Saturday, 6 September 2014

شارجہ میں مقیم معروف ماہر جلدڈاکٹر حماد احمد بھٹی سے ملاقات میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ , A MEETING SKIN SPECIALIST DR HAMMAD AHAMD BHATTI

شارجہ میں مقیم معروف ماہر جلدڈاکٹر حماد احمد بھٹی سے ملاقات


میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


شائد مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں بچپن لوٹ کر واپس تو نہیں آتا لیکن اُس کی یادیں ہمیشہ روح کو تازگی دیتی ہیں چند ماہ پیشتر بچپن کے دوست اور میرئے چھٹی کے ہم جماعت مشہور سپورٹس اینکر جناب آفتاب احمد تابی نے جب فون کیا تو ایسا لگا کہ واقعی دنیا میں سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے والی بات سو فیصد درست ہے ۔ تابی کی وساطت سے میرئے اُستاد محترم جو سرگودہا میں جامعہ ہائی سکول سرگودہا کے ہمارئے پرنسپل تھے اُن کے فرزند ارجمند جناب ڈاکٹر حماد احمد بھٹی جو کہ شارجہ میں گذشتہ ایک دہائی سے مقیم ہیں اور وہاں کی کیمونٹی کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مستفید کر رہے ہیں ڈاکٹر حماد احمد بھٹی جو کہ ماہرِ جلد ہیں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اپنی مہارت میں شارجہ میں ملک وقوم کا نام روشن کر ہے ہیں سے بھی میرا رابطہ ممکن ہوا۔ جناب حماد احمد نے کمال محبت کا مظاہر ہ کیا کہ مجھے اپنی کم مائیگی کے احساس نے آلیا۔یوں موسم بہار کی تعطیلات گزارنے جناب حماد احمد بھٹی جب پاکستان تشریف لائے تو انھوں نے مجھے بھی سعادت بخشی اور میرے دفتر ہائی کورٹ تشریف لائے۔حماد احمد بھٹی کو میں نے تقریباً تیس سال کے بعد دیکھا۔ تو میرئی آنکھوں میں اُستادِ محترم جناب حسین احمد بھٹی کی تصویر آگئی مجھے ایساے لگا جناب اُستاد محترم ہی میرے سامنے ہیں میری نگاہوں نے ادب کے ساتھ اُن کے استقبال کیا اور اُن کے ہاتھوں کو محبت کے عالم میں بوسہ دیا کہ اِن ہاتھوں کو میرے اُستاد محترم سے نسبت ہے۔ڈاکٹر حماد احمد بھٹی سے گزشتہ تیس سالوں کے حوالے سے گھنٹوں باتیں کیں اور بے خودی کی اُس لذت سے آشنائی ملی جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھامیں خود کو اپنے سکول میں کھیلتا کودتا پارہا تھا مجھے اپنے سکول کے میدان میں لگے ہوئے پھول مسکرا مسکرا کر امید اور خوشی کے پیغام دئے رہے تھے۔ میں اپنے سکول کے ہال میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تقاریر کے مقابلے دیکھ اور سُن رہا تھا۔ مجھے حماد احمد بھٹی، جاوید اقبال، نجمی، راجہ منصور ،آفتاب تابی ، مہتاب عالم اور بلال رفاقت سٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے نظر آرہے تھے۔اور اساتذہ اکرام جناب اسلم صاحب ادبی پروگراموں کے روح رواں اپنی بھرپور سرپرستی میں بچوں کی رہنمائی فرما رہے تھے۔یہ وہ دور تھا ۔جب معاشرے میں استا د کا ایک مقام تھا اُستا دپیسہ کمانے کی دوڑ سے کوسوں میل دورتھا۔