ہونے کہ وجہ سے معاشرہ بُری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔عوام ظلم برداشت کر کر کے ادھ مُو ہو چکی ہے سب سے پہلے تو وہ افراد انسانی حقوق کی پامالی کرنا بند کریں جن پر یہ ذمہ داری ہے کہ اُن پرانسانی حقوق کی بالا دستی کے لیے کام کرنے کی ذمہ داری ہے۔ جیلوں کی صورت حال، تھانہ کلچر، گھروں میں کام کرنے والے بچے بورھے خواتین سب لوگ تو انسانی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4 people reached
MY CASE UNDER RENTED PREMISES ORDINANCE
Photo: MY CASE UNDER RENTED PREMISES ORDINANCE


اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں

 

 

اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں

دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں

میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ



آج جب عید کی ساعتیں ہیں اور اِن ساعتوں میں اپنے ارِد گرد نظر ڈالتا ہوں تو دل میں ہول سا اُٹھتا ہے،کتنے چہرئے جو اب نظر سے دور ہیں کچھ تو دیارِ غیر جا بسے ہیں اور کچھ رب پاک کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔بچپن میں جب اباجانؒ کا انتقال ہوا تو راقم آٹھ سال کا تھا اور یوں بچپن کی عیدیں بھی ابا جان کی یاد میں گزرتی رہیں اور انہیں یادوں نے بچپن سے بڑھاپے میں جھونک دیا۔ یوں عید اپنے روایتی انداز میں آتی اور گزر جاتی اور ہمیں عید کے اُس مفہوم سے آشنائی نہ ہو سکی جس کا اظہار ہم دوسرئے بچوں سے سنتے یا محسوس کرتے۔عید منانا یہ تو ایک ایسی جبلتی کیفیت ہے کہ اِس کا حال صرف وہی جانتا ہے جو عید گزار رہا ہوتا ہے۔جن معاشروں میں نا انصافی، بیروزگاری، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہو جہاں عزت کا میعار دولت ہو۔ جہاں انسانوں کی خدمت پر مامور سیاستدان بدترین کرپٹ ہوں وہ قوم بھی یتیم ہی ہوتی ہے۔ ملک کے حکمران جو عوام کے لیے والد کا درجہ رکھتے ہوں وہ رہبر کی بجائے راہزن کا روپ دھار لیں تو عید شامِ غریباں بن جاتی ہے۔عوام کے ساتھ جتنا ظلم ہو سکتا ہے اُس میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی گئی نہتی عوام کو چور ڈاکو تاجر نوچ رہے ہیں ۔عوام بے حال ہے۔تو پھر اِن لمحات کو عید کیسے کہا جاسکتا ہے۔عراق، شام، لیبیاء،کشمیر ،افغانستان، فلسطین، مصر،عالمی مسلمان رہنماؤں کی بے حسی کی تصویر بنے ہیں۔تو پھر عید کیسی؟ فلسطینی عوام بچے بوڑھے عورتیں گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں تو پھر یہ کیسی عید۔اللہ پاک نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد مسلمانوں کو خوشی کے لیے عید کا یوم عطا کیا ہے لیکن اِس عید کو منانے کے لیے جتنے بھی اسباب ہیں اُن سب کے حصول کے لیے منفعت صرف چورڈاکو،تاجروں حکمرانوں کو حاصل ہے۔ عید کے مزئے تو منافع خوروں کے ہیں جنہوں نے رمضان میں خوب چور بازاری، لوٹ مار منافع خوری کی اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔حکومت کی موجودگی کا احساس ٹی وی ریڈیو کے خبر نامے میں ہوتا ہے جس میں یہ راگ الاپے جاتے ہیں کہ حکومت نے ایسا کرنے ویسا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ پاکستان قوم کو فرقہ واریت ، ذات پا ت اور او نچ نیچ،،غربت،دہشت گردی میں دھکیلے جانے کے ذمہ دار ساستدان بیوروکریٹ سرمایہ دار اور وڈیرئے ہیں ۔عوام کو تو نہ کبھی اختیار ملا ہے اور نہ ہی ملنے کی کوئی سبیل نظر آرہی ہے۔
            اِس دن کو نوحہ لکھوں یا عید مبارک لکھوں
دل کا کہنا ہے کہ اِسے شامِ غریباں لکھوں
           اشرف عاصمی

متناسب انتخابی نظام پاکستان کے لئے کیوں ضروری ہےA RESEARCH BASED ARTICL BY ASHRAF ASMI ADVOCATE


