Monday, 4 August 2014

لاہور بار کے انتخابا ت سے اُبھرنے والی نئی قیادت سے امیدیں

 

 

 بار کے  انتخابا ت سے اُبھرنے والی نئی قیادت سے امیدیں

میاں محمداشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

لاہور بار کے الیکشن 2014 میں وکلا کا جوش وخروش دیدنی تھا بروز ہفتہ 11 اپریل 2014 کی چمکتی دمکتی صبح وکلا لاہور سیشن کورٹ میں پہنچنا شروع ہوگئے پولنگ کا وقت صبح 9 بجے سے شام 5بجے تھا۔ وکلا کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھایا جائے اس لیے آندھی ہو یا طوفان ہو ملک میں آمریت کا ظلم بپا ہو یا جمہور رواں دواں ہو وکلاء کے الیکشن ہمیشہ ہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ خوش آئین بات یہ ہے کہ الیکشن ہونے کے بعد وکلاء گروپ پھر سے آپس میں شیروشکر ہوجاتے ہیں گویا بار کے الیکشن جمہوری سوچ کی نمو میں تیزی اور برداشت اور جیو اور جینے دو کے فروغ کے کلچر کے نہ صرف معمار ہیں بلکہ جمہوریت کے روشن دیپ جلانے کے لیے وکلاء نے جانوں کے نذرانے ہمیشہ پیش کیے ہیں۔اللہ پاک کا بے حد شُکر ہے کہ میڈیا کی آزادی کے بہت سے ثمرات انسانی حقوق کی آزادیوں کے شعور کی بیداری کے حوالے سے قوم کو تفویض ہوئے ہیں اِس لیے وکلاء جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ کی طاقت کو ہی اپنے وطن اور اپنی کیمونتی کے لیے بترین گردانتے ہیں۔ غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے نظریے کو کبھی بھی پذیرائی نہیں ملی حالانکہ ان آمروں نے ملک کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن نام اب بھی جموری سوچ کا باقی ہے عوام الناس کے اندر یہ شعور جاگزیں ہو چُکا ہے کہ ملک کے تما م تر معاشی سماجی ثقافتی و عمرانی دکھوں کا علاج صرف اور صرف جمہور کومضبوط کرنے میں ہے۔ راقم انسانی حقوق کی آزادیوں کا علمبرادر ہے اور مصطفے کریمﷺ نے جس سسکتی ہو انسانیت کا بول بالا کیا اور تمام انسانوں کے درمیان مساوات عملی طور پر قائم کرکے دیکھائی اُسی نصب العین کا پرچار کرنے والا ہے اِس لیے وکلاء تحریک جس نے اپنے وقت کے جابر مشرف کو شکست دی وہ وکلاء تحریک درحقیقت امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کے مشن کی علمبردار ہے اور وکلاء کی تمام تحاریک کے لیے پلیٹ فارم بار ہی مہیا کرتی ہیں۔موجودہ حالات میں جس طرح ماتحت عدلیہ میں رشوت کا بازار گرم ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ عدلتی کلرکوں نے پرائیوٹ لوگوں کو کام کے لیے رکھا ہوا ہے یوں جن ایوانوں سے انصاف ملنا ہوتا ہے اُن ایوانوں میں کرپشن کا بازار گرم ہے انسا نی سوچ کا احاطہ کرنا اس لیے بھی دشوار ہے کہ اس کی جبلت میں خسارے کا سودا کرنا ہے لیکن وہ لوگ خسارے میں نہیں رہتے جن کا اوڑھنا بچھونا ربِ کائنات کی رضا ہو۔ انسا نی تاریخ وتمدن میں ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے انسان نے بہت سے سنگِ میل عبور کیے ۔ قیامَ پاکستان کے فورا بعد جب تعمیرَ پاکستان کے لیے پوری قوم جوش و جذبے سے سرشار تھی اُس وقت یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ناجا ئز ذرائع سے روزی کمائی جائے۔ بلکہ ایسے افراد جو رشوت ستانی میں ملوث پائے جاتے تھے سوسائٹی میں اُن کی مذمت کی جاتی اور سماجی با ئیکاٹ بھی کیا جاتا۔