Tuesday, 18 February 2025

معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ماں بولی میں خو بصورت کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں Ali Ahmad Kiyani AdvocateBook of Poetry

 معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ماں بولی میں خو بصورت کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں 


صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

 معروف قانون دان اور شاعر، علی احمد کیانی کی ساتویں کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آگئی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے ادبی دنیا میں جوش و خروش عروج پر ہے۔ ''صحرا صحرا رلیاں اکھیں '' کے عنوان سے یہ غزلیہ مجموعہ پہاڑی ادب میں ایک اہم اور خوب صورت اضافہ ہے۔ علی احمد کیانی، جو ادبی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت ہیں، نے اردو اور پہاڑی دونوں زبانوں کی ترویج اور ترقی میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے متاثر کن شعری مجموعوں اور نثری نگارشات میں اردو کی تین کتابیں  ''آنچل کی ہوا دو'' ''محبت لازمی کرنا '' اور ''آقا تیری گلی میں '' شامل ہیں۔ جبکہ پہاڑی میں، انہوں نے چار کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں ''پیار نے دیوے بال ''، جو محبت اور رشتوں کی خوبصورت تصویر ہے۔ ''پھل تہ کلیاں '' جو فطرت کی خوبصورتی کی عکاس ہے اور ''رنگ پرنگے تہاگے '' جو طنز و مزاح سے بھرپور ہے، قابل ذکر ہیں اور اب، ''صحرا صحرا رلیاں اکھیں '' ایک شاہکار شعری مجموعہ ہے  جو ان کی منفرد اور معیاری شاعری کا ایک حسین گلدستہ ہے جس کی تازہ مہک قارئین کو مسحور کرے گی۔ایک خوبصورت پہاڑی زبان میں لکھی گئی شاعری کی کتاب کو دیکھتے ہوئے، یہ احساس ہوتا ہے کہ ماں بولی میں کی گئی شاعری اپنی ایک الگ تاثیر رکھتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف زبانوں کے عظیم شعراء اور ماہرین نے  اپنے خیالات کا اظہا رخوبصور  ت انداز میں کیا ہے۔


پنجابی کے عظیم شعراء  اکرام،بلھے شاہ ؒ کے مطابق،''جیڑا اپنے گھر نوں وساری، اوہو جگ نوں کی وساوے۔'' (جو اپنی ماں بولی کو چھوڑ دے، وہ دنیا میں کہیں نہیں ٹھہر سکتا۔)اِسی طرح حضرت بابا وارث شاہ ؒ  کہتے ہیں ''جے عشق سچا ہووے، تے ہر زبان اچ سچ بولدا اے۔'' (اگر محبت حقیقی ہو تو ماں بولی میں کی گئی شاعری دل میں اتر جاتی ہے۔)

 عظیم روحانی شخصیت حضرت بابا فریدؒ کا کہنا ہے کہ ''بولیئے نیکا، جھک جھک بولیئے۔'' (ماں بولی میں الفاظ نرم ہوں تو اثر زیادہ ہوتا ہے۔) عظیم  پشتو شاعرخوشحال خان خٹکؒ کے خیال میں ''زبان دا راز اے، عشق دے ساز اے۔''(ماں بولی کا حسن اس میں چھپے جذبات سے ظاہر ہوتا ہے۔پنجاب بی عظیم صوفی شاعر جناب میاں محمد بخش ؒ کہتے ہیں کہ''ساہواں نوں کھلوتا رہن دے، پر ماں بولی نوں نہ بھلائیں۔''

(سانسیں چلتی رہیں یا نہ رہیں، مگر ماں بولی کو کبھی نہ چھوڑو۔

عربی زبان کے پا عظیم شعراء  اکرام  جن میں امرو القیس شامل ہیں  وہ کہتے ہیں  کہ''الشعر لسان القلب، فإن نطق بغیر لغتہ خسر جمالہ.'' (شاعری دل کی زبان ہے، اگر وہ اپنی اصل زبان میں نہ ہو تو اپنی خوبصورتی کھو دیتی ہے۔ جبکہ متنبی کہتے ہیں ''اللغۃ روح الأمۃ، وإن فقدت فقدت الأمۃ نفسہا.''(زبان قوم کی روح ہوتی ہے، اگر یہ ختم ہو جائے تو قوم خود کو کھو دیتی ہے۔احمد شوقیکے مطابق ''فی لغتنا کنوز لا یعرفہا إلا العاشقون.''(ہماری ماں بولی میں ایسے خزانے چھپے ہیں جنہیں صرف عشق کرنے والے جانتے ہیں۔ابو تمام کے مطابق ''الشعر ماء الحیاۃ، واللغۃ کأسہ.''(شاعری زندگی کا پانی ہے اور زبان اس کا جام ہے۔البحتری کے مطابق ''ما أجمل أن تغنی القوافی بلغۃ الأرض التی نشأت فیہا.'' (کتنا حسین ہے جب شعر اپنے ہی دیس کی زبان میں گایا جائے۔)

اِسی طرح فارسی زبان کے عظیم شعراء جن میں مولانا جلال الدین رومیشامل ہیں کہ مطابق ''ہر زبانی کہ از دل برخیزد، بر دل نشیند.''(جو زبان دل سے نکلتی ہے، وہی دل میں اترتی ہے۔)شیخ سعدی کے خیال میں 