                                    متناسب انتخابی نظام پاکستان کے لئے کیوں ضروری ہے
میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
متناسب نمائندگی کا نظریہ ایک ایسے ووٹنگ سسٹم پر مبنی انتخابی نظام ہے جس میں اسمبلی یا کونسل کو منتخب کیا جا تا ہے ۔متناسب نمائندگی سے مراد یہ ہے کہ جوسیاسی پارٹیا ں یا گروپ جتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں اُسی تنا سب سے پارٹیوں میں سیٹوں کی تعداد تقسیم کردی جاتی ہے مثال کے طور متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اگر 30%ووٹروں نے کسی خاص پارٹی کی حمایت کی ہے تو 30%سیٹوں کی جیت اُ س پا رٹی کی ہو گی ۔
متناسب نمائندگی کا نظام درحقیت سنگل ممبر ووٹنگ سسٹم کا متبادل ہے ۔
متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کی کئی اقسام ہیں کچھ نظاموں میں صرف مختلف پارٹیوں کی متنا سب نمائندگی ہے ،جب کہ کچھ نظاموں میں ووٹرز امیدوار وں میں سے انفرادی طور پر امیدوار کو چُنتے ہیں متناسب نمائندگی کے نظام کی شرح میں فرق ہے۔ یہ اُن عوامل کی بنا پر ہے جس میں سیٹوں کے تعین کا فارمولا ترتیب دیا جاتا ہے ۔جس میں ایک حلقے میں سیٹوں کی تعداد یا منتخب شدہ با ڈ ی بحثیت مجموعی کا فارمولا شا مل ہے
متناسب نمائندگی کا نظام اکثر سنگل ووٹر الیکٹوریل نظاموں کی ضد سمجھا جاتا ہے ان میں سب سے عام جو ہے وہ سنگل ممبر pluralityکا نظا م ہے ۔یہ نظا م سابقہ تاج برطا نیہ کے زیر اثر ممالک جن میں امریکہ ،کینیڈا ،انڈیا وغیرہ میں موجودہ ہے ۔
متنا سب نما ئندگی کے نظا م میں سیا سی جما عتوں کے سیا سی منشور پر خا ص طور پر زور دیا جاتا ہے ۔سیا سی جما عتیں متنا سب نمائندگی کے نظا م میں دل یعنی مرکز کے طور پر کام کرتی ہیں ۔مثال کے طور جو جماعتیں کل ووٹوں کا 15%حا صل کرتی ہیں تو اِس نظا م کے تحت وہ اپنے امیدراروں کے لئے 15%نشستیں حاصل کر لیتی ہیں ۔تا ہم جن اقوام میں متنا سب نمائندگی کا نظا م رائج ہے وہا ں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امیدوار کی انفرادی حثیت تو دیکھا جا ئے جیساکہ نیدرلینڈ کے انتخا بی نظا م میں ہے یا پھرایسی اقوام بھی ہیں جہا ں صرف پارٹی کو ووٹ دینے کی اجا زت ہے جیسے کہ اٹلی کی پا رلیمنٹ ہے ۔زیا دہ تر جو بحث انتخابی نظام کے حوالے سے کی جا تی ہے وہ یہ کہ زیا دہ سے زیا دہ متناسب نما ئندگی کے طرف رجو ع کیا جا ئے ۔یہ اس وجہ سے ہے کہ موجودہ دور میں امریکہ اور برطانیہ میں جومضبوط پارٹیا ں ہیں وہ صرف 20%سے 25%تک اہل وؤٹروں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں جس سے چھوٹی پارٹیا ں نظراندازہوجا تی ہیں ۔کینڈامیں صورتحال اور زیا دہ خراب ہے کہ صرف40%ووٹروں کی حما یت سے پا رٹیا ں مکمل چار سال کے لئے اقتدار حاصل کر لیتی ہیں ۔ اس طرح صرف 60%پڑ نے والے ٹوٹل ووٹوں میں سے صرف ایکچوتھائی ووٹ حاصل پارٹی حکومت کی تشکیل کرلیتی ہے ۔بیان کردہ متنا سب نمائندگی کے نظام کے حوالے سے بحث عرصہ سے وطن عزیزمیں چل رہی ہے ۔پاکستان کے جغرافیا ئی اور سما جی خدوخال اِ س طرح کے ہیں کہ ایک ایسا مربو ط انتخابی نظام جس میں ہر طبقہ فکر،خواہ اُس میں قوم پر ست شامل ہوں یا کسی خاص طبقہ فکر کی سوچ کے حامل افراد ہوں ۔تمام segment آف سوسا ئٹی کو جمہوریت کے ثمرات سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔پاکستان میں زبان نسل اور مذہب کی بنیاد پر الیکشن میں حِصہ لینا آئین پاکستان کی نفی ہے ۔لیکن اگر کوئی بھی گروہ یا جماعت آئین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہے تواُسکی سوچ کو پذیرائی ملنے کی صورت میں ارباب اختیار کو بھی خودا احتسابی کرنے کی عادت پڑسکتی ہے ۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تعلیمی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے ۔تعلیمی ماحول نہ ہونے کی بناء پر جمہوریت کو بھی پنپنے کا موقع نہیں مل سکا ۔ہم انگریز اور انگریزی نظام کو اپنے ملک کے سماجی ڈھا نچے کے لئے زہرِقاتل توگردانتے ہیں لیکن گزشتہ62سالوں سے کون سے شعبے میں ہم نے قابِل فخرترقی کی ہے ۔
اِس ملک کے 70%لوگ صاف پانی سے محروم ہیں بجلی گیس کا بحران ہماری معیشت کو نگل چکاہے ۔مذہبی منافرت ہونے کا ڈھنڈوراتوخوب پیٹاجاتا ہے ۔لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی موجود ہے اگر کہیں فرقہ ورانہ فسادات ماضی میں ہوئے بھی ہیں یا ابھی ہوئے ہیں تواِس میں ہمارے دشمنِ ممالک کی سازش کارفرما ہوتی ہے ۔اسی طرح پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی بھی قابلِ اطمینا ن حدتک موجودہ ہے۔اسلئے یہ استدلال کے متناسب نمائندگی کی بناء پر اس طرح کی منفی سوچ اور یِک جہتی کی مخالف قوتیں سراُٹھا سکتی ہیں اس میں وزن نہیں ہے ۔وڈ یرہ شاہی ،جاگیردانہ سوچ،اور مختلف گروپوں کے زیر اثر عوام کو اگر اپنی سوچ کا اظہار اِس طرح کرنے کا موقع ملے کہ ایک ایک ووٹ مناسب طور پر طاقت کا عامل ثابت ہو موجودہ انتخابی نظا م کی وجہ سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جما عت نمائندہ جماعت بن کر اقتدارپر براجمان ہے ۔مثلا اگر دس سیاسی جماعتیں ایک حلقے میں اپنے امیدوارں کو الیکشن کے لئے اُتارتی ہیں تو ووٹ 10امیدوارں میں تقسیم ہوکر رہ جاتا ہے ۔اس طرح اگرکوئی جماعت10فی صد کوئی12فی صد یا9فی صد ووٹ حاصل کرتی ہے اور ایسی جماعت جوکہ اِن دس جماعتوں میں زیادہ فی صد ووٹ لے لیتی ہے خواہ اُس نے کل ووٹوں کا 20%حا صل کیا ہو تو اُس کا امیدوار اسمبلی میں پہنچ جا تا ہے ۔جوباقی جو80%ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں تقسیم ہوئے ہوتے ہیں وہ ضائع جائے ہیں یعنی 80%لوگوں کی نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہوتی باقی اُسکے مقابلے میں 20%ووٹ لینے والا کا میاب گردانا جاتاہے ۔