لوگ ایسے افراد سے میل جول نہ رکھتے جو رزقِ حلال کی بجائے رزقِ حرام کا اسیر ہوتا۔ حضرت قا ئداعظمؒ اور قائد ملت لیاقت علی خانؒ کے بعد قوم کی حکمرانی ایسے لوگوں کے پاس چلی گئی جو ہر ناجائز عمل کو خود کے لیے جائز گردانتے تھے بس پھر کیا تھا اُس کے بعد پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ قناعت کا جنازہ اس طرح ہمارے معاشرے سے نکلا کہ بس خدا کی پناہ۔ قیام پاکستان کے مقاصد کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔جب اقتدار کے ایوانوں میں سے انصاف اُٹھ گیا تو پھر نچلے طبقے میں بھی رشوت اور سفارش سرایت کرتی چلی گئی۔ ماضی میں لفظ کر پشن ہمارئے معاشرئے کے لیے بالکل اجنبی تھا اور اب حالت یہ ہے کہ یہ لفظ ہماری ہر طرح کی گفتگو میں زبانِ زدِ عام ہوکر رہ گیا ہے۔ معاشرئے سے روادری ، محبت اُنس اُٹھ گئی ہے۔ حالت اب یہ ہے کہ جن ایوانوں سے انصاف ملنا ہوتا ہے وہ چھوٹے موٹے کام کے لیے بھی ریڈرز، سٹینوز، الہمد، بیلف، کلرک چپڑاسی کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے ورنہ اُپ کی فائل کو ئی ہاتھ نہیں لگاتاعدالتی اہل کاروں ریڈرز ، سٹینوز ، ا ہلمد، چپڑاسی، کلرک، بیلف وغیرہ جس طرح پسی ہو عوام کو نوچتے ہیں اس طرح لگتا ہے کہ ہنوز انسانیت کی تذلیل جاری ہے۔ پاکستان کے قیام کے حقیقی ثمرات عوام الناس کی بجائے صرف اشرافیہ ہی اس سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اس وقت پاکستانی عوام بدترین معاشی مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔ لیکن حکومتی سطع پر اس سٹیٹس کو کو ختم کرنے کی بجائے حکومتی مشینیری کے ہاتھوں ہی عوام کا جینا دُوبھر ہوتا چلا جا رہا ہے۔لیکن ما تحت عدلیہ کے اِن اہل کاروں کی لوٹ ما ر کی وجہ سے عام سائل یہ ہی سمجھتا ہے کہ اس لوٹ کھسوٹ کے پیچھے عدلیہ کے ججوں کی آشیرباد ہے۔ اگر موجودہ آزاد عدلیہ بھی اس تاثر کو ختم نہیں کروا سکتی تو پھر یہ کیسے ممکن ہوگا۔اس منفی تاثر کو دور کرنے کے لیے معزز جج صاحبان اپنے اپنے ماتحت عملے کی بود و باش پر سخت نگرانی کریں ۔ اس مقصد کے لیے ماتحت عملے کی خفیہ نگرانی کا عمل بھی کیا جا سکتا ہے تا کہ اہل کار عوام الناس سے رقم بٹورتے وقت خوف محسوس کریں۔ اگر اس کریپشن ، رشوت مار دھاڑ پر کنٹرول ہو جائے تو پوری عدلیہ کا امیج عوام الناس کی نظروں میں بہتر ہو سکتا ہے۔ جب انصاف ملنے والے گہواروں میں قدم قدم پر رشوت پھیلی ہو تو ان حالات میں ججز جتنی مرضی جانشانی سے کام کرلیں عام تاثر منفی ہی ہوگا۔ کم از کم عام سائل تو انصاف کے ایوانوں میں اطمینان محسوص کرئے۔مندرجہ بالا بیان کردہ معاملات کے حل کے لیے لاہور بار کی نئی اُبھرنے والی قیادت ماتحت عدلیہ کے ساتھ تعاون کرکے سائلین کے لیے آسانیاں پیدا کرسکتی ہے اور نئی قیادت کو عدالتوں میں عام سائل کا جو حشر ہوتا ہے اُ سے مکمل آگاہی ہے کہ لاہور بار کی نئی قیادت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے عام آدمی کے فائدئے کے لیے کیا کرتی ہے یا پھر نئی قیادت بھی ماضی کی قیادتوں طرح اقتدار کے ایوانوں کی غلام گردشوں میں خود کو گم کردیتی ہے نئی قیادت نئے امید بھرے سورج کے طلوع ہونے کی امید ہے یہ قیادت روایتی انداز سے یکسر مختلف ہوگی رب پاک ایسا ہی کرئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔

No comments:

Post a Comment