گورنمنٹ جامعہ ہائی سکول سرگودھا کی خوش قسمتی کہ نئی عمارت میں شفٹ ہوتے ہی حُسین احمدبھٹیؒ مرحوم جیسے عظیم اُ ستا د وانتظامی امور کے ماہر اس سکول کو بطور پرنسپل نصیب ہوئے ۔حُسین احمد بھٹی صاحب کا شما ر اُ ن عظیم اساتذہ میں ہوتا ہے جنہو ں نے گورنمنٹ جامعہ سکول کو عظیم تعلیمی گہوارہ رہ بنا دیا ۔نئی عما رت ہو نے کی وجہ سے سکول میں کو خوبصورت پودے لگا ئے۔صفائی اتنی کہ آج اُس ما حول کویا د کرتا ہوں تو رشک آتا ہے ہفتہ وارچُھٹی سے ایک دن پہلے کمرہ جما عت کی خوب صفا ئی ہوتی ۔اور خوبصورت تعلیمی چار ٹ سے سجا یا جا تا اور ہفتہ وارچُھٹی کے بعدپہلے دن حُسین احمد بھٹی صاحب اسا تذہ کے ساتھ ہر کلاس کا دورہ فرما تے اور پھر کلا س کو اگلے دن بہترین صفائی کرنے پر ٹرافی سے نوازاجا تا ۔اور وہ ٹرافی پورا ہفتہ اُس کلا س کی زینت بنی رہتی ۔انتظامی امور کی ذمہ داری کے باوجود حُسین احمد بھٹی صاحب کلا س نہم اور دہم کو خود بھی پڑھا تے ۔اسی طرح جا معہ سکول سرگودھا میں غیر نصابی سرگرمیو ں کا دوربھی عروج پر تھا ۔سکول میں نعت خوانی، تقاریر، کلامِ اقبال کے مقابلے بھی ہوتے ۔اور جا معہ سکول کی کا رکردگی بے مثالی ہو تی ۔اُس دور میں سکو ل میں ملک محمدانور صاحب ،صوفی غلا م حُسین صاحب ،عطاالرحمان قریشی صاحب ،عُمر حیا ت صاحب ،اسلم صاحب ، مہرشا ہ محمد صاحب،مہرمحمدبخش صاحب ،منظورصاحب ،سعید قریشی صاحب ،رفیق صاحب جیسے لو گ اس سکول کے اساتذہ اکرم میں شامل تھے ۔وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا جب حُسین احمد بھٹی صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں طلب فرما یا اور کہا کہ اشرف تم لوگو ں کو کلا س نہم کی طرف سے ا لوداعی پا رٹی دی جا رہی ہیں ۔اور تم اس الوداعی تقریب میں تقریر کرو گئے ۔اُنھوں نے مجھے خودتقریرلکھوائی۔اُس تقریر کا ایک ایک لفظ میرے دل و دما غ اور روح پر آج بھی نقش ہیں ۔جب اُن الفاظ کو میں سوچتا ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے ۔کہ جیسے میری روح فناح ہو رہی ہیں ۔اور پھر جس دن جما عت نہم نے ہما ری جماعت کو الوداعی پا رٹی دی ۔راقم بھی نے تقریر کی اور میرے ہر دل عزیز عزیزسپورٹس مین آفتا ب تا بی نے بھی اظہارِ خیا ل کیا ۔مجھے یا دہے کہ حُسین احمدبھٹی صاحب نے اُس الوداعی پا رٹی کے دن مجھ سے کہا کہ اشرف آج ہما رے سکول میں خو ب ر ونق ہے ۔میں نے کہا کہ سر آج تو ہما ر ا سکول یونیورسٹی لگ رہا ہے ۔میٹرک کا امتحان دینے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ حُسین احمدبھٹی صاحب بطورڈسٹرایجوکیشن آفیسرگجرات ٹرانسفرہو گئے ہیں ۔جب میٹرک کا رزلٹ آوٹ ہو تو راقم نے بھٹی صاحب کو خط لکھا ۔یقین جا نئیے کہ بھٹی صاحب نے مجھے نیک تمنا وں کے اظہار کے ساتھ خط کا جواب دیا اور میری حوصلہ افزائی فرما ئی ۔کچھ عرصہ بعدجب بھٹی صاحب بطور ڈائریکٹر سکول سرگودھا ڈویثرین بن کر تشریف لے آئے۔تو راقم کی ان سے دودفعہ ملا قات رہی ۔ انسان ما ضی حال مستقبل تین ادوارمیں منقسیم ہو تا ہے وہ لمحات جوماضی کا حصہ بن چکے ہو تے ہیں حُِسین یا دوں کا روپ دھار لیتے ہیں اُس وقت اُس کی کوئی قدرنہیں ہوتی ہلکہ اس طرح جیسے اب ہم موجودزمانہ گزارہے ہوتے ہیں ۔یوں ہم مستقل کوبہترسنوارنے کیلئے اطمینان بخش اندار میں افعال انجا م دینے کی بجا ئے ہم اپنے حال سے شاکی رہتے ہیں ۔یوں ہم اپنے ان رویوں کی وجہ سے اپنے بہت سے پیا روں کو دُکھ پہنچاتے ہیں ۔اور یوں جب یہ ہی حال کا زما نہ ماضی کی صورت اختیا ر کرلیتا ہے ۔تو ہما رے اندارایک کسک سی رہ جا تی ہے ۔کہ کاش ہم نے ایسانہ کیا ہوتا میرے کا نوں میں اب بھی جا معہ سکول سرگودھا کے درودیوار میں جنا ب حُسین احمدبھٹی مرحوم جنا ب مہر شاہ محمدصاحب ،جنا ب اقبال ،چیمہ صاحب ، خادم حُسین صاحب ودیگر اساتذ اکرام کی محبت اور خلوص بھری آوازیں سنائی دیتی ہیں اوریوں دل مچلتا ہے کہ اُفسردہ ہوجاتا ہے اور اُس دورہ میں واپس جانے کی خواہش کرتاہے یوں ہم اپنے آپ سے انصاف نہیں کرپاتے اور جو جو جب جب کرنا ہوتا ہے تب تب نہیں کرپا تے ۔اڈاکٹر حماد احمد بھٹی نے اُستاد محترم کے دنیا سے پردہ فرماجانے کا حوال سنایا تو دل کو بہت دکھ ہوا۔ اللہ پاک اُن کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے(آمین)حماد احمد کی ملاقات نے مجھے اِس طرح روحانی سکون دیا کہ بیان سے باہر ہے گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ابھی تو گفتگو شروع کرنی ہے۔اللہ پاک ڈاکٹر حماد احمد بھٹی کو ملک وقوم کا نام روشن کرنے کی مزید ہمت عطا فرمائے (آمین)انسانی جبلت ہے کہ وہ اپنے گزرئے ہوئے کل سے ایک خاص عقیدت اور محبت رکھتا ہے یوں تو سرگودہا کی سرزمین عظیم سپوتوں کی سرزمین ہے لیکن دیہاتی اور شہری زندگی کے امتزاج نے وہ خوبصورت کلچر ترتیب دیا ہے کہ پاکستان کو یہ شہر حقیقی معنوں میں شاہینوں کا شہر ہے۔علم وادب سے وابستہ ڈاکٹر وزیر آغا، پروفیسر غلام جیلانی اصغر، صاحبزادہ عبدالرسول، پروفیسر اقبال، پروفیسر حافظ فتح محمد،وصی شاہ،رشک ترابی،پپرو فیسر ہارون رشید تبسم جیسے لوگ اسی دھرتی کے لوگ ہیں۔ڈاکٹر حماد احمد بھٹی میرے آفس چیمبر میں تشریف فرما تھے اور یادوں کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ اللہ پاک نے ماضی میں بھی کتنی کشش رکھی ہے ہر گزر ا لمحہ خوبصورت لگتا ہے۔ڈاکٹر حماد احمد بھٹی ماہر جلد گزشتہ ایک دہائی سے شارجہ میں اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے بعد ایک بات جو مجھے بہت اچھی لگی کے جواں جذبوں کے امین ڈاکٹر صاحب نے بھی سول سروس جوائن کی لیکن صرف تین سال بعد ہی سول سروس کو خیربا دکہ دیا اور مسیحائی کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ڈاکٹر صاحب کی زبانی اُن کے بڑئے بھائی جناب میجر سجاد احمد بھٹی کی بابت معلوم ہوا جن کو حال میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ڈاکٹر حماد احمد بھٹی ملک وقوم کا فخر ہیں اور دیارِ غیر میں ملک وملت کا نام روشن کر رہے ہیں اللہ پاک اُن کوسلامتی عطا فرمائے۔(آمین)

No comments:

Post a Comment