معین نوری اور انجمن طلبہء اسلام کی تاریخی داستان
میاں محمداشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
معین نوری ایک ایسی شخصیت کا نام جو ہمیشہ کے لیے قافلہ عشق ومستی کے ایک
ایک فرد کے لیے محترم قرار پایا ہے۔ اللہ پاک نے کچھ لوگوں سے خاص اہمیت
کا کام لینا ہوتا ہے اور اللہ پاک اِس کے لیے خاص بندئے کا انتخاب کرتا
ہے ۔ محمد عربی ﷺ کے غلاموں کی سرُخیل تنظیم انجمن طلبہ اسلام کی اِس
کے قیام 20 شوال 1968 سے لے کر زمانہ حالِ کی تاریخ کو صفحہِ قرطاس پر
منتقل کرنے والے جناب معین نوری اِس عظیم کام کے لیے تا قیامت یاد رکھے
جائیں گے۔علم نور ہے اور نور قائم ودائم رہتا ہے۔ اور نبی پاکﷺ کے نام اور
حُرمت اور عشق کی داعی انجمن طلبہ اسلام کے گزشتہ چھیالیس سالوں پر محیط
تاریخ کا احاطہ کرنے کے حوالے سے جس طرح معین نوری نے محنت کی ہے اور جس
عرق ریزی سے اِس مشن پر کام کیا اور اِس حوالے سے بہت سے لوگوں سے رابطہ
اور ملک کے ایک کونے سے دوسرئے کونے تک سفر کیا۔یہ تمام تر محنتیں معین
نوری کے اُس لازوال کام کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں جو کہ انجمن طلبہء اسلام
کی تاریخ بیان کرتے ہوئے جناب معین نوری نے کیا ۔راقم جب معین نوری کے اِس
عظیم کام کے متعلق سوچتا ہے تو مجھے جناب معین نوری کی قسمت پر رشک آتا
ہے کہ اللہ پاک نے جناب معین نوری کو کتنی بڑی سعادت سے نوازا۔ایک ایسی
دستاویز جس نے ماضی حال مستقبل کے لیے ایک چراغِ راہ کی حثیت اختیار کرلی
ہے۔پاکستان کی طلبہء تنظیموں میں سے ایک طلبہء تنظیم ایسی ہے جو کبھی
بھی کسی بھی سیاسی جماعت کا بخل بچہ نہیں رہی اس طلبہ تنظیم نے طلبہء سیاست
کو طلبہ تک ہی محدود رکھا ہے ۔موجودہ پُرآ شوب دور میں یہ بات یہ بات
ناممکن دیکھائی دیتی ہے کیونکہ جس وقت اس طلبہ تنظم کا کام عروج پر تھا
اُس وقت ہر سیاسی جماعت نے اپنے وسائل کے بل بوتے پر تعلیمی اداروں سیاسی
اکھاڑوں میں تبدیل کر رکھا تھا۔لیکن انجمن طلبہ ء اسلام خالصتاً عشقِ
رسول ﷺ کے عظیم تر مشن کے میدان عمل میں تھی اور اب بھی ہے۔عشقِ مصطفے
کریم ﷺ کے عظیم تر جذبے سے سرشار اس تنظیم نے صرف اور صرف نبی
پاکﷺ سے محبت کے مقصد عظیم کو سب سے زیادہ مقدم رکھا۔ اور سب سے بڑھ
کر یہ کہ اپنے تنظیمی معاملات کو کسی بھی سیاست دان کی آشیر باد کے بخیر
خود ہی آگے بڑھایا۔
یہ اسی طلبہء تنظیم کا اعزاز ہے کہ اس نے پورے عالم اسلام کو قابل فخر سوچ سے مزین نعرئے دےئے جن میں غلامیِ رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے، غلام ہیں غلام ہیں رسولﷺ کے غلام ہیں، سیدی مرشدی یانبیﷺ یانبیﷺ شامل ہیں جو کہ اب زبانِ زدو عام ہیں ہر تنظیم حتیٰ کہ حکومتی ایوانوں میں بھی ان نعروں کی گونج سُنائی دیتی ہے ۔انجمن طلبہء اسلام گو کہ نظر یاتی طور پر کئی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے لیکن اس تنظیم نے کسی بھی سیاست دان کے نعرئے لگانے کی بجائے فقط آقا کریمﷺ کی عزت وحرمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ 1968 ء میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے طلبہء اور عوام پر فکری محاذ پر انمٹ نشانات چھوڑئے ہیں اور ہر طلبہء تنظیم عشقِ رسولﷺ کا موضوع اپنے اپنے نصاب میں رکھنے پر مجبور ہوگئی۔ نبی پاک ﷺ کی محبت اور عشق ہی اس کا اول و آخر مشن ہے۔ انجمن طلبہء اسلام کی فکر ی سوچ سے اکتساب کرنے والے اس دھرتی کے سپوت زندگی کے ہر شعبہ میں مادرِ وطن کی خدمت کررہے ہیں ۔ پاکستانی معاشرے میں سیاست کو جھوٹ اور چالاکی سے عبارت کیا جاتا ہے اور ملی وسائل کے بغیر تنظیمی ڈھانچہ چلانا ناممکن دیکھائی دیتا ہے لیکن یہ کمال نبی پاک ﷺ سے محبت کا ہے کہ ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں امن کی خوشبو پھیلانے کے حوالے سے اور طلبہ میں سماجی انقلاب کے حوالے انجن طلبہ اسلام نے دیگر طلبہ تنظیموں کو جو سوچ دی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی پاک ﷺ کی محبت کو بطور ایک مضبوط عنصر گردانتے ہوئے معاشرئے سے لاقانونیت، بے راروی، فحاشی،غربت، معاشی و سماجی ناانصافیاں ختم کرنے اور پاکستانی قوم میں اتحاد و محبت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تمام اہل علم ودانش اپنا فعال کردار کریں۔ تمام طبقہِ فکر کے افراد پاکستان اور پاکستان کے لوگوں سے محبت کریں خود بھی جئیں اور دوسروں کو یہ حق دیں۔ قوموں کی زندگی میں آزادی کی نعمت کی بہت ہی اہمیت ہے آج جبکہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے گرو ہ لسانیت، فرقہ واریت اور علاقائیت کے ز ہر آلود ایجنڈئے پر عمل پیرا ہیں ان حالات میں انجمن طلبہء اسلام کے کارکنان اور سابقین تحریک پاکستان والے جذبے سے سرشار ہو کر ملک دُشمن قوتوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیور بن کر اُن کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں کیونکہ اس وطن کی حفاظت اور نبی پاک ﷺ کی محبت سے بڑھ کر اور پاکیزہ مشن کون سا ہو سکتا ہے ۔ انجمن کے دوستوں کو نبی پاکﷺ کی محبت کے فروخ کے لیے چُن لیا گیا ہے اور اس کا ماضی کی طرح ہر دور میں میں عملی ثبوت بھی دیں گئے۔معین نوری نے جس طرح ایک فرض کو قرض سمجھ کر نبھایا ہے یہ سب کچھ ایک عظیم روایت کا تسلسل ہے۔ کسی نے تو یہ کام کرنا تھا لیکن اللہ پاک نے معین نوری صاحب سے یہ کام لیا ہے کہ اُنھوں نے انجمن طلبہ اسلام کے انقلابی منشور ،طلبہ سیاست پر انجمن طلبہء اسلام کے اثرات،معاشرئے کی سوچ کا دھارا بدلنے والے انجمن طلبہء اسلام کے مشن کی راہ میں حائل مسائل اور اِس قافلہء عشق ومستی کے عظیم مشن کی راہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے شہدا کا ذکر احسن انداز میں کیا ہے۔بقول حضرت اقبال ؒ کے مرشد مولانا رومیؒ جسمِ خاک از عِشق بر افلاک شدُ۔کوہ در رقص آمد وچالاک شد ۔ یعنی کہ خاکی جسم عشق کی وجہ سے آسمانوں پر جاپہنچا، پہاڑ ناچنے لگا اور ہوشیار ہوگیا۔