یہاں المیہ یہ ہے جس کی بناء پراصل مسائل کا تریاق نہیں ہو پاتا ۔جب اقتدار کی مسند پرفائز لوگ حقیقی عوامی حما یت یافتہ نہ ہوں تو پھر عوام کے مسائل بھی اُن کی زبا ن پر نہیں ہوتے اور ضمیر نا م کی چیز بھی اُنہیں ملا مت نہیں کرتی ۔پاکستان میں ایسی کئی سیا سی پارٹیا ں ہیں جن عوام میں نفوس پزیری قابل قدر ہے کہ لیکن اسمبلی میں اُن کی آواز نہیں پہنچ پار ہی ہے ۔یااگر اُن کو سیٹیں ملتی بھی میں تو بہت کم اس حوالے سے پاکستا ن عوامی تحریک کے چیرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے کا فی عرصہ سے آواز بلند کررکھی ہے کہ انتخابی نظام بدلا جا ئے ۔وطن پاک میں سیا سی جماعتوں میں ڈاکڑ طا ہرالقادری کی جما عت عوامی تحریک ۔مو لا نا فضل الرحمان کی جما عت جمیت علما ئے اسلا م .ف(جما عت اسلا می، مولا نا سیمع الحق کی جما عت جمعیت علما کے اسلا م. س(مولاناشاہ احمد نورانی صاحب مرحوم کی جمیت علما ئے ،پاکستان سنی اتحاد کونسل کے چیر مین صاحبزادہ فضل کریم مرحوم کی جما عت علمائے پاکستان ،اسی طرح پاکستان سُنی تحریک عمران خان کی تحریک انصاف انجمن طلبہ اسلام کے سابقین کی جماعت پاکستان فلاح پارٹی وغیرہ یہ وہ سیاسی قوتیں ہیں اکہ اگر متناسب نمائندگی کی بنیاد پر الیکشن ہوں تو پھر پورے پاکستان میں کا سٹ ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر یہ جماعتیں اسمبلی میں پہنچ کر اپنا مثبت کردار اِدا کر سکتی ہیں ۔اور وفاق کی مضبوطی میں اہم پیش فرت بھی اس طرح ممکن ہے ۔
جما عت اسلامی گزشتہ نصف صدی سے انتخابی میں ہے لیکن اسے جب بھی امبلی میں نشستیں ملی ہیں اُس کے لئے اِسکو نواز لیگ کا سہارا لینا پڑا یا جنرل ضیا ء الحق کی آشیر با دحاصل تھی حالا نکہ متنا سب نمائندگی کی بناء پر جماعت اسلامی کی قوت مجتمع ہوسکتی ہے اور نشستوں کی تعداد بھی زیا دہ ہوسکتی ہے ۔یہ ہی حال جے یوپی کا ہے پورے ملک میں اسکے چاہنے والے بے شمار ہیں لیکن اس وقت اس کی اسمبلی کوئی نشست نہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی(کے چا ہنے والے پورے ملک میں ہیں لیکن سوائے خیبر پختون خواہ میں اسکی عددی اکثریت کہیں نہیں ہوتی ۔اِس نظام میں عوامی نیشنل پارٹی کو بھی تقویت حاصل ہوسکتی ہے ۔اس نظام کے تحت بظاہر لسانی ،مذہبی قوم پرستوں کے نشستیں لینے کے چانسز بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ تمام گروپؒ ٰ قومی دھا رے میں آکر وفاق کی بات کرنے پر مجبور بھی ہوسکتے ہیں اوروفاقی کی مضبوطی میں اپنا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں ۔پاکستانی معاشرے کے کئی رنگ ہیں اِس ملک کی نظریاتی اساس بھی اِس بات پر دلات کرتی ہے کہ ہر طبقے کو اپنی بات کہنے کا حق ملے لیکن یہ تو تب ہی ممکن ہے جب اِن کی آواز پارلیمنٹ میں پہنچ سیکے ۔ ے حقیقی مسائل کا ادلاک تب ہی ممکن ہے جب حقیقی نمائندں پر مشتمل اسملیاں وجود میں ہیں ۔
بے روزگاری کے زخموں سے چور چور نوجوان نسل بے یقینی کی کیفیت میں اندھیروں میں ڈوبتی جا رہی ہے ۔معاشی وسماجی ناانصافیا ں دہشت گردی ،ڈاکے لوٹ مار کو جنم دی رہی ہیں ملک میں موجود اشرافیہ
طاوس رباب کی مدھ بھری تانوں پر تھرک رہی ہے اور ملک کی حقیقی نمائندہ عوام ظلم وجبرکی چکی میں پس رہی ہے ۔جس کو دیکھیں وہ پاکستان ٹوٹنے کی بات کررہاہے ۔اِس بے چینی کی وجہ ہی یہ ہے کہ حقیقی
نما ئندگی حکومتی ایوانوں تک پہنچ نہیں پاسکی پس اِس وطن کا وجود ،خوش حالی ،سماجی ومذہبی راوداری معاشی آسودگی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں کی بجائے حقیقی عوامی نمائندگی کے حامل افراد قوم کی باگِ دوڑنہ سنبھال لیں۔اِس ملک میں دو پارٹی نظام نہ تو پنپ سکا ہے ۔نہ کوئی چانس ہے ۔اس وقت دُنیا کے تقریبا87ممالک میں متناسب نمائدگی کانظام رائج ہے ۔ان ممالک میں ترکی ،جرمنی ،سری لنکا،سویڈ ن ،سوئیز لینڈ، ساوتھ افریقہ ،روس جیسے ممالک بھی شامل ہے
چنداہم خرابیاں جوکہ موجودہ جمہوریت نظام میں موجودہ ہیں ۔
1۔95%عوام کو 5%طبقے نے یر غمال بنارکھا ہے
2۔مالی طور پر مضبوط اور بااثر افراد ہی اِس نظام میں الیکشن میں حصہ لے کر کا میابی حاصل کر سکتے ہیں۔
3۔الیکشن جیتنے کے لئے امیدوار خوب رقم لگاتے ہیں اور پھر اُس سے کئی گنا کر پشن کرتے ہیں ۔
4۔عا م پڑ ھا لکھا باشعور آدمی جو معاشی طور پر اس قابل نہ ہوکروڑوں روپے انتخابی مہم پر خرچ نہ کرسکتا ہو وہ الیکشن کے عمل سے باہر ہے ۔
5۔بااثر افراد کی انتخا بات میں کا میابی سے پسے ہوئے طبقے کی آواز دب کررہ گئی ہے ۔
6۔عوام کے حقیقی مسائل کیونکہ ان وڈیروں ،سرمایہ داروں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اِس لئے اُن کو عوام کے درد کانہ کوئی احساس ہے اور نہ کوئی پرواہ ۔
7ََ۔موجودہ جمہوری نظام نے فوج،سول بیوروکریسی اور وڈیرہ شاہی کی ایک مثلث قائم کررکھی ہے جس کی وجہ سے عوام کواپنی حالت بدلنے کے لئے خورہی اُٹھا ہوگا ۔
8۔مختلف گروپوں ،علاقائی پارٹیوں کی آواز موثر نہ ہونے سے وفاقی اور قومی یک جہی کوخطرات لاحق ہیں
۔بلوچستان میں لگی ہوئی آگ کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ حقیقی عوام حکومت میں نہیں ہوتی ہے
9۔موجودہ نظام کی وجہ سے جمہوریت لوٹ مار اور کرپشن کا نشان بن چکی ہے چند سال بعد ہی اِس نظام کے تحت منتخب حکومت عوام کے لئے سوہان روح بن جاتی ہے ،اور لوٖگ پھر تبدیلی کے لیے فوج کا راستہ دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔گھٹن کے ایسے ماحول میں فوج کو چا ر ونا چار حکومتی ایوانوں میں گھسناپڑتاہے ۔کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان آرمی کو دُنیا کی بہترین پیشہ ورانہ حاصل کی فوج گردانا جاتاہے ۔تو پھر ایسی فوج کو مجبور ا اگر ا قتدار میں آنا پڑتا ہے تو اِس کا مطلب صاٖف ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ہما رے مسائل کا ادراک نہیں رکھتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ایشیا ء کی سب سے بڑی بار لاہور بار کی انسانی حقوق کمیٹی کے چےئرمین ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے قانونی سماجی معاشی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی علامگیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں۔




























