Wednesday, 3 September 2014

باغی،ضمیر کا قیدی اور عمران قادری کا دھڑن تختہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹbaghi zameer ka qedi aur imran qadri political death, by ashraf asmi advocate high court





باغی،ضمیر کا قیدی اور عمران قادری کا دھڑن تختہ

میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
 قبریں کھودنا،کفن لہرانا، کارکنوں کو کفن پہنانا،عدالتوں کو آئین کو نہ ماننااور اِس سائے کھیل میں شیخ رشید اور گجرات کے چوہدری برادران کاماسٹ مائنڈ کا کردار ادا کرنا۔عمران خان اور قادری کا ایک ساتھ دھرنا،پی ٹی وی پر چڑھائی،وزیراعظم ہاوس کا گھیراو.عمران اور قادری کا دھرنا کے شرکاء کو مسلسل یہ کہنا کہ انقلاب بس اب چند گھنٹوں دور ہے۔پولیس کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانا۔کیا یہ ہے قادری عمران کے انقلابات؟۔انقلاب انقلاب کا ڈھنڈوڑا پیٹ پیٹ کر لوگوں کی آنکھوں میں خواب جو تھے وہ چھین لیے گئے ہیں۔طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کے حوالے سے قوم کی نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوئے اُس حوالے سے ایک بات تو طے ہے کہ دھرنے کے مظاہرین خاص طور پر طاہر القادری صاحب نے بین الا قوامی میڈیا اور ملکی میڈیا کے سامنے اپنے موقف کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔ ملک کی امن وامان کی صورتحال، بے روزگاری،دھونس دھاندلی،سماجی معاشی شعور اور مسائل کی شدت کے حوالے سے جو ماحول قادری صاحب نے بنایا ہے اُس حوالے سے اُن کے کردار کو سراہا جانا چاہیے۔قادری صاحب کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اُن کے انداز کے لوگ مخالف بھی ہیں۔ لیکن جس منصوبہ بندی اور بہترین حکمتِ عملی سے اُنھوں اپنے انقلاب مارچ کے لوگوں کو اتنے دن گھر سے دور رہنے کے باوجودمورال میں کمی نہیں آنے دی اِس اہم وجہ سے قادری صاحب ملکی مسائل کو فلیش پوائنٹ بنانے میں کامیاب رہے اور اگر یہ کہا جائے تو بے جاء نہ ہوگا کہ طاہر القادری کا دھرنا ہر لحاظ سے عمران خان کے دھرنے سے بہت بہتر تھا۔ اِس کی وجہ قادری صاحب کے پیروکار ہیں کیونکہ مذہبی فیکٹر ہونے کی وجہ سے قادری صاحب کے کارکنان کی کمٹمینٹ بہت بھرپور تھی عمران خان کے پاس کے پی کے کی حکومت بھی تھی اور بہت امیر سرمایہ دار ، وڈیرئے سیاستدان بھی اُن کے ساتھ ہیں اُس کے باوجود عمران خان صاحب کے دھرنے میں کوالٹی نہیں تھی۔سانحہ ماڈل ٹاون کی وجہ سے قادری صاحب کو اخلاقی برتری بھی حاصل تھی۔ کیونکہ طاہر القادری صاحب کے پاس کمیٹیڈ ورکر ہیں اِس لیے چوہدری برادران بھی اپنی روایتی سیاسی چال کے تحت قادری صاحب کے ساتھ ہولیے۔اور شیخ رشید صاحب بھی اِسی طرح کے موقعہ کے تلا ش میں رہتے ہیں۔وہ بھی مہمان کے طور قادری صاحب کے ساتھ اپنی سیاست کی آبیاری میں مصروف رہے۔یہ تو اِن مارچوں کا اگست کے مہینے وقوع پذیر ہونے کا ایک ایسا جائزہ ہے جس میں پاکستانی قوم کے مسائل کو حکمرانواں کے سامنے بہت بھرپور طریقے سے پیش کیا گیا۔لیکن اِس سارئے قصے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے رہی سہی عزت بھی گنوا دی بلکہ خود کو بہت بُرئے انداز میں ایکسپوز کیا۔ عمران خان کے ورکروں کا دس لاکھ کی بجائے چند ہزار ہونا اور عمران خان کے بلند و بانگ دعوئے اور نواز شریف کے خلاف انتہائی گھٹیا زبان کا استعمال دھرنے کے وہ پہلو ہیں جس سے وہ قد کاٹھ جو عمران خان نے سیاست میں حاصل کیا تھا وہ اِس کے مطابق خود کو برقرار نہ رکھ سکے اور اُن کی بعض مواقع پر گفتگو اخلاقیات کے حوالے سے بہتر نہ تھی۔ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھی سوشل میڈیا پر بہت ہی لغو زبان استعمال کرتے ہیں یہ پہلو حوصلہ افزاء نہیں ہے کہ نوجوان نسل اپنے ہی لوگوں کو زدوکوب کر رہی ہے یہ پاکستان نیا ہےَ جاوید ہاشمی نے عمران کے طرز انقلاب کو پسند نہیں کیا اور عمران کے متعلق وہ سب کچھ زبان پر لے آئے جو کوئی اور کہتا تو شائد تحریک انصاف والے نہ مانتے لیکن یہ سب کچھ تو اُن کے اپنے صدر نے کہا ہے۔ قادری،عمران کی لندن میں ملاقات، دارلحکومت پہ چڑھائی،پی ٹی وی پر حملہ، حکومت پاکستان اور ریاستِ پاکستا ن کو عملاً عضو معطل بنا دینا۔ جاوید ہاشمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بو لتے اُن کا ایک کردار ہے ۔اُن کی جانب سے یہ کہنا کہ عمران نے یہ سب کچھ فوج کے عناصر کی جانب سے ہلا شیری سے کیا ہے اور وہ ہر قیمت پر وزیر اعظم بننا چاہتا ہے۔ اِس حوالے سے عمران خان کے کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی کے جنگ اخبار میں چھپنے والے دو حالیہ کالم بہت اہم ہیں جن میں ہاشمی صاحب کے موقف کی تائید نظر آتی ہے۔عمران اور قادری کا اکھٹے دھرنا دینا اور قادری کا عمران کو اپنا بھائی قرار دینا۔ یہ سب کیا ہے۔عمران بھی وزیر اعظم بننا چاہتا ہے اور قادری صاحب تو شائد امیرالمومنین بننے کے لیے پر تول رہے ہیں لیکن افسوس اب بھی غریب لوگوں کا خون بہایا گیا اور عمران قادری نے اپنی انا اور لالچ کے بھینت معصوم لوگوں کو مروایا۔سانحہ ماڈل ٹاون المناک داستان ہے لیکن اِس کے پیچھ بھی قادری صاحب کی سانحہ سے پہلے والی تقریر ہے جس میں اُنھوں نے کفر اور حق کی جنگ میں کو د جانے کا درس اپنے تقلید کرنے والوں کو دیا۔
جن قوتوں نے لانگ مارچ کروانے کے لیے عوام النا س کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اُن کو عوام الناس سے کوئی مثبت ردِعمل نہیں مل سکا۔ طاہرالقادری صاحب کے صرف ماننے والے جن کی تعداد آزاد میڈیا کے مطابق چند ہزار کے قریب تھی وہ اس لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک ہیں لیکن قادری صاحب خود ایک پُرآسائش کنٹینر میں۔ جس طرح کے انقلاب کے دعوے جناب قادری صاحب نے کیے ہیں اُن کو تو دُنیاداری رکھنے کے لیے ہی کنٹینر کی بجائے اپنے مریدوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔لیکن شائد کینیڈا کی حکومت نے قادری صاحب کو حکم دے رکھا تھا کہ تم اب ہمارئے باشندے ہو اور کہیں بیمار نہ پڑ جانا اس لیے کینیڈین قادری صاحب نے خود کو عوام سے الگ رکھ کر ثابت کیا کہ وہ پاکستانی باشندے نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ اور باوسائل ملک کے امیر کبیر شہری ہیں اور پاکستانی غرئب عوام کا کام صرف اُن کا حکم ماننا ہے۔ آفرین ہے ان چند ہزار پاکستانی باشندوں پرجنکی چاہت نے ثابت کردیا کہ ہم کینیڈین علامہ صاحب کے پاکستانی غلام ہیں۔ درد سے آشنائی بھی عجب شے ہے۔ زمانے کے اپنے انداز ہوا کرتے ہیں مادی خواہشات انسان کو اس منصب سے بھی بعض اوقات گرادیتی ہیں جس کے حصول کے لیے انسانی تہذیب وتمدن نے ایک طویل جہدوجہد سے ایک لمبا سفر طے کیا۔ ایک ایسے ماحول میں جب دُنیا بہت سی دشورایوں سے گزر رہی ہے ان حالات میں مغرب اور مشرق کے طور طریقے نئے رنگوں میں ڈھل رہے ہیں لیکن ایک افسوس ناک پہلو اس ساری تگ ودو کا یہ ہے انسانی اقدار میں اِس طرح سے کمی آئی ہے کہ انسانیت کی اخلاقی تنزلی کا ساماں یہ ہی مادی ترقی ثابت ہورہی ہے۔ یہ درست ہے کہ تمام تر مسائل یکِ جنبشِ قلم حل نہیں ہوسکتے لیکن پھر بھی کوئی بھی ایسی ٹھوس کوشش اِس حوالے سے وقوع پذیر نہیں ہو پارہی ۔ دُنیا بھر کے مذہبی مبلغین خواہ جن کا تعلق کسی بھی مذہب نسل ، قوم،علاقے سے ہے اپنے طور پر تو دن رات کوشاں ہیں لیکن یہ تمام تر کوششیں ثمر آور نہیں ہو پارہی ہیں۔ یہ ہی حال جناب قادری صاحب کے لانگ مارچ کا ہے کہ ملک میں استحکام نہیں ۔دُنیا کے مسائل ہیں کہ مزید بگڑتے ہی جا رہے ہیں۔اس سارے بگاڑ میں ایک بات تو طے ہے کہ روس کی شکست و ریخت کے بعد امریکہ ہے کہ اس کی رسی دراز تر ہوتی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے خون کی ارزآنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ افغانستان عراق،کشمیر ،فلسطین میں خونِ مسلمان سے امریکہ غسل کررہاہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتفاق کی طاقت مسلمانوں میں کیوں پنپ نہیں پا رہی ۔ ایک نظرئیے کے تحت زندگی اور آخرت کے تصورات کیوں عملی طور پر راسخ نہیں ہو پارہے۔ رب پاک کی وحدانیت اور نبی آخرالزماںﷺ کی محبت کا دعویٰ عملی حکمت سے محروم کیوں ہے؟ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر بااثر قوتیں کسی مسلئے کو اُلجھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہیں تو پھر دینی غیرت، ملی حمیت مسلمانوں کو یکجا کیوں نہیں کر پارہی۔ اگر کوئی بھی معاشرہ کسی بھی حوالے سے اپنی بقا کے لیے سرگرداں رہتا ہے تو اُس کے لیے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ انسانی ترقی کے اس دور میں جب علم کی شمع نے پوری دُنیا میں روشنی بکھیر رکھی ہے اور ہزاروں تنظیمیں صرف انسانی حقوق کے نام پر کام کررہی ہیں لیکن عملی صورتِ حال مختلف ہے۔ دنیا میں انسانی کیا جانوروں کے حقوق کے لیے بھی بہت سی تنظیمیں میدان عمل میں ہیں لیکن خونِ انساں ہے کہ بہتا ہی جارہا ہے امریکہ جس نے پوری دُنیا میں امن وسلامتی پھیلانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے عراق و افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے اور دنیا میں دہشت گردی پھیلا رکھی ہے ۔ مسلمانوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ ان حالات میں عالمی قوتوں نے ہمارے ملک میں بے چینی پھیلا رکھی ہے بلوچستان لہو لہو ہے۔ خیبر پختون خواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور سیاسی حوالے سے پاکستانی معاشرے میں اس طرح کا مسلسل سیاسی ارتعاش ملک کی معیشت کو ڈبونے کے مترادف ہے۔طاہر القادری صاحب نے اس لانگ مارچ کے پاکستانی باشندے کنینیڈین شہری کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسلسل کئی روز سے علامہ صاحب کے ساتھ رہے۔اس لانگ مارچ میں بوڑھوں ، جوانوں عورتوں اور شیر خوار بچوں کی شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ ان کو اپنے پیارے وطن پاکستان سے کتنی محبت ہے اور پاکستانی قوم کو درپیش مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ یہ جذبہ زندہ قوم ہونے کا نشان ہے۔ لیکن جس انداز سے قادری صاحب نے اپنے پیروکارووں کے جذبات کا خون کیا ہے یقینی طور پر یہ حسینیت نہیں ہے ۔ اس لیے راقم کے خیال میں قادری صاحب نے حسینیت کا نام استعمال کرکے اپنے پیرووکاروں کے جذبات سے کھیلا اور اُن کو مجروح کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ حُسینیت کے نام کی لاج نہیں رکھ سکے۔ اس لیے طاہرالقادری صاحب کو یہ تمام ٹوپی ڈرامہ کرنے پر اپنے پیروکاروں سے دست بستہ معافی مانگنی چاہیے۔ امید ہے قادری صاحب کے چاہنے والے راقم سے ناراض نہیں ہوں گئے کیونکہ راقم خود بہت عرصہ منہاج القران اور پاکستان عوامی تحریک سے وابستہ رہا لیکن عوام کے دکھ اور اشرافیہ کے سُکھ کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ چین پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کررہا ہے اور امریکہ کو یہ ایک آنکھ نہیں بھاتی اِس لیے مصر ، شام ،عراق، لیبیاء اور افغانستان جیسے حالات پیدا کرنے کے لیے ایک کھیل شروع کیا گیا ہے ۔جاوید ہاشمی نے عمران خان کی دیانت شرافت، جمہوریت سے کمٹمنٹ کا جو بھانڈا پھوڑا ہے۔ اِس نے نوجوان نسل کی امیدوں کے چراغ گل کردئیے ہیں۔دن رات دیانت کا سبق دینے والا عمران خان پارلیمنٹ پر یلغار کرکے اور رقص وسرود کی محفلیں بپا کرکے کو نسا نیا پاکستان بنارہا ہے۔نواز حکومت کو چاہیے کہ غربت کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے انقلابی کام کرئے۔ ورنہ یہ سب کچھ جو ابھی ہوا ہے اِس سے حکمران طبقے کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔مسائل بہت زیادہ ہیں . عمران خان نے نہ تو عدلیہ کو بخشا ہے اوراسی طرح امپائر کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا ہے۔اور پاکستانی فوج جو کہ اس وقت جنگ میں مصروف ہے اُس کو اپنے وزیراعظم بننے کی خواہش پوری کرنے کے لیے بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔

No comments:

Post a Comment