یہ اسی طلبہء تنظیم کا اعزاز ہے کہ اس نے پورے عالم اسلام کو قابل فخر سوچ سے مزین نعرئے دےئے جن میں غلامیِ رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے، غلام ہیں غلام ہیں رسولﷺ کے غلام ہیں، سیدی مرشدی یانبیﷺ یانبیﷺ شامل ہیں جو کہ اب زبانِ زدو عام ہیں ہر تنظیم حتیٰ کہ حکومتی ایوانوں میں بھی ان نعروں کی گونج سُنائی دیتی ہے ۔انجمن طلبہء اسلام گو کہ نظر یاتی طور پر کئی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے لیکن اس تنظیم نے کسی بھی سیاست دان کے نعرئے لگانے کی بجائے فقط آقا کریمﷺ کی عزت وحرمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ 1968 ء میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے طلبہء اور عوام پر فکری محاذ پر انمٹ نشانات چھوڑئے ہیں اور ہر طلبہء تنظیم عشقِ رسولﷺ کا موضوع اپنے اپنے نصاب میں رکھنے پر مجبور ہوگئی۔ نبی پاک ﷺ کی محبت اور عشق ہی اس کا اول و آخر مشن ہے۔ انجمن طلبہء اسلام کی فکر ی سوچ سے اکتساب کرنے والے اس دھرتی کے سپوت زندگی کے ہر شعبہ میں مادرِ وطن کی خدمت کررہے ہیں ۔ پاکستانی معاشرے میں سیاست کو جھوٹ اور چالاکی سے عبارت کیا جاتا ہے اور ملی وسائل کے بغیر تنظیمی ڈھانچہ چلانا ناممکن دیکھائی دیتا ہے لیکن یہ کمال نبی پاک ﷺ سے محبت کا ہے کہ ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں امن کی خوشبو پھیلانے کے حوالے سے اور طلبہ میں سماجی انقلاب کے حوالے انجن طلبہ اسلام نے دیگر طلبہ تنظیموں کو جو سوچ دی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی پاک ﷺ کی محبت کو بطور ایک مضبوط عنصر گردانتے ہوئے معاشرئے سے لاقانونیت، بے راروی، فحاشی،غربت، معاشی و سماجی ناانصافیاں ختم کرنے اور پاکستانی قوم میں اتحاد و محبت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تمام اہل علم ودانش اپنا فعال کردار کریں۔ تمام طبقہِ فکر کے افراد پاکستان اور پاکستان کے لوگوں سے محبت کریں خود بھی جئیں اور دوسروں کو یہ حق دیں۔ قوموں کی زندگی میں آزادی کی نعمت کی بہت ہی اہمیت ہے آج جبکہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے گرو ہ لسانیت، فرقہ واریت اور علاقائیت کے ز ہر آلود ایجنڈئے پر عمل پیرا ہیں ان حالات میں انجمن طلبہء اسلام کے کارکنان اور سابقین تحریک پاکستان والے جذبے سے سرشار ہو کر ملک دُشمن قوتوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیور بن کر اُن کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں کیونکہ اس وطن کی حفاظت اور نبی پاک ﷺ کی محبت سے بڑھ کر اور پاکیزہ مشن کون سا ہو سکتا ہے ۔ انجمن کے دوستوں کو نبی پاکﷺ کی محبت کے فروخ کے لیے چُن لیا گیا ہے اور اس کا ماضی کی طرح ہر دور میں میں عملی ثبوت بھی دیں گئے۔معین نوری نے جس طرح ایک فرض کو قرض سمجھ کر نبھایا ہے یہ سب کچھ ایک عظیم روایت کا تسلسل ہے۔ کسی نے تو یہ کام کرنا تھا لیکن اللہ پاک نے معین نوری صاحب سے یہ کام لیا ہے کہ اُنھوں نے انجمن طلبہ اسلام کے انقلابی منشور ،طلبہ سیاست پر انجمن طلبہء اسلام کے اثرات،معاشرئے کی سوچ کا دھارا بدلنے والے انجمن طلبہء اسلام کے مشن کی راہ میں حائل مسائل اور اِس قافلہء عشق ومستی کے عظیم مشن کی راہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے شہدا کا ذکر احسن انداز میں کیا ہے۔بقول حضرت اقبال ؒ کے مرشد مولانا رومیؒ جسمِ خاک از عِشق بر افلاک شدُ۔کوہ در رقص آمد وچالاک شد ۔ یعنی کہ خاکی جسم عشق کی وجہ سے آسمانوں پر جاپہنچا، پہاڑ ناچنے لگا اور ہوشیار ہوگیا۔

No comments:
Post a Comment