ذ
Back to Conversion Tool

واصف علی واصف

واصف علی واصف



ولادت و ابتدائی زندگی

حضرت واصف علی واصفؒ 15 جنوری 1929ءکو خوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد ماجد ملک محمد عارف صاحبؒ کا تعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ایک ممتاز شاخ ”کنڈان “سے تھا۔ مستند تواریخ کے حوالے سے یہ بات ثابت ہے کہ اعوان قوم کا سلسلہ ¿ نسب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی۔ جون 1929ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے نانا کے پاس جھنگ چلے آئے۔ وہ ایک ممتاز ماہرِتعلیم تھے اور جوانی میں قائدِ اعظمؒ کے زیرِ نگرانی امرتسر میں مسلم لیگ کے لیے کام کر چکے تھے۔ آپؒ کے والد صاحب نے فیصلہ کیا کہ بقیہ تعلیم آپؒ کو جھنگ میں دلوائی جائے۔

تعلیم

جھنگ میں دورانِ تعلیم آپؒ کے جوہر خوب کھلے اور ایک شاندار تعلیمی کیری ¿ر کا آغاز ہوا۔ میٹرک   گورنمنٹ ہائی سکول جھنگ سے کیا۔ اس وقت بورڈ کی بجائے امتحان پنجاب یونیورسٹی لیا کرتی تھی۔ آپؒ نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ اس کے بعدایف اے گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ سے پاس کیا‘ پنجاب یونیورسٹی کے اس امتحان میں بھی فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔آپؒ نے بی۔اے گورنمنٹ کالج جھنگ سے پاس کیااور اِس مرتبہ بھی فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ بعدازاں ایم اے انگریزی ادب میں داخلہ لیا۔ اس دوران آپؒ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے اور ہاسٹل میں رہا کرتے تھے۔

