Wednesday, 6 August 2014

فلسطینیوں کی پُکارامن کی خیرات....... میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


فلسطینیوں کی پُکارامن کی خیرات

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

امن کی بھیک مانگتی فلسطین کی نہتی عوام جن کے پاس اپنی حفاظت کے لیے سوائے کنکریوں کے کچھ بھی نہیں
راکٹ گولوں اور بمبوں کی برسات کے شعلے اِن کی زندگیوں کو خاکستر کر رہے ہیں اور دنیا کے چھ ارب لوگ
مذمتی قرارداد سے آگے نہیں بڑھ پارہے دنیا کی بات کیا کرنی ہے فلسطینیوں کے ہم مذہب مسلمان فلسطینیوں کی نسل عرب کے شیوخ بے حسی کے بُت بنے ہیں امن کی بھیک اِس دنیا سے مانگنے والی فلسطینی عوام اپنی موت پر صابر شاکر ہےماں بہن بیٹی بھائی باپ سب کو ہی تو صبح شام دفن کر نا ہوتا ہے فلسطینیوں کو جلدی رہتی ہے کہ اب مزید قبریں بھی کھودنی ہیں اِس لیے وہ بڑی سُرعت سے دفنانے کا کام کرتے ہیں اِس کا م میں اُنھیں طاق حاصل جو ہو گیا ہے۔ جو ظلم اور بربریت فلسطین پر ہورہا ہے اور جسکا تماشہ نام نہاد مہذب دنیا دیکھ رہی ہے اور آج کے دور کے طاقتور ترین الیکٹرانک میڈیا کہ دور میں یہ بات ثابت ہے کہ حق کا ساتھ نہیں دیا جارہا ہے میڈیا کی اپنی ہی ترجیحات ہیں۔ ہر ملک اپنی ہی خارجہ و داخلہ پالیسی کا پیروکار بنا ہوا ہے اور مسلم دنیا کی انتہا کے بے حسی کا تو کوئی حساب نہیں۔ ایک رب پاک سے ڈرنے والا مسلمان امریکہ کے آگے سرنگوں ہے۔اور امریکہ ہی اسرائیل کی حفاظت کا ضامن ہے۔ وہ اُس کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔ آفرین ہے برطانوی وزیر سعیدہ وارثی پر جو کہ پاکستانی نزاد برطانوی شہری ہے اُس نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے اور کھلم کھلا کہا ہے کہ برطانوی حکومت اسرائیل کی حمایت کررہی ہے جو کہ ظلم ہے۔امریکی آشیر آباد کے ساتھ قائم یہودی ریاست جس طرح فلسطینی مسلمانوں کو گاجروں مولیوں کی طرح کاٹ رہی ہے اُس سے یہ بات عیاں ہے کہ یہ اسرائیلی ریاست اللہ پاک کے ایک عذاب کے طور پر مسلمانو ں پر ستم ڈھارہی ہے ورنہ تعداد میں اتنا زیادہ ہونے کے باوجود مسلم اُمہ جس طرح پٹِ رہی ہے یہ سب کچھ اچھنبے کی بات معلوم ہوتی ہے۔حالیہ اسرائیلی دہشت گردی نے جو خون کا بازار گرم کر رکھا ہے اِس کی مثا ل موجودہ نام نہاد مہذب اور آزادی رائے کے حامل دور میں نہیں مل سکتی۔عراق ،مصر، لیبیا، شام کشمیر کو تہہ وبالا کیے جانے پر خاموش مسلم ممالک نے اسرائیلی گماشتوں کی بربریت پر بھی امریکہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ فلسطینیوں پر ڈھایا جانے والا ظلم کوئی نئی بات نہیں عرب ممالک کی خاموشی یا بُزدلی نے اسرائیل کو اِس حد تک شہہ دئے رکھی ہے کہ جب اُس کا جی چاہتا ہے بچوں بوڑھوں عورتوں کا لحاط کیے بغیر خون کی ندیا ں بہا دیتا ہے۔مسلم ممالک کا صرف ایک ہی کام ہے کہ میڈیا پر مذمتی بیان دئے دیتے ہیں۔ اور اس مذمتی بیاں کا کی کوئی اہمیت نہیں بن پاتی ۔ اہمیت تو تب بنے جب بیان دینے والا طاقتور ہو یا اتحاد و اتفاق کا حامل ہو۔