روحانی اقدار سے محرومی پاکستان کے لیے المیہ
میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
زمین اور آسمان کبھی نہیں مل سکتے ۔ نفی اور جمع میں ہمیشہ سے تضاد رہا
ہے۔ انسان اپنی جیلت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بعض اوقات اس طرح کے
قدم اُ ٹھانے لگ جاتا ہے۔ جس سے اْس کی شخصیت کے سارے دم خم سامنے
آجاتے ہیں ۔ بر صغیر میں شاید علم دوستی کا رواج تو بہت ہے لیکن جدید
تعلیم کے تقاضوں کو اْس طرح اہمیت نہیں دی جا سکی جس طرح اْس کی اہمیت
تھی ۔ انسانی ترقی میں وسائل کی ترقی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایسے
معاشرے میں جہاں دنیا کی تمام نعمتیں یعنی چار موسم ہیں ۔ پہاڑ ہیں،
معدنیات ہیں، دنیا کا بہترین نظام ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے بھی پوری دنیا
میں کشکول لے کر گھومنے کا مطلب یہ ہے کہ خودی کو پس پشت ڈال کر ہر
طرح کی عیاشی ہمارے حکمران کر رہے ہیں۔ وہ بھی خیرات کی رقم سے یا پھر
عوام کا لہو چوس کر ۔ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا ، ایوب خان ،
ذولفقار علی بھٹو ، یحیےٰ خان ، مشرف ، ذرداری ، کس کس کا رونا
روئیں۔ کسی نے نام نہاد جمہوریت کے نام پر ا ور کسی نے مذہب کے نام پر
عوام کے خون کو چوسا ہے ۔ اب ہم یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکتے
ہیں کہ بد قسمی سے ہمارے ہاں قیادت کی شدید کمی ہے۔ جو لوگ قوم کی
قیادت کے اہل ہیں اْن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ مروجہ سیاسی
نظام میں اسمبلی کے ممبر بن سکیں ۔ موجود تعفن شدہ معاشرے میں انسانی
حقوق اور سماجی انقلاب کی دعویدار مذہبی وسیاسی قیادتیں خود ہی سماج
کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ اْن قوتوں نے ہمارے معاشرے
کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ زندگی اتنی اجیرن کہ ریاست اپنے شہریوں سے اِس
طرح نبرد آزما ہے۔ جیسے بھیڑ بکریوں کو ہانکا جاتا ہے۔ کوئی بھی مذہبی
جماعت اْس طرح ڈلیور نہیں کرسکی جس طرح کے اسلامی نظام کا دعویٰ کرتی
ہیں ۔ سیاسی قیادتیں مصلحتوں کا شکار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک غنڈہ
قاتل ، قبضہ گروپ کا سرغنہ اسمبلی میں بیٹھا ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے
کے لیے جس کی لاٹھی اْسکی بھینس کا قانون ہے۔ کم وسائل رکھنے والا
معاشرے میںُ شودر کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی
خاطر جان قربان کرنے کا دعویٰٗ کرنے والے اْن کی سیرت پاک کو اپنانے کے
معاملے میں صفر ثابت ہورہے ہیں ۔ جو جتنا مرضی تبلیغ دین میں مشغول
ہو جائے ہیں ۔ عمرہ و حج کر لے معاشرے میں اْن کی طرف سے کوئی بھی
پسندیدہ عمل نظر تو پھر یہ کیسا ایمان ہے کہ جو جھوٹ چوری ہیرا
پھیری ، ظلم ڈاکے کم ناپ تول سے نہیں روکتا مطلب صاف واضع ہے کہ
معاشرے میں نفوذ پزیری کے حامل افراد اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔
اگر ہمیں اِس طرح کے مسائل کی جانب دھکیل دیا ہے تو پھر یہ بھی ہماری
ناکامی و بے بسی ہے کہ ہم اْن کی ساری سازشوں کا مقابلہ نہیں کر پا
سکے اْلٹا اغیار کی ساشوں کا مہرہ ثابت ہو رہے ہیں ۔ دین مبین ، اسلام
کی بنیاد کو چھوڑ کر دنیاوی مادہ پرستی کے حرص و لالچ میں ڈوب کر
ہم عشق رسول ﷺ کا دعویٰ تو کر رہے ہیں لیکن عاشق رسول ﷺ ہونے کا عملی
نمونہ کیوں نہیں بن پا رہے۔ اب اگر کوئی بھی مسیحا آئے گا تو وہ نرم
سے نرم انداز میں خونی انقلاب کی سوچ کو پروان چڑہائے گا ۔ لیکن
سوچنے کی بات یہ ہے کہ قافلے میں ایک بھی ْ حسین ؓ کی طرح نہیں جو رسم
شبیری ادا کرے اور قوم کو سماجی ، ثقافتی ، معاشی ، عمرانی ،
نفسیاتی ، غلامی سے نکال کر روحانی مزاج میں ڈھالے اور مسلم امہ کے
قلعہ پاکستان کو صحیح معنوں میں پاک۔۔۔ ۔ست ا ن بنا ئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ اور انسانی حقوق کی عالم گیر تنظیم مصطفائی جسٹس لائرز فورم انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ اور انسانی حقوق کی عالم گیر تنظیم مصطفائی جسٹس لائرز فورم انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔
No comments:
Post a Comment