اعلیٰ تعلیم

آپؒ نہایت خوبصورت تھے ، دراز قد تھے اور ایک مضبوط جسم کے مالک تھے۔ اسکول اور کالج میں ہاکی کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ سن ۹۴۸۴۹۱ءمیں آپؒ کو ہاکی میں حسنِ کارکردگی پر ”کالج کلر“ دیا گیا۔ اس کے علاوہ کالج کی مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اسی کالج کی انہی گوناں گوں سرگرمیوں کی وجہ سے ۹۴۹۱ءمیں آپؒ کو ”ایوارڈ آف آنر“ دیا گیا۔ ۷۲ ستمبر ۴۵۹۱ءمیں آپؒ کوویسٹ پاکستان پولیس ٹریننگ کا اعزازی سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا جس میں آپ ؒ کی ٹریننگ اور خدمات کو سراہا گیا۔ ۳ جون ۴۵۹۱ءکے پنجاب گزٹ کے مطابق آپؒ نے سول سروس کا امتحان پاس کیا مگر طبیعت کی انفرادیت اور درویشی کے میلان کی وجہ سے سرکاری نوکری کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد آپؒ نے ریگل چوک لاہور میں واقع ایک پنجابی کالج میں پرائیویٹ کلاسوں کو پڑھانا شروع کیا۔بعد ازاں پرانی انار کلی کے پاس نابھہ روڈ پر ”لاہور انگلش کالج“ کے نام سے اپنا تدریسی ادارہ قائم کیا۔

تدریس

یہ ۲۶۹۱ءکی بات ہے۔کالج میں باقاعدگی سے لنگر چلتا تھا اور خاص بات یہ تھی کہ طالب علموں کے علاوہ ہر آنے والے کو چائے پیش کی جاتی اور آپؒ اکثران کے ساتھ چائے نوشی میں شریک ہو جایا کرتے۔ کالج میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اصحاب کی آمد و رفت رہتی۔ ان میں ادیب‘ شعراء‘ بیوروکریٹ ‘ وکیل ‘ ملنگ ‘ فقرائ‘ درویش اور طالب علم اپنے اپنے ذوق اور طلب کے مطابق فیض یاب ہوا کرتے تھے۔

ابتداء فیض

مختلف اخباروں اور جرائد میں آپؒ کا کلام چھپا کرتا تھا۔ چند اصحاب کے اصرار پر یہ کلام جمع کیا گیا اور عارف نوشاہی سے کتابت کرائی گئی تو آپؒ کی پہلی تصنیف منظرِ عام پر آئی۔ یہ ۸۷۹۱ءکی بات ہے۔ مجموعہ ¿ کلام کا نام ”شب چراغ“ رکھا گیا۔ اس میں آپؒ کے لاہور انگلش کالج کے زمانے کی ایک نہایت پر شکوہ اور جلال و جمال سے مرقّع فوٹوگراف بھی تھی۔ اس کی تقریبِ رونمائی میں آپؒ کے بہت سے عقیدت مند اور اہلِ علم حضرات شامل ہوئے۔ اس کے بعد رشد و ارشاد کا ایک لامتناہی سلسلہ چل نکلا۔ یہ دور انتہائی مصروفیت اور محنت کا دور تھا۔ جب لوگوں کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی تو گفتگو نے ”محفل“کا روپ اختیار کر لیا۔ مختلف مقامات پر محفل جمنے لگی۔ شروع شروع میں محفل کی باقاعدہ شکل لاہور کے مشہور اور مصروف مقام ”لکشمی چوک“ میں بننی شروع ہوئی۔ اس کے بعد قذافی سٹیڈیم میں واقع فزیکل ٹریننگ کے ادارے میں محترم نیازی صاحب مرحوم کے ہاں محفلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں پر ایک ہزار راتیں آپ ؒنے خطاب کیا۔مختلف موضوعات پرلوگ سوالات کیا کرتے اور آپؒ ان کے جواب دیا کرتے ۔ بعد میں یہ سلسلہ آپؒ کی قیام گاہ ۲۲ فردوس کالونی گلشن راوی پر شروع ہوا۔

کالم نویسی

ءمیں آپؒ کو ایم اے او کالج لاہورکی ”مجلسِ اقبالؒ“ کے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیااور ایک محفل وہاں بھی جمی۔ چیدہ چیدہ اہلِ علم اور اہلِ قلم اصحاب نے آپؒ سے مختلف سوالات کیے۔ اس کی روداد روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوئی تو قارئین کی اکثریت نے اصرار کیا کہ واصف صاحب ؒ کی تحریر کا کوئی باقاعدہ سلسلہ ہونا چاہیے۔ تب آپؒ نے نوائے وقت کے لیے کالم لکھنا شروع کیا۔ پہلا کالم ”محبت“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ندرتِ کلام اور تاثیر کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے دھڑا دھڑ آپؒ سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور اپنے دینی‘ دنیاوی اور روحانی مسائل کے حل کے لیے آپؒ کو مستجاب پایا۔

وفات

حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک فرمان ہے کہ ”عظیم لوگ بھی مرتے ہیں مگر موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی ہے“ یوں تو آپؒ نے 18 جنوری 1993ءبمطابق 24 رجب ۵۱۴۱ھ کی سہ پہر کو اس دارِ فانی سے آنکھیں موندھ لی تھیں مگر آج ہم دیکھ رہے ہیںکہ آپ ؒ کے علم و عرفان کا نور ہر سُو پھیلتا ہی جا رہا ہے اور پھیلتا ہی جائے گایہاں تک کہ آپ کا اصل مقصدِ تخلیق پورا ہو جائے گا یعنی ”استحکام پاکستان اوراسلام کی نشاة ثانیہ










Imam Of The Time’ Will Implement Islam In Pakistan (Wasif Ali Wasif R.A.)

پاکستان میں اسلام وہی نافذ کرے گا جو اِمامِ وقت ہو گا
(1929 – 1993)
Sahib-e-Basirat Wasif Ali Wasif (R.A.), A Wali Allah with true vision. Some extracts from his important lecture, Pakistan and System of Election, are posted below.

Imam of the Time will implement Islam at State Level. Call him ‘Imam-e-Waqt or Khalifa-tul-Muslimeen or Ameer-ul-Momineen’. A Man who will be first in Power, first in Religion, he will do this. We need to follow him. There is no democracy in Islam. Neither Allah is democratic. Allah (swt) says in Quran: ‘The most honorable among you in the sight of Allah is ‘That Believer’ who is the most pious of you.’ Wasif Ali Wasif (RA) also replied a question about Imam Mehdi (AS)
Note: Imam is an Arabic word meaning ‘Leader’. The ruler of a country might be called the Imam . Please carefully listen and read the content posted below.
(A Rare Audio of Wasif Ali Wasif R.A)
Quran, (49)-Al-Hijraat, Verse 13
( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ )
حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
Indeed, the most honorable among you in the sight of Allah is ‘That Believer’ who is the most pious (the most righteous) of you.  Surely, Allah is All-









