Monday, 18 August 2014

شھیدِ جہاد کشمیر و رہنماء انجمن طلبہء اسلام جناب حمایت علی چوہدریؒ

  
 

             شھیدِ جہاد کشمیر و رہنماء انجمن طلبہء اسلام جناب حمایت علی چوہدریؒ

میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
حمایت علی چوہدری شھیدؒ یہ وہ نام ہے جس سے میرئے آشنائی کو تیس برس گزر گئے ہیں ہر لمحہ مجھے پاکستان اسلام، نبی پاکﷺ کی محبت کی خوشبو سے مہکتا ہوا ملا ہے۔پاکستان، اسلام اور نبی پاکﷺ کی محبت کا یہ فیضان میری روح کو شاد رکھے ہوئے ہے۔حمایت علی شھید نبی پاکﷺ کی محبت کی وہ کلی ہے جس سے عاشقانِ مصطفےﷺ تا قیامت خوشبو سے فیضیاب ہوتے رہیں گئے۔لوگ بدلتے جارہے ہیں شہروں میں وسعت نے ماحول کو کشادگی کی راہ پہ ڈال رکھا ہے۔ میڈیا کی دوڑ نے سوشل میڈیا کی افادیت کو اتنا اہم کردیا ہے کہ آنِ واحد میں اطلاعات کا سیلاب اُمڈتا چلاآتا ہے۔ لیکن سکون نہ دارد۔ امن و آشتی سے بیگانگی اور مہر وفا سے روٹھے ہوئے سماج میں حق کی بات کرنا اور اِس رستے میں جان قربان کرنا عجب دیکھائی دیتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو نہ جانے کس کس حیلے بہانے سے مشکل بنایا جارہا ہے۔1986 میں ناظم انجمن طلبہء اسلام سرگودہا جناب شیخ رفیق انجم مرحومؒ اور ہمارا مشترکہ دوست طاہر ظفر جو کہ کئی دہائیوں سے ابو ظبہی میں مقیم ہے وہ ،ہم تینوں زرعی یونیورسٹی کے ہاسٹل قذافی ہال کے کمرہ نمبر1 ڈی میں موجود تھے۔یہ کمرہ حمایت علی چوہدری شھیدؒ کی وجہ سے مشہور تھا۔ ہم تنطیمی حوالے سیملاقات کے لیے گئے تھے ۔چوہدری صاحب نے ہمیں کھانا منگوا کر کھلایا اور خاص طور پر آرڈر دیا کہ گوبھی کو تڑکہ لگا کر لایا جائے۔ عاطف نیازی بھی موجود تھے۔ یوں چو ہدری صاحبؒ سے میری یہ باقاعدہ ملاقات تھی ۔ یادوں کا سیلاب اُمڈتا چلا آرہا ہے۔حمایت علی شھید نے عشقِ مصطفےﷺ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ انجمن طلبہ اسلام کے اُس دور کے قائدین جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری چےئرمین المصطفےٰ ویلفیر سوسائٹی پاکستان، احمد وقار مدنی،زاہد رضا خان ایڈووکیٹ، اسلم رانجھا، جاوید مصطفائی،اقبال چوہدری شھید، غلام مرتضیٰ سعیدی، اسلم حیات،صفدر شاہ،رضاالدین صدیقی اعجاز فقہی،عبدالرزاق ساجد، امانت زیب،فیاغ چوہدری،حافظ سلیم مرحوم،ارشد مصطفائی،عبدالرشید بھٹی ایڈووکیٹ،اسحاق رحمانی، شیخ رفیق انجم و دیگر ساتھی بھر پور انداز میں عشقِ رسول ﷺ کے لیے اپنے تگ و دو جاری رکھے ہوئے تھے۔اِس دور میں انجمن طلبہ اسلام نے تعلیمی اداروں کو امن کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب نے تعلیمی امن سال، عشرہ سماجی انقلاب منا کر پورئے پاکستان کے سیاستدانوں، دانشوروں۔علمااکرام کو انجمن طلبہ اسلام کے مشن کی طرف راغب کیا یہ وہ دور تھا جب مارشل ملک میں لگا ہوا تھا اور اُس وقت سیاسی گھٹن عروج پر تھی ان حالات میں انجمن طلبہ اسلام نے ان رہنماؤں کی سرکردگی میں یہ پیغام پاکستان کے کونے کونے میں پھیلایا کہ تعلیمی اداروں میں کسی صورت بھی سیاسی جماعتیں کام نہ کریں اور تعلیمی اداروں میں سیاستدانوں کی طرف سے مداخلت نہ ہواور نہ ہی تعلیمی اداروں میں سیاستدان آئیں اِس پیغام کے روح رواں جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری اور حمایت علی شھید جیسے رہنماء تھے۔محبتوں کے کارواں کے ہمارئے عظیم رہنماء جناب حمایت علی چوہدری شھید تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور پھر کشمیر میں جہاد کے حوالے سے ابا بیل اسکواڈ کے نام سے ایک گروپ منظم کیا اور امیر کارواں نے بجائے اِس کے کہ دوسروں کو آگے محاذ پر بھیجتے خود کشمیر میں اگلے محاذ پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔
عقید ت کے الفاظ شھید کی خدمت میں

کتنے جواں لہو تجھ پہ نثار ہوئے ہیں سر زمینِ کشمیر
کہ قافلہِ انجمن طلبہ اسلام عظیم ہے
اُنھوں نے راہنمائی کا حق ادا کیا
اور کشمیر کی وادی کو اپنے لہو سے سرفراز کیا
کشمیر کا ذرہ ذرہ حمایت علیؒ کی شہادت سے ہے مسرور
کہ اللہ کے شیروں نے جہاد کو رکھا ہے ہردم مقدم
حمایت علی شھید تجھے سلام
امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کے مشن کے متوالے
تیری پاک روح کو سلام
ہر ساعت ہے ہماری تیری یادوں سے آباد


No comments:

Post a Comment