اللہ پاک کا اِس کے بندے سے تعلق:
اشرف عاصمی کی قلم سے
جب جب گزرے ہوئے لمحات کی تصاویر دماغ کے نہال خانے میں رقصاں ہوتی ہیں تب تب زندگی کی ترتیب اور خالق کی مخلوق کے ساتھ تعلق کی ایک ایسی تدبیر واضح دیکھائی دینا لگتی ہے کہ ماضی کی بے تر تیب حال کی ترتیب بن کر سامنے آ چکی ہوتی ہیں۔ میرے خالق کو اپنے بندے کی ایک ایک ضرورت کا ایسا ادراک ہے کہ بندے کو اپنی جس طلب کا خود احساس نہیں ہوتا خالق وہ ضرورت بھی ایسے پوری کرتا ہے کہ جیسے ماں اپنے نومولود بچے کی ہر ہر ضرورت کا ادراک رکھتی ہے۔ ماں کو تو پھر بھی طلب و رسد کی چکی میں پسنا ہوتا ہے لیکن میرا خالق تو ہر شے سے ماورا ہے اس کے ہاں تو نہ کسی شے کی کمی ہے اور نہ ہی اس نے عطا کرنے کے لیے اسباب کو دیکھنا ہوتا ہے وہ تو اسباب کا خالق و مالک ہے۔ بندے کا کامل یقین اسے اپنے خالق کے ہاں اس طرح مقبول بنادیتا ہے کہ خالق بندے کے یقین کو اس کے ایمان کی طرح محکم کرکے ہونے یانہ ہونے کے نشیب و فراز سے آزاد کردیتا ہے اور بندے کا تیقن اسے قناعت کی ایسی دولت سے مالا و مال کردیا ہے کہ اسے دنیاوی ضروریات ہیچ دیکھائی دیتی ہیں۔بندہ اپنے رب کی ربوبیت پر اس یقین کے ساتھ ایمان لا چکا ہوتا ہے کہ جیسے اس کے اپنے وجود کے ہونے کی وجہ صرف اس کا رب ہی تو ہے۔

No comments:
Post a Comment