Tuesday, 29 July 2014

آہوں کا رِستا ہو ا لہو۔

آہوں کا رِستا ہو ا لہو۔

میا ں اشرف عاصمی

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

ماں اپنے لاڈلے جواد اور لاڈلی زیبا پر اپنی پہاڑ جیسی جوانی قربان کر چکی تھی۔ جسیے تیسے کرکے محنت مزدوری کی جواد کو تعلیم دلوائی اسی طرح چھوٹی زیبا کو بھی اُس نے پڑھایا۔ماں سارا دن لوگوں کے کپڑے سیتی یوں اُس نے انپے خاوند کی موت کے بعد اپنے گھر کی روٹی ،پانی کا انتظام چلایا۔ جب اُس کا خاوند اُسے اکیلا چھوڑ کر منوں مٹی میں جا سویا تھا اُس وقت جواد تین سال کا تھا اور زیبا چھ ماہ کی تھی ۔جواد کو اپنے با پ سے بڑا پیار تھا اُس نے اپنی توتلی زبان سے ابا کہنا سیکھا ہی تھا کہ اُسکا پیارا لاڈو ابا اپنے ننھے سے جواد اور معصوم بیٹی زیبا اور اپنی وفا کا پیکر بیوی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ایسے دیس روانہ ہوگیا تھاجہاں سے واپسی کبھی کسی کی آج تک نہ ہوئی ہے۔جہاں سے کبھی کسی کے خط کا جواب بھی نہیں آیا کرتا ۔ یوں رخشیندہ جو ابھی مشکل سے چوبیس سال کی ہوئی تھی بیوگی کے پُل صراط پر سے گزرنے کے لیے سوائے اُس کے رب کے اُسکا کوئی سہارا نہ تھا ۔ ماں باپ اُسکے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔اور اُسکو کسی کی خبر نہ تھی بس اتنا پتہ تھا کہ محلے کے ایک بزرگ نے اُسے بیٹی بنا کر پالا اور اُسکا بیاہ کردیا اور بس اُسکے بابا نے بھی شاید اپنی سانسوں کو ننھی رخشیندہ کے لیے سنبھال رکھا تھا جیسے ہی اُسکا بیاہ ہوا وہ بزرگ بھی داغِ مفارقت دے کر اپنے خالقِ حقیقی کو جا ملا۔ رخشیندہ کی زندگی میں بہار اور خزاں جیسے ا لفاظ میں کوئی فرق نہ تھا۔اُسے اتنا پتہ تھا کہ رب کا کام روٹی دینا ہے اور بندے کا کام کھانا ہے اُس روزی روٹی کو جب تک اٰس رب نے سانسیں دے رکھیں ہیں۔کیونکہ اُس کو پتہ تھا کہ جس ڈوری کے ساتھ بندے کی سانسیں بندھی ہوئی ہیں وہ ڈوری ایک ایسے ہاتھ میں ہے جو کہ پوری انسانیت اور سارے جگ کا مالک ہے اور وہ کچا ہاتھ نہیں بلکہ بہت پکا اور مظبوط ہے اس لیے رخشیندہ نے مایوس ہونا تو کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔ اِسی لیے تو جب اُس کے شوہر کی وفات ہوئی تو وہ اپنے رب کے اس فیصلے پر صابر و شاکر ہوکر ایک نئی راہ پر چل پڑی اس راہ میں اب اُس کے ساتھ اُسکا ننھا جواد اور معصوم زیبا بھی تھی یہ سفر بھی تو رب نے اُسکے لیے چنا تھا تو رب خراب راستے اپنے بندے کے لیے کیسے چُن سکتا ہے وہ تو اپنی مخلوق سے محبت کا سلوک کرتا ہے۔ رخشیندہ اپنے طور پر دن رات محنت کرکے اپنے بیٹے اور بیٹی کو پالتی رہی۔ننھا جواد جب جب سکول جاتا تو ماں اُس کو ڈھیروں دُعائیں دیتی ۔جواد کو دھن تھی کہ وہ بڑا انسان بنے گا۔ ما ں اُسکو سمجھاتی کہ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو کہ دوسرں کا خیال ر کھے اُن کے دکھ درد میں شریک ہو۔ماں ہمیشہ جواد کو نصعیت کرتی کہ بیٹا کبھی محنت سے جی نہیںُ چرانا ،رب پاک سے ناامید کبھی نہیں ہونا۔ننھے جواد کے اندر یہ سوچ اُس کی ماں نے جاگزیں کردی تھی کہ رب ہی کارساز ہے اور اُس سے ناامید ہونا گناہ ہے اور اسی سوچ میں جواد پروان چڑھا۔ جواد کی سوچوں میں یہ راسخ ہوچکا تھاکہ جو کچھ رب پاک نے کرنا ہے وہی ہونا ہے انسان کا کام صرف نیک نیتی سے محنت کرنا ہے جواد میٹرک میں جب سکول میں اول آیا تو اُسکی ماں کے خوشی سے آنسو نکل اُئے۔ ماں نے گھر میں رب کے پیارے رسولﷺ کا میلاد منایااور محلے کی عورتوں نے میلاد میں بھرپور شرکت کی۔ جواد کی کامیابی کے پیچھے درحقیت وہ جذبہ کارفرما تھا کہ ہمیشہ سچ بولنا ہے اور محنت کرنی ہے۔ رخشیندہ کی تربیت نے جواد کو ایک مثالی طالبعلم بنا دیا تھا۔جواد ایف ایس سی کرکے ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ ماں کے پاس وسائل بہت کم تھے۔لیکن وہ بھی دُھن کی پکی تھی اور اُسے اپنے رب کی رحمت پر اتنا یقین تھا جتنا کہ اُس کو اس بات پر یقین تھا کہ وہ انسان ہے اور مسلمان ہے۔ رب پاک کی رحمتوں کے سائے تلے جواد پڑھتا چلا گیا۔ جواد کی ماں کی محنت تو تھی ہی لیکن جواد بھی کسی طرح سے بھی محنت سے جی چُرانے والا نہیں تھا۔رخشیندہ نے بیشمار تکلیفوں کے باوجود جس طرح سے اپنے لال کی تربیت کی تھی اُس کا کوئی ثانی نہ تھا۔اس لیے جواد اپنی ہر کلا س کے اُستاد کی آنکھ کا تارا بن جاتا۔جواد کی پڑھائی سے لگن اور زندگی کے معاملات میں ایک پختہ سوچ اور رائے نے اُس کو اپنے ساتھی لڑکوں سے ممتاز کر رکھا تھا۔اُسکی کامیابی کے حصول کے مقصد کے راہ میں حائل رکاوٹیں کبھی بھی اُس کے حو صلوں کو پست نہ کرسکیں۔ہر ہر مشکل گھڑی اُس کو کامیابی کے نزدیک اور مایوسیوں سے دور کرتی جا رہی تھی۔ ماں کو اپنے لاڈلے کی فکر تو رہتی لیکن اس کی ممتا نے جواد کو اُن راستوں کا راہی بنا دیا تھا ۔ جہاں دکھ اور سکھ غمی اور خوشی سب پر بندہ اپنے رب کی رضا پر شاکر رہتا ہے۔ جواد کی زندگی ایسے عنوان سے عبارت تھی جہاں بچے بچپن سے سیدھا بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں۔زندگی اُن کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اُستاد بن جاتی ہے تو بھلا پھر کبھی کو ئی اُستاد سے گلا شکوہ بھی کرتا ہے۔ وہ عا م لڑکوں کی طرح نہ کھیلا کودا نہ کبھی دوستیاں پالیں اور نہ من پسند کی کبھی شاپنگ کی۔ وقت کے سمندر نے جواد کو ایک ایسا گوہرِ نایاب بنادیا تھا جو کہ کسی بھی لمحے مایوسیوں کے قریب نہ پھٹکتا تھا۔ اُس کے سا منے تو ماں اور رب کی رضا ہی مقدم تھی کیوں ایسا نہ ہوتا جواد تو تھا ہی سراپا عجزِوانکسار۔ ماں خوش تھی باپ کی شفقت سے محروم بچہ اپنے رب کے سہارے زندگی کی منازل طے کر رہا تھا۔ رشتے دار تو کوئی تھا ہی نہیں محلے دار جو تھے وہ جواد اور اُسکی ماں کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ جواد کبھی کبھار اگر حالات کی تنگی سے اُکتا جاتا تو وہ رات کو اپنی چھت پر چلا جاتا اور اور آسمان کے ستاور ں کو دیکھ کر آنسو بہا کر اپنا من ہلکا کر لیتا ۔ یوں دن بیتتے چلے گےٗ۔ زندگی کا سفر ہر دم رواں رہتا ہے یہ تو انسان کے احساسات ہیں جو اس کو کبھی خوشی کبھی غم دیتے ہیں۔ورنہ زندگی تو روز اول سے ہی زندگی ہے وہ تو رکتی نہیں اُسے تو بس چلتے ر ہنا ہوتا ہے۔ انسان کو جب خوشیاں میسر آتی ہیں تو اُسکو وہ اپنا حق سمجھ لیتا ہے لیکن جبُ دکھ ملتے ہیں تو تب وہ خیال کرتا ہے کہ اُس کے ساتھ تو بڑا ظلم ہوگیاہے ۔وہ چیختا اور چلاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو رب کی رضا پر قا نع ہوتے ہیں وہ اللہ کے شیر بن جاتے ہیں۔ اُن کو پھر رُباعی نہیں آتی وہ اپنی تقدیر کو خود سنوارتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر کسی دوسرے کو موردِ الزام نہیں ٹھراتے۔ جواد کو تو بس اگے بڑھنا تھا۔ وہ ایف ایس سی کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد میڈیکل کالج چلا گیا۔ میڈیکل کالج میں اُس کو سکالرشپ ملا جسکی وجہ سے اُسکی ماں سے کافی بوجھ کم ہو گیا۔ یوں ایک دن جواد ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر ڈاکٹر بن گیا۔ وہ دن ماں کے لیے شادیِ مرگ کی کیفیت کا دن تھا۔اُسے زندگی کا حاصل مل گیا تھا۔ زیبا بھی اپنے لاڈلے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بن چکی تھی۔
زیبا زندگی کو اپنی ماں کی آنکھ سے دیکھتی اور ماں کی سوچوں سے سوچتی۔ زیبا کو ہر وقت فکر اپنی ماں اور بھائی کی رہتی۔وہ اس جذبے کی قائل تھی کہ بیٹیاں ،بہنیں تو اپنی ماں اور بھائیوں پر قربان ہونے کے لیے ہوتی ہیں۔ رخشیندہ کی تربیت نے زیبا کو پابند صوم وصلاۃ بنا دیا تھا۔ اُسکا بھائی بھی اُس پر ہر وقت واری ہوتا تھا۔ زیبا سوچتی کہ ماں نے کتنے دکھ اور تکلیفیں سہی ہیں کاش ایسا نہ ہوتا اُسکے ابا زندہ ہوتے اور وہ اُسکے ناز اُٹھاتے لیکن قدرت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے۔ اُسے یہ ادراک ہو چکا تھا کہ فطرت کی ہر شے مجبور ہے۔ستم کے سلسلوں نے دراز ہی رہنا ہے لیکن رب کی رحمت سے مایوسی بھی تو کفر ہے ان خیالات کو جھٹک کر وہ خیالوں میں پریوں کے دیس پہنچ جاتی۔کسی کا تو پتہ نہیں اُسے اتنا اندازہ ضرور تھا کہ اُس نے ہر گھڑی اپنے خالق کی اطاعت میں گزارنی ہے۔ پریوں کے دیس کی سیر اُس کے خیالوں کو اتنا پاکیزہ بنا د یتی کہ وہ خود کو بھی ایک پری ہی سمجھنے لگتی۔ ماں زیبا کا دل بہلاتی اور زمانے کے ساتھ کیسے سلوک کرنا ہے اور دُنیا کی کونسی بات کو پسِ پشت ڈال دینا ہے اور کس بات پر عمل کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے۔ اس لیے زیبا اپنی سوچ میں اتنا گم ہوجاتی۔ کہ وہ خود کو بھی فراموش کر دیتی پھر ماں اُسکو تسلی دیتی کہ دکھ اور سکھ تو زمانے کا حصہ ہیں ۔ ؔ ’ماں کو تو یقین ہو چلا تھا کہ رب پاک نے اُسکی قسمت کتنی اچھی بنائی تھی۔ جواد کو ایک مقامی ہسپتال میں جاب مل گئی تھی ۔ زیبا بھی بھائی کے ساتھ ہی اُسی ہسپتال میں ملازمت کرنے لگ گئی۔ اسی دوران جواد سپیشلائزیشن کرنے امریکہ چلا گیا۔ ماں نے اُسکے جانے سے پہلے جواد کی منگنی کردی اور زیبا کی شادی بھی ایک ڈاکٹر سے ہوگی۔ وہ اپنے گھر ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگ گئی۔ جواد منزلیں طے کرتا ہوا امریکہ میں کامیابی حاصل کرکے جب لوٹا تو ماں کی زندگی میں بہارِجاوداں آگئی۔ جواد شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں کام کرنے لگا۔ دنوں میں اُسکی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ رخشیندہ اب بیمار رہنے لگی تھی اُس نے جواد کو شادی کا کہا ۔منگنی پہلے ہی طے تھی۔ یوں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ زیبا بھی ماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے ماں کے گھر آگئی وہ ایک ننھی سے کلی کائنات کی ماں تھی۔ شادی کی شاپنگ اور دیگر تیاریوں میں وقت تیزی سے گزرتا گیا اور پھر وہ دن آپہنچا جب جواد گلے میں پھولوں کی مالا سجائے اپنی ماں کی خوشیوں میں رنگ بھرنے کے لیے بارات کے ساتھ دلہن کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ بارات گاڑیوں کے قا فلے میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی کہ اچانک دھماکے کی آ واز سنائی دی ا ور اگلے دن کے اخبارات میں یہ خبر نمایاں تھی کہ کل شہر میں ہونے والے خود کش دھماکے کی زد میں ایک بارات بھی آگئی اور یوں دلہا اپنی ماں بہن اور دیگر عزیزواقارب کے ساتھ اُس بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ کا بیان بھی ساتھ چھپا تھا کہ مجر موں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ روشن راہوں کی مسافر رخشیندہ اپنی بیٹی،داماد، زیبا کی بیٹی اور جواد کے ساتھ ناکردہ جرم کی سزا میں ہلاک ہوکر اپنے پیارئے رب کے حضور پیش ہو گئی۔ رخشیندہ کی روح ازل سے ابد تک کی طرح مطمن ٹھری لیکن جواد ، زیبا وغیرہ کی روحیں بے چینی رہتی اور حیران تھیں کہ کس جرم کی سزا میں وہ اپنی طبعی موت سے پہلے ہی موت کے آنگن میں اُتر آ ئیں۔ قدرت کے اپنے اصول اور ضابطے ہوا کرتے ہیں۔لاکھ کوشش کے باوجودجس کی جتنی زندگی تھی اُس نے اتنی ساعتیں گزار لیں لیکن اُن کی روحوں کی بے قراری ایسی تھی کہ اُن کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ دل دماغ سوچیں گواہی دینے سے قاصر تھیں کہ ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں اور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ انسانی حقو ق کی عا لمگیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے چئیرمین ہیں۔


غازی علم دین شھید ؒ کے لا ہور ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کاجائزہANALYSIS OF THE DECISION OF GHAZI ILIM DIN SHEED R.A BY THE LAHORE HIGH COURT...... ANALYSIS BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT

     غازی علم دین شھید ؒ کے لا ہور ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کاجائزہ


میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
ashrafasmi92@gmail.com

یہ غازی یہ تیرے پراسرا بندے         
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم اُن کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
 سمٹ کر پہا رڑ اُ ن کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل ک
و عجب شے ہے یہ لذتِ آشنائی
    شہادت ہے مطلوب مْقصود ومومن
   نہ ماِل    غنیمت نہ کشو ر     کشائی
نبی پاک ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے والے عظیم مجاہد جناب غازی علم دین شھید کی یاد اس طرح زخموں پر مرہم رکھتی ہے جیسے صحرا میں نخلستان۔ تاریخ عالم اُن مبارک ساعتوں کو کیسے فراموش کر سکتی ہے جو مبارک لمحات غازی علم دین نے گستاخِ رسول ﷺ کو جہنم رسید کرنے کے بعد اور تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے گزارے۔ محبت کے انداز اور تقاضے عقل و ادراک کے محتاج نہیں ہوتے ۔ عشق کبھی بھی کسی دنیاوی تقاضے کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ عشق رسول ﷺ کی ایمان افروز روشنی مومن کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ محبت رسول ﷺ کی لذت سے مومن کی آشنائی ہر کس وناکس سے اُسے ماورا کرتی ہے۔غازی علم دین شھید کو کہنے کو تو پھانسی دے دی گی۔ لیکن وہ پھانسی حیات جاودانی کا ایسا مشروب غازی صاحبؒ کو پلا گئی کہ پھر اُسکے بعد غازی صاحب ایسی روشن راہوں کے مسافر بن گئے کہ جناب محمد رسول اللہﷺ کے پروانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے امید اور آگہی کا روشن مینار بن گئے۔ جس دور میں جناب غازی علم دین شھیدؒ کو یہ مقام میسر آیا اُس وقت انگریز کا راج اور ہندووں کی مکاری عروج پر تھی مسلمان اقلیت میں ہونے کی بناء پر پسے ہوئے تھے۔ ان حالات میں علم دینؒ کو بقول اقبالؒ دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب شے ہے یہ لذتِ آشنائی۔ لذت آشنائی پھر چونکہ چنانچہ کے چکروں میں نہیں آتی وہ تو اطیواللہ واطیوالرسول کی اسیر ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو اُس دور میں رہ رہے تھے اُن کے لیے واقعی یہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اُس دور کے دانشوروں علماء اساتذہ ہر شعبہ زندگی کے افراد نے جناب غازی علم دین شھید ؒ کی قسمت پر رشک کیا ۔میانوالی جیل میں غازی صاحبؒ کو پھانسی دے کر نبیﷺ کے عاشقوں کو ایک نئی جلو نے اپنے حصار میں لے لیا اور عشق ومستی کا قافلہ نہایت کھٹن اور مسائل کے ہوتے ہوئے بھی غازی صاحبؒ کی شہادت پر رب پاک کے حضور سر بسجود ہوا۔ عشق تو نام ہی آقا کریمﷺ کی ذات میں خود کو گم کرنے کا ہے اور یوں نبی پاکﷺ کی عزت وناموس کی خاطر خود کو امر کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ لاہور خوش قسمت ہے کہ داتا علیٰ ہجویری کی نگری میں ایک عظیم عاشق ِ رسولﷺجسے غازی علم دین شھید کہتے ہیں نبی پاک ﷺ کی شان پرقربان ہوا اور امر ہوگیا
آج جب اس عظیم شخص کو اپنے پیارے نبی پاک ﷺ پر قربان ہوئے اسی سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن غازی علم دین شھید ؒ کا نام اِس طرح لیا جاتا ہے جس طرح کسی بھی زندہ شخص کا نام لینا چاہیے ہوتا ہے جبکہ وہ ہستی بھی عاشقِ رسولﷺ ہو۔ ایسا کیوں نہ ہو رب پاک واشگاف الفاظ میں اپنی کتاب قران پاک میں فرماتا ہے کہ جو اللہ کہ راہ میں مارا جاتا ہے وہ زندہ ہے تمھیں اِس باات کا شعور نہیں، حتیٰ کہ شھید کو اللہ پاک کے ہاں سے رزق بھی ملتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ شھید چونکہ زندہ ہے اِس لیے اُس کو مردہ کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے تاریخ عالم نے بہت سے نیک بندوں کو اپنے رب پاک کی راہ میں جان دیتے دیکھا ہے حغرت عمار ابن یاسر کے والدین سے محمد مصطفےﷺ کے غلاموں کی شہادتوں کا شروع ہونے والا سفر جاری و ساری ہے اور غازی علم دین شھید اسلام کے وہ عظیم پیروکار ہیں جن پر اُمتِ مسلمہ کو فخر ہے۔ عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا عشق انسان کو انسانیت کے اعلیٰ وارفع مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ حغرت بلالؓ حغرت اویس قرنیؓ کے راستے پر چلتے ہو ئے غازی علم دین شھید نے وہ مقام حاصل کیا کہ جس کے متعلق شاعرِ مشرق حکیم الامُت حضر ت علامہ اقبال ؒ پکار اُ ٹھے کہ ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گے۔ یقیناً حضرت اقبال جیسی شخصیت کی جانب سے غازی علم دین شھید کو بہت زبردست خراجِ تحسین ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جب اِس کیس کی اپیل کی سماعت ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا اس کے مطابق، علم دین بنام ایمپرر اے آ ٰئی آر 1930 لاہور 157کریمنل اپیل نمبر 562 آف 129۔قاتل 19 یا20 سال کا ہے ۔ اور اپنے مذہب کے بانی کے خلا ف کہے جانے والے اور کیے جانے والے فعل پر ناراض ہے ۔ علم دین جو کہ ایک تر کھان ہے اور سریاں والا بازار لاہور شہر کا رہائشی ہے جس نے 6اپریل 1929 کو راج پال کو قتل کیا اور اِسکو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت دی گئی۔ علم دین کی طرف سے اپیل کی گی اور سیکشن 374 سی آر پی سی کے تحت عدالت کے سامنے ہے۔ مرنے ولا ایک ہندو تھا جو کہ کتب فروش تھا اور ہسپتال روڈ پر اُسکی دکان تھی۔ کچھ عرصہ پہلے اُس نے مسلما نو ں کے مذہب کے بانی کے خلاف ایک پمفلٹ چھاپ کر مسلمانوں کو دُکھ پہنچایا تھا۔
ؒ راج پال کو دفعہ ایک سو تریپن ائے جو کہ پبلی کیشن کے متعلق ہے کہ مطابق جنوری 1927 کو قصور وار ٹھرایا گیا تاہم مئی 1927 میں ہائی کورٹ نے اُس کی سزا کو معطل کردیا۔ چھ اپریل 1929 کو راج پال پر دن دو بجے قاتلانہ حملہ کیا گیا راج پال کو آٹھ زخم آئے زخموں کی نوعیت سے لگتا ہے کہ راج پال نے خود کو بچانے کی کوشش کی ، راج پال کے ہاتھ پر چار زخم لگے تھے۔ اُس کے سر کے بلکل اوپر ایک زخم لگا جس سے اُسکے سر کی ہڈی کریک ہوئی ۔ اُس کی چھاتی پر بھی ایک گہرا زخم آیا۔PW-8 جو کہ آتما رام ہے اُس سے اپیل کندہ علم دین نے چھ اپریل کی صبح ایک چاقو خریدا علم دین راج پال کی دکان پر دن دو بجے پہنچاراج پال برآمدہ سے باہر گدی پر بیٹھا خطوط لکھ رہا تھا کہ اس پر علم دین نے حملہ کر دیا اس واقعہ کے چشم دید گواہ ناتھ PW-2ور بھگت رام (pw-3)جو کہ راج پال کے ملازم تھے۔ان میں سے گواہ (pw-2)بر آمدے کے اندر بیٹھا تھا اور (pw-3)گواہ برآمدے کے باہر شیلف میں کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا۔انھوں نے الاارم بجایا کتابیں علم دین پر پھینکیں۔کر دناتھ اور بھگت رام جن کے ساتھ باہر سے نانک چاند(pw-1) اور پارمانانند مل گئے اور انھوں علم دین کا پیچھا کیا
