میاں محمد اشرف عاصمی
معاشیات کے قوانین خاص طور پر ایسے قوانین جن میں صارف کے رویے کا ذکر
ہوتا ہے اُن قوانین میں ایک خاص ٹرم صارف کے رویے کے حوالے سے بولی جاتی ہے
وہ ہے Rational Behaviour ریشنل بھیھو ییر۔ ہر ہو صارف جو اپنے محدود
وسائل سے اپنی خواہشات کی تکمیل کے حوالے سے ایسا طرزِ عمل اپناتا ہے جس سے
اُس کی تسکین کا لیول میکسیمیم لیول پر
پہنچ جاتا ہے تو ایسے صارف کے اس رویے کو ریشنل بی ہے وییر کہا جاتا ہے یہ
ایک فطرتی امر ہے کہ انسان اپنی احتیاجات کی تکمیل کی خاطر اپنی آمدنی اور
خواہشات کے حوالے سے مینٹل جمناسٹک کا شکا ر رہتا ہے ۔قانونِ فطرت ہے کہ
اگر مکئی کا بیج بویا جائے تو فصل بھی مکئی کی ہی اُگتی ہے اس لیے جب قوموں
کے جب بیلنس شیٹ تیا ہوتی ہے تو پھر Liabilities اور gains دونوں کا
موازنہ ہوتا ہے ۔دنیا تو صرف پراگریس دیکھتی ہے وہ حالات و واقعات کو پیشِ
نظر نہیں رکھتی بلکہ اُس کی نظر تو صرف آوٹ پُٹ پر ہوتی ہے۔ پاکستان کی
معیشت کو تقریباً تین ہزار افراد نے شکنجے میں کس رکھا ہے وہ ہیں سرمایہ
دار ، جاگیردار، بیوروکریسی ۔ ان لوگوں نے ہی پاکستانی عوام کا جینا دُوبھر
کر رکھا ہے۔ اگر ہم پاکستانی سماج کے اُن رویوں کا جائزہ لیں تو یہ بات
اظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی ڈاکہ زنی قتل وغارت کے پیچھے جو محرکات ہیں
اُس کا ذمہ دار وہ حکمران طبقہ ہے جو کہ بھیس بدل بدل کر عوام کا خون چوس
رہا ہے عوام ہے کہ ان گدِھوں کے ہاتھوں میں اتنی نڈھال ہو چکی ہے کہ انہیں
اب روشنی بھی اگر کہتی ہے کہ میں روشنی ہوں تو یہ پسی ہو ئی عوام روشنی کو
روشنی نہیں بلکہ اندھیرہ تصور کرتے ہیں۔ عوام پاکستانی حکمرانوں کو اپنا
دشمن نمبر ایک تصور کرتے ہیں کیوں نہ کریں اُن کا سکون چین روزی روٹی سب
کچھ چھن چکا ہے اور تو اور لوڈشیڈنگ نے نیند کو بھی حرام کررکھا ہے
فیکٹریوں میں تالہ بندی نے عوام کو زندہ درگور کر رکھا ہے، آج ہی ایک
امریکی اخبار نے پاکستانی حالا ت پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ کہا
گیا ہے کہ پاکستان کے سماجی معاشی حالات کی خرابی کی وجہ خود پاکستانی ہی
ہیں راقم کے خیال میں ان امریکی ناخداوں کو اچھی طرح یہ معلوم ہے کہ امریکہ
خود ہی تما م بگاڑ کا ذمہ دار ہے۔ تقریباً تین ہزار افراد کو قابو کرکے
پاکستانی قوم کی عزت ، حرمت میعشت سماجی ڈھانچے کا جس طرح ضنازہ نکالا جا
رہا ہے اُس تما م بگاڑ کا ذمہ دار امریکہ بہادر خود ہے جو اپنے زر خرید
غلاموں کے بل بوتے سات سمندر پار کرکے پاکستانی معاشرے کو ہر حوالے سے توڑ
پھوڑ رہا ہے۔ رہا سوال کہ پاکستانی حکومت، فوج کیا کررہی ہے تو اس کا جواب
اتنا ہی کافی ہے کہ ان سب کا ایک مذموم سازش کے تحت اس طرح امریکہ اور
اُسکے ایجنٹووں نے جکڑ رکھا ہے کہ پاکستانی قوم نہ تو سانس لے پارہی ہے اور
نہ اُسے موت آرہی ہے۔ان حالات میں آنے والے الیکشن میں قوم کو ذات برادری
مسلک کے خول سے نکل کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اور جو نام نہاد اشرافیہ
سات دہائیوں سے ملک کے گریب عوام کو نوچ رہی ہے اُن کو شکست دینا ہوگا۔ ہر
پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنا ووٹ لازمی کاسٹ کرئے۔ اور ایسے لوگوں کو
منتخب کرئے جو اقبال اور قائد کے مرمودات کو مشعل راہ بنا کر قوم کو
مایوسیوں سے نکالیں۔ اس لیے چور ڈاکو ، رسہ گیر ان سب سے جان چھڑانے کا یہ
اچھا موقع ہے ملک کے عوام کو بجلی، گیس، روزگار، چاہیے ان کو امن و سکون
چاہیے اور اان کو جان کی حفاظت چاہیے۔ دہشت گردی سے نجات کے لیے افغانستان
کے معاملات کے حوالے سے پاک فوج کی سٹریٹجی کے ساتھ کوئی لائحہ عمل وضع
کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے ایسی ہوشمند قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو باوقار
بنائے اس مقصد کے لیے روائتی سیاست دانوں کا ناطقہ بند کرنا ہوگا اور وطن
کے رکھوالوں کو اس ملک کا انتظام سنبھالنا ہوگا۔ قوموں کی زندگی میں بہت کم
اسے اداور آتے ہیں جب قوم کسی فیصلے کن مرحلے پر پہنچی ہوتی ہے۔ فرسودہ
نطام کو جڑ سے پھینکنے کا یہ وقت اللہ پاک کی طرف سے ایک عنائت ہے۔
No comments:
Post a Comment