رمضان المبارک کے مبارک ساعتوں میں جس طرح معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے یہ سب کچھ مسلمانوں کی نااتفاقی کے سبب ہے۔قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی تو دور کی بات ہے فلسطینی باشندوں کے خون کی ارزانی کا عالم یہ ہے کہ اسرائیل بغیر کسی روک ٹوک کے بمباری کرکے لہو کی ندیاں بہا رہا ہے ۔ پوری دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ کا کردار ہمیشہ کی طرح منافقانہ ہے۔امریکہ نہ تو مسلمانوں کا دوست ہے اور نہ ہی وہ کسی طور مسلمانوں کی کسی فورم پر حمایت کرتا ہے۔رب پاک کی رسی کومضبوطی سے نہ تھامے رکھنے کی وجہ سے مسلم قومیت اور مسلمانوں کے اتحاد وا اتفاق کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔پوری دنیا میں مسلمانوں کی رسوائی کی بری وجہ رب پاک پر یقین کی کمی اور ااپس میں نا اتفاقی۔ پوری دنیا کے تھینک ٹینکوں کا ہدف صرف مسلمانوں کی بربادی و تباہی ہے۔ عربوں کا معاشی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے کوشاں نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عرب حکمرانوں کو مسلمانوں کے دکھ تکلیف کا احساس نہیں ہے۔امریکہ دراصل اب ایران اور سعودی عرب کوآمنے سامنے لانے چاہتا ہے تاکہ مسلمانوں کی جو تھوڑی بہت ہمت ہے اُس کو بھی خاک میں ملایا جاسکے۔ٖغزہ میں اسرائیلی بمباری جس طرح چھوٹے چھوٹے بچوں پر ستم ڈھار ہی ہے۔ اگر بین الاقوامی حالات و واقعات کو فلسطینی معصوموں کی شہادت کے سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو راقم کے خیال میں اِس بدترین دہشت گردی پر ایران اور سعودی عرب کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہونا چاہے۔مسلمانوں میں منافرت کو ہوا دینے کے لیے امریکی سازشیں اِس وقت عروج پر ہیں۔ اِس لیے امریکی کردار اِس حوالے سے انتہائی بھیانک ہے۔ عراق میں مزارارت مساجد کی تباہی گرجا گھروں کی مسماری جو نیا نام نہاد جہادی گرو ہ اسلام کے نام پر کر رہا ہے وہ مکمل طور پر امریکہ کی جانب سے پلانٹیڈ ہے جیسے القاعدہ کا شوشا چھوڑا گیا تھا ۔اب نہ جانے دنیا کس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ اِس ظلم ستم کو کب تک یو ں ہی روا رکھا جائے۔
 
فلسطین کی نہتی عوام
جن کے پاس اپنی حفاظت کے لیے
سوائے کنکریوں کے کچھ بھی نہیں
راکٹ گولوں اور بمبوں کی برسات کے شعلے
اِن کی زندگیوں کو خاکستر کر رہے ہیں
اور دنیا کے چھ ارب لوگ
مذمتی قرارداد سے آگے نہیں بڑھ پارہے
دنیا کی بات کیا کرنی ہے
فلسطینوں کے ہم مذہب مسلمان
فلسطینوں کی نسل عرب کے شیوخ
بے حسی کے بُت بنے ہیں
امن کی بھیک اِس دنیا سے مانگنے والی فلسطینی عوام
اب اپنی موت ہر صابر شاکر ہے
مان بہن بیٹی بھائی باپ
سب کو ہی تو صبح شام دفن کر نا ہوتا ہے
فلسطینوں کو جلدی رہتی ہے کہ
اب مزید قبریں بھی کھودنی ہیں اِس لیے وہ بڑی سُرعت سے دفنانے کا کام کرتے ہیں
اِس کا م میں اُنھیں طاق حاصل جو ہو گیا ہے۔
            
اشرف عاصمی

No comments:

Post a Comment