''گفتار شیرین چون شہد، زبان مادری گوہر است.''(میٹھی زبان شہد کی مانند ہے اور ماں بولی ایک قیمتی گوہر ہے۔)حافظ شیرازی کہتے ہیں ''زبان مادر را رہا مکن کہ عشق در آن خانہ دارد.''(ماں بولی کو مت چھوڑو، اس میں محبت بسی ہوتی ہے۔)۔عمر خیام کہتے ہیں ''بہ زبان خود شعر گفتن، نزدیکترین راہ بہ حقیقت است.''اپنی زبان میں شاعری کرنا حقیقت کے قریب ترین راستہ ہے۔فردوسی کے مطابق''آن کہ زبان مادری را پاس ندارد، گویی خود را فراموش کردہ است.''(جو اپنی ماں بولی کی حفاظت نہ کرے، گویا وہ خود کو بھول چکا ہے۔

روسی زبان کے ماہریالیگزینڈر پوشکن کا کہنا ہے ''ماں بولی میں لکھی گئی شاعری دل کا آئینہ ہوتی ہے۔  لیو ٹالسٹائیکہتے ہیں 'اگر کسی قوم کو سمجھنا ہو تو اس کی شاعری کو پڑھو۔' اسِی طرحفیودور دستوئیفسکیکہتے ہیں کہ''شاعری زبان کو نہیں، جذبات کو بولتی ہے۔''انگلش زبان کے ماہر  ولیم شیکسپیئر کے مطابق ''الفاظ کی اصل طاقت ان کی ماں بولی میں پوشیدہ ہے۔'' اِسی طر ح  جان ملٹن  کہتا ہے کہ ''جو زبان تمہاری روح کو سکون دے، وہی اصل زبان ہے۔''اور رابرٹ فراسٹ کے مطابق ''میری بہترین شاعری میری ماں بولی میں ہے۔   ٹی ایس ایلیٹ کہتے ہیں: زبان صرف ذریعہ نہیں، بلکہ تخلیق کا جزو ہے۔

 شیلے کے مطابق: شاعری جب ماں بولی میں ہوتی ہے، تو خواب حقیقت بن جاتے ہیں۔فرانسیسی زبان کے ماہرین  وکتور ہیوگو کے مطابق: ماں بولی میں شاعری دل کی صدا ہے۔ چارلس بودلیئر کہتے ہیں: جو الفاظ دل سے نکلیں، وہی زبان کو امر کر دیتے ہیں۔ہسپانوی زبان کے ماہرین:ابن خلدون کے مطابق: زبان اور شاعری قوم کی پہچان ہیں۔ جبران خلیل جبران کہتے ہیں: جو بات ماں بولی میں کہی جائے، وہ سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ فرید الدین عطار کے مطابق: زبان کا حسن شاعری میں پنہاں ہے۔ ابوالعلاء معری کہتے ہیں: شاعری وہی سچی ہوتی ہے جو اپنی اصل زبان میں ہو۔


دکھ تے غم وچ کھلیاں اکھیں 

رونا   کد  یو   پہلیاں  اکھیں 


کن  سا   اتھرو   کہسنے  والا 

اج وی راتیں  ڈھلیاں اکھیں 


ہک پاسے دی  ساری  دنیاں 

ہک  پاسے یو  کہلیاں  اکھیں 


ہک  لیلیٰ نے عشقے  وچ  یو 

صحرا  صحرا   رلیاں   اکھیں 


یار  علی  نانہہ   اچھی   بسیا 

رہیاں کہلیاں  ملیاں  اکھیں 

علی احمد کیانی کی شاعری اور نثر ایک عرصے سے قارئین کے دلوں پر راج کرتی چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے ادب کے شائقین اور قارئین کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل کر رکھا ہے۔ ان کی خوب صورت اور فکر انگیز شاعری اعلی ادبی رویوں کی حامل ہے جو انہیں ادبی حلقوں میں ایک محبوب شخصیت بناتی ہے۔پہاڑی زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کو ”صحرا صحرا رلیاں اکھیں“ کی اشاعت کا  بے صبری سے انتظار تھا۔ پہاڑی ادبی حلقے علی احمد کیانی سے ایک اور ادبی شاہکار کی توقع کر رہے تھے، جو اب صحرا صحرا رلیاں اکھیں کے روپ میں سامنے آیا۔امید واثق ہے کہ اس تازہ ترین کتاب سے پہاڑی زبان و ادب میں علی احمد کیانی ایک سرکردہ ادبی شخصیت کے  طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ادب میں علی احمد کیانی کی شراکت کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے، اور انہیں اپنے کام کے لیے متعدد تعریفی اسناد اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔علی احمد کیانی ایڈووکیٹ کی پہاڑی زبان میں لکھی جانے والی کتب انڈس کلچرل فورم کے زیراہتمام منعقدہ مادری زبانوں کے ادبی میلے میں ہر باقاعدگی سے شامل کی جاتی ہیں جو بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔پہاڑی و ادب کے فروغ کے لیے ان کی لگن نے ادیبوں اور شاعروں کی نئی نسل کو متاثر کیا ہے، اور اس کا اثر بہت سے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کے ادبی کے کام میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ علی احمد کیانی بنیادی طور پر عزل کے شاعر ہیں۔ وہ غزل کی ایک مضبوط روایت کو لے کر چل رہے ہیں۔ وہ اردو کے ساتھ پہاڑی زبان میں بھی غزل لکھ رہے ہیں۔ ان کی نئی کتاب صحرا صحرا رلیاں اکھیں دراصل پہاڑی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب یقینی طور پر غزل کے قارئین کو متاثر کرے گی اور دیرپا تاثر چھوڑے گی۔ ادبی حلقوں کی جانب سے اس مجموعہ کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔






No comments:

Post a Comment