ودیا راتھن جوکہ علم دین کو اپنے دفترکے دروازے سے دیکھ رہا تھا نے دوسرے لوگوں کی مددسے علم دین شہید کو پکڑ لیا۔علم دین باربار وانچی آواز میں شور مچانے لگا کہ وہ نہ تو چور ہے نہ ہی ڈاکو بلکہ اس نے تو نبی پاک ﷺ کا بدلہ لیا ہے۔علم دین کو مقتول کی دوکان پر لے جایا گیا اور پولیس کو بلایا گیا اور پولیس نے علم دین کو پکڑ لیا اور تفتیش کے دوران کردناتھ نے جو بیان اس کے مطابق جب علم دین کو پکڑا گیا۔اُس نے نہ تو کوئی مزاحمت اور نہ ہی اُس نے اپنے کسی ساتھی کا نام بتایا علم دین کے بیان پر آتمارام کی دکان کو تلاش کیا گیااور 9 اپریل کو آتما رام نے علم دین کو شناخت پریڈ میں شناخت کرلیا یہ شناخت پریڈ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی ہوئی اور علم دین کو اُسی شخص کے طور پر پہچان لیا جس کو اُس نے چاقو فروخت کیا تھا جوکہ راچبال کی دکان سے ملا اس میں کوئی شک نہیں کہ آتمارام نے اس طرح کے چاقو اور لوگوں کو بھی فروخت کیے ہوں گئے۔ اسی طرح کے دو چاقو اُس نے بطور ثبوت عدالت پیش کیے آتمارام نے بتایا کہ اُس نے یہ چاقو ایک میڈیکل سٹور سے نیلامی میں خریدے تھے مسٹر جناح نے پراسیکیوشن کی کہانی پر مختلف groundsپر attackکیا انھوں نے اسی بات پر زور دیا کردی ناتھ قابل اعتما د گواہ نہیں ہے کیونکہ1) (وہ مقتول کا ملازم تھاپس وہ اس لیے intrested تھا2) (اُس نے ایف آئی آر میں نہیں بتایاکہ (a) کہ بھگت رام اُس کے ساتھ تھا ) (b اور علم دین نے یہ کہا کہ انھوں پیغمبرا سلامﷺ کابدلہ لیا ۔کیونکہ بھگت رام بھی راج پال کا ملازم تھا اس لیے وہintrestedکی صف میں ہے بیانات کی صحت پر اعتراض لگائے گئے جوکہ پولیس کو دئیے گئے تھے جس کے سبب آتمارام کاپتہ چلا اور آتمارام کی وجہ سے علم دین کی شناخت ہوئی اور آتمارام نے چاقوکی فروخت کی بابت بیان دیامسٹر جناحؒ نے اُس کو جھوٹا قرار دیا ۔جج صاحب نے شہادتوں کو ڈسکس کرنے کے بعدیہ قرار دیا کہ جرم ثابت ہو گیا ہے علم دین کی عمر کم ہے وہ19 یا20 سال کاہے اور اُس کا یہ ایکٹ اپنے مذہب کے بانی کی وجہ سے ہے جیساکہ عامر بنام امپیرر کیس میں تھا اس بناء پر کہ کیونکہ قاتل کی عُمرکم ہے اور وہ 19یا20سال کا ہے یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ اُسے قانون کے مطابق سزانہ دی جائے ۔ مسٹر جناحؒ کی یہ Reason کے قاتل کی عُمر تھوڑی ہے اور اُس کو کپیٹل سزانہ دی جائے ۔ اور اُسے جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنے کی سزانہ دی جائے ۔ میں اپیل کو ڈ سمس کرتا ہوں اور سزائے موت کی توثیق کرتا ہوں ۔یہ فیصلہ ہے جو لاہور ہائی کورٹ نے لکھا اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غازی علم دین شہید صاحب نے یہ بات کہی کہ اُنھوں نے راج پال کو قتل نہیں کیا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا غازی صاحب نے راج پال کو کسی شے کے لالچ میں قتل کیا۔ اُنھوں نے تو یہاں تک کہہ د یا کہ جب لوگوں نے اُن کو راج پال کو جہنم رسید کرنے پر پکڑا تو انھوں نے کہا کہ نہ تو میں چور ہو اور نہ ہی ڈاکو میں نے تو یہ سب اپنے نبی پاک ﷺ کی عزت کی خاطر کیاہے ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر غازی صاحب مصلحت کا شکار ہو جاتے تو جرم سے انکار کردئے اور اپنی جان بخشی کروالیتے۔یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی الہامی مذہب کے پیروکاروں کو کیا صرف آزادی رائے کے اظہار کے نام پر دکھ پہنچایا جاسکتا ہے۔ دین اسلام کے مطابق تمام انبیاء اکرام کی عزت و ناموس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے خلاف آئے روز مغربی ممالک کے نام نہاد آزادی رائے کے پرستاوروں کی جانب سے گستاخی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں 295C کا قانون اِس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی بھی شخص پر انبیاء اکرام کی گستاخی کا الزام لگتا ہے تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور انصاف کے تما م تر تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ نہ کہ عوام خود انصاف کریں انصاف کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ آج تک توہین رسالت کے قانون کے تحت کسی بھی غیر مسلم کوپاکستان میں سزا نہیں دی گئی۔ آخری الہامی کتاب قران مجید نے صاحب قران جناب نبی پاک ﷺ کی عزت وحرمت کے متعلق واضع احکامات دےئے ہیں۔اقبالؒ کے مطابق مسلمان کے اندر روح محمدﷺ ہے اور جب روح محمد مومن کے اندر ہے تو پھر کوئی بھی مومن کسی بد بخت کی جانب سے نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں کیسے گستاخی برداشت کرسکتا ہے۔ اگر غازی علم دین شھید ؒ کے دور میں بھی توہین رسالت کا قانون ہوتا تو پھر کسی راج پال کو ایسا کرنے کی جُرات نہ ہوتی۔ جناب غازی علم دین شھید نے اپنی زندگی قربان کرکے اپنے آقاﷺ کی شفاعت حاصل کرلی۔ حضرت قائد اعظمؒ جیسی عظیم ہستی جناب غازی صاحبؒ کی وکالت کرنے کے لیے لاہور پہنچی۔ لیکن شھادت کا جام پینے کے لیے بیقرار غازی صاحبؒ اپنے آقا کریم ﷺ کے نام پر فدا ہوگے۔ اِس لیے جو نام نہاد لبرل فاشسٹ یہ شور مچاتے ہیں کہ 295C قانون کو ختم کیا جائے تو اِن کو یہ نظر نہیں آتا کہ اِسی قانون کی وجہ سے تو عدالت کو انصاف کرنے کا موقع ملتا ہے ورنہ ہر مسلمان غازی علم دین شھید ہی تو ہے۔بقول جناب مولانا رومیؒ ، ملتِ عشق از ہمہ ملت جُدا است ، عاشقاں را مذہب و ملتِ خدا ست، یعنی عشق والوں کا مسلک سب سے جُدا ہوتا ہے، عاشقوں کا مسلک اور مذہب صرف خُدا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ گزشتہ پچس سالوں سے قانونی ،سماجی عمرانی، نفسیاتی ، معاشی مو ضوعات پر لکھتے ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔ معاشیات اور قانون کے اُستاد ہیں۔ معروف سماجی انصاف کی تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں اور برصضیرپاک و ہند کی عظیم درگاہ حضرت میاں محمداسما عیلؒ المعروف حضرت میاں وڈا